Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: ہشتم)

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: ہشتم)
عنوان: امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: ہشتم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

“...اور اوریاہ بادشاہ کے محل سے نکلا اور بادشاہ کی طرف سے اُس کے پیچھے پیچھے ایک خوان بھیجا گیا۔ پر اوریاہ بادشاہ کے گھر کے آستانہ پر اپنے مالک کے اور سب خادموں کے ساتھ سو رہا اور اپنے گھر نہ گیا۔ اور جب انھوں نے داؤد کو یہ بتایا کہ اوریاہ اپنے گھر نہیں گیا تو داؤد نے اوریاہ سے کہا کیا تُو سفر سے نہیں آیا؟ پس تُو اپنے گھر کیوں نہ گیا؟ اور اوریاہ نے داؤد سے کہا کہ صندوق اور اسرائیل اور یہوداہ جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور میرا مالک یوآب اور میرے مالک کے خادم کھلے میدان میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں تو کیا میں اپنے گھر جاؤں اور کھاؤں پیوں اور اپنی بیوی کے ساتھ سوؤں؟ تیری حیات اور تیری جان کی قسم مجھ سے یہ بات نہ ہوگی۔ پھر داؤد نے اوریاہ سے کہا کہ آج بھی تُو یہیں رہ جا۔ کل میں تجھے روانہ کروں گا۔ سو اوریاہ اُس دن اور دوسرے دن بھی یروشلم میں رہا۔ اور جب داؤد نے اُسے بلایا تو اُس نے اُس کے حضور کھایا پیا اور اُس نے اُسے پلا کر متوالا کیا اور شام کو وہ باہر جا کر اپنے مالک کے اور خادموں کے ساتھ اپنے بستر پر سو رہا پر اپنے گھر نہ گیا۔ صبح کو داؤد نے یوآب کے لیے ایک خط لکھا اور اُسے اوریاہ کے ہاتھ بھیجا۔ اور اُس نے خط میں یہ لکھا کہ اوریاہ کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اُس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے اور جان بحق ہو۔ اور یوں ہوا کہ جب یوآب نے اُس شہر کا ملاحظہ کر لیا تو اُس نے اوریاہ کو ایسی جگہ رکھا جہاں وہ جانتا تھا کہ بہادر مَرد ہیں۔ اور اُس شہر کے لوگ نکلے اور یوآب سے لڑے اور وہاں داؤد کے خادموں میں سے تھوڑے سے لوگ کام آئے اور ہتی اوریاہ بھی مر گیا۔ تب یوآب نے آدمی بھیج کر جنگ کا سب حال داؤد کو بتایا۔ اور اُس نے قاصد کو تاکید کر دی کہ جب تُو بادشاہ سے جنگ کا سب حال عرض کر چکے۔ تب اگر ایسا ہو کہ بادشاہ کو غصہ آ جائے اور وہ تجھ سے کہنے لگے کہ تم لڑنے کو شہر کے ایسے نزدیک کیوں چلے گئے؟ کیا تم نہیں جانتے تھے کہ وہ دیوار پر سے تیر ماریں گے؟ یربّست کے بیٹے ابیملک کو کس نے مارا؟ کیا ایک عورت نے چکی کا پاٹ دیوار پر سے اُس کے اوپر ایسا نہیں پھینکا کہ وہ تیبص میں مر گیا؟ سو تم شہر کی دیوار کے نزدیک کیوں گئے؟ تو پھر تُو کہنا کہ تیرا خادم ہتی اوریاہ بھی مر گیا ہے۔ سو وہ قاصد چلا اور آ کر جس کام کے لیے یوآب نے اسے بھیجا تھا وہ سب داؤد کو بتایا۔ اور اُس قاصد نے داؤد سے کہا کہ وہ لوگ ہم پر غالب ہوئے اور نکل کر میدان میں ہمارے پاس آئے۔ پھر ہم اُن کو رگیدتے ہوئے پھاٹک کے مدخل تک چلے گئے۔ تب تیر اندازوں نے دیوار پر سے تیرے خادموں پر تیر چھوڑے۔ سو بادشاہ کے تھوڑے سے خادم بھی مر گئے اور تیرا خادم ہتی اوریاہ بھی مر گیا۔ تب داؤد نے قاصد سے کہا کہ تُو یوآب سے یوں کہنا کہ تجھے اس بات سے ناخوشی نہ ہو اس لیے کہ تلوار عیسا ایک کو اڑاتی ہے ویسا ہی دوسرے کو۔ سو تُو شہر سے اور سخت جنگ کر کے اُسے ڈھا دے اور تُو اُسے دُم دِلا۔ سو چنانچہ جب اوریاہ کی بیوی نے سنا کہ اس کا شوہر اوریاہ مر گیا تو وہ اپنے شوہر کے لیے ماتم کرنے لگی۔ اور جب سوگ کے دن گزر گئے تو داؤد نے اُسے بلوا کر اُس کو اپنے محل میں رکھ لیا اور وہ اس کی بیوی ہو گئی اور اس سے اُس کے ایک لڑکا ہوا پر اس کام سے جسے داؤد کیا تھا خداوند ناراض ہوا۔” [سموئیل دوم: 11/6-27]

مقدس داؤد کی جو سیرت نگاری بائبل نے کی ہے اُس سے صرف خدا ہی نہیں، بلکہ انسانیت، شرافت، حب الوطنی اور قوم پرستی جیسے سبھی الفاظ بھی ناراض ہوئے ہیں۔ اس پیراگراف میں داؤد پر نہ صرف بدکاری کا الزام ہے بلکہ خدا کی فوج اور اس کی ریاست سے غداری کا بھی الزام ہے۔ وہ جوان جو ملک و قوم کی حفاظت کے جذبے سے اس قدر سرشار ہو کہ اپنے محلے میں اور اپنے گھر کے قریب پہنچ کر بھی گھر نہیں جاتا اور دشمنوں کے سامنے والے دوسرے فوجیوں کا تصور لیے اپنے گھر کے سامنے والے میدان میں دو راتیں گزار دیتا ہے اور یہی نہیں بلکہ شراب میں متوالا ہونے کے باوجود اس کے دل و دماغ سے ملک و ملت کی محبت کا نشہ نہیں اترتا ہے اور وہ اس حال میں بھی گھر نہیں جاتا ہے۔ ایسے جاں نثار اور محب وطن فوجی کے قتل کی سازش اور وہ بھی دشمن فوجیوں کے ہاتھوں بہت زیادہ قابلِ مذمت چیز ہے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہتی بہادر فوجی جوانوں کی زندگی کے چراغ کو دشمن فوجیوں کے ذریعے گل کروانا اتنا سخت جرم ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسے حکمران کو پھانسی سے کم سزا دینے کے لیے تیار نہ ہوگا۔

(4) بائبل میں ناشائستہ جملے اور الفاظ کا استعمال

انگریزی زبان ہی نہیں بلکہ ہر مہذب قوم کی زبان اُن چیزوں کا خیال رکھتی ہے۔ لیکن بائبل کا نقطہ نظر اور طریقہ کار بہت زیادہ تعجب خیز ہے۔ بائبل کے جملوں کی ساخت بھی کبھی فحش اور گستاخانہ زبان کا احساس دلا دیتی ہے۔ ناشائستہ اور فحش الفاظ و جملے بائبل کی ایک زندہ حقیقت ہیں، جس سے انکار کی مجال نہیں۔ محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی بائبل کی بعض کتابوں کے حوالے کی تعیین کے ساتھ اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

“اور خداوند کا کلام مجھ پر نازل ہوا کہ اے آدم زاد! دو عورتیں ایک ہی ماں کی بیٹیاں تھیں۔ انھوں نے مصر میں بدکاری کی۔ وہ اپنی جوانی میں بدکار تھیں۔ وہاں ان کی چھاتیاں ملی گئیں اور وہیں اُن کے دوشیزگی کے پستان مسلے گئے۔ اُن میں سے بڑی کا نام آھولہ اور اُس کی بہن کا آھولیہ تھا... وہ اپنے یاروں یعنی اشوریوں پر جو ہم سایہ تھے عاشق ہوئی۔ وہ سردار اور حاکم اور سب کے سب دل پسند جوان مرد اور سوار تھے جو گھوڑوں پر سوار ہوتے اور ارغوانی پوشاک پہنتے تھے۔ اور اُس نے اُن سب کے ساتھ جو اُن کے برگزیدہ بدکار تھے، بدکاری کر لی تھی... اُس نے جو بدکاری مصر میں کی تھی اُسے ترک نہ کیا، کیوں کہ اُس کی جوانی میں وہ اُس سے ہم آغوش ہوئے اور انھوں نے اُس کی دوشیزگی کے پستانوں کو مسلا اور اپنی بدکاری اُس پر انڈیل دی... اور اُس نے اُن کے یاروں پر عشق کیا جن کا گوشت گدھوں کے گوشت کی مانند ہے اور جن کا مادہ گھوڑوں کے مادے کی مانند ہے۔” [حزقیال: 23/1-24]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!