| عنوان: | امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: بارہویں) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مذکورہ بالا اقتباسات میں کتابِ حزقیال کا بیان، جو کہ عہدِ قدیم کا ایک اہم حصہ ہے، مسیحیوں کے مروجہ "عقیدۂ کفارہ" (Atonement) کی جڑیں ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بائبل ہی کے ان بیانات کو بطورِ دلیل پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ "موروثی گناہ" اور "کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ اٹھانا" انبیائے کرام کی تعلیمات کے یکسر منافی ہے۔
امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے علمی استدلال کے مطابق، اس بحث کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:
- انفرادی ذمہ داری کا اصول: حزقیال 18:20 کا واضح اعلان ہے کہ "بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔" یہ اصول اسلامی شریعت کے اس ضابطے سے مکمل مطابقت رکھتا ہے کہ "کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔"
- خدا کے بیٹوں کا استعاراتی استعمال: بائبل کے مختلف مقامات پر (جیسے اسرائیل، داؤد علیہ السلام، اور یہاں تک کہ عام ایمانداروں کے لیے) "خدا کا بیٹا" یا "خدا کے بیٹے" کے الفاظ کا استعمال، اس بات کا ثبوت ہے کہ مسیح علیہ السلام کے لیے اس لفظ کو ان کی الوہیت یا "فرزندِ الٰہی" ہونے کی دلیل بنانا لغوی اور سیاق و سباق کے اعتبار سے غلط ہے۔ اگر یہ لفظ حقیقی ولدیت پر محمول ہو، تو بائبل میں مذکور سینکڑوں افراد "خدا کے بیٹے" ٹھہریں گے، جو مسیحی عقیدے کے خود ساختہ معیار کو ختم کر دیتا ہے۔
- عقیدۂ کفارہ کا بطلان: حزقیال 18 کی تفصیلی آیات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ نجات کا انحصار اعمالِ صالحہ، عدل و انصاف، اور احکامِ الٰہی کی پیروی پر ہے، نہ کہ کسی کے خون کے کفارے پر۔ جو شخص گناہ کرے گا وہی سزا پائے گا، اور جو نیک عمل کرے گا وہ یقیناً زندہ رہے گا۔
نتیجۂ بحث
بارہویں قسط کے اس علمی جائزے سے یہ ثابت ہوا کہ مسیحیت کے اہم ستون—یعنی عقیدۂ کفارہ—کا بائبل کے ہی ایک بڑے حصے (عہدِ قدیم) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا فرضی تصور ہے جسے بعد کے ادوار میں شامل کیا گیا، جبکہ انبیاءِ بنی اسرائیل کی تعلیمات ہمیشہ توحید، انفرادی احتساب، اور توبہ و استغفار پر مبنی تھیں۔ امام احمد رضا کی یہ تحقیق تقابلِ ادیان کے طالب علموں کے لیے بائبل کے تنقیدی مطالعے کا ایک روشن باب ہے۔
