| عنوان: | امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: دہم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
“...کر سکے۔ چنانچہ (مسیحی عقیدے کے مطابق) خدا نے اپنے "اکلوتے بیٹے" مسیح کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ انسانیت کے ان گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیں اور صلیب پر اپنی جان دے کر پوری انسانیت کو اس "آبائی گناہ" (Original Sin) سے نجات دلائیں۔ یہ عقیدہ مسیحیت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جسے "فدیہ" یا "کفارہ" (Atonement) کہا جاتا ہے۔”
حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے بائبل کے بیانات کی روشنی میں اس عقیدے کی سخت تردید فرمائی ہے۔ آپ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اسلام میں "کفارے" کا یہ تصور سرے سے باطل ہے، کیونکہ:
- اول: ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ کسی پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ قرآنِ کریم کا واضح اعلان ہے: "اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔" (سورۃ الانعام: 164)۔
- دوم: گناہوں کی معافی کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ رحمانیت و غفاریت سے بندوں کے گناہ بلا کسی کفارے کے معاف فرما دیتا ہے۔
- سوم: ایک جلیل القدر پیغمبر کو صلیب پر چڑھا کر ان کے خون کو گناہوں کی معافی کا ذریعہ قرار دینا، نہ صرف نبوت کی شان کے منافی ہے بلکہ توحید کے تصور کو بھی مجروح کرتا ہے۔
(7) بائبل میں توحید اور شانِ الوہیت کے خلاف الفاظ
محدثِ بریلوی نے بائبل کے اندر ان مقامات کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں خدا کی طرف انسانی اوصاف منسوب کیے گئے ہیں، جو کہ شانِ الوہیت کے سراسر منافی ہیں۔ بائبل میں کہیں خدا کو "پچھتاتے ہوئے"، کہیں "تھکتے ہوئے"، اور کہیں "کسی چیز سے لاعلم" دکھایا گیا ہے۔ اس طرح کی تحریفات بائبل کے اس دعوے کو کمزور کرتی ہیں کہ یہ کتاب اپنے اصل نزولی الفاظ کے ساتھ محفوظ ہے۔
یہ تمام امور—چاہے وہ انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب غلط واقعات ہوں، یا مسیح علیہ السلام کے تقدس کے خلاف بیانات، یا پھر عقیدہ کفارہ کا غیر منطقی تصور—یہ سب بائبل کے تنقیدی مطالعے میں ایک ایسے زاویے کو اجاگر کرتے ہیں جہاں امام احمد رضا بریلوی کا علمی تبحر اور ان کی غیرتِ ایمانی پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔ آپ نے انتہائی شائستہ مگر مدلل انداز میں ان عقائد کی قلعی کھولی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ "تقابلِ ادیان" کا میدان دراصل اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب ہم دلائل کے ساتھ حق کو واضح کر سکیں۔
