Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: ہفتم)

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: ہفتم)
عنوان: امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: ہفتم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

“...کہ تیری یہ بات بُری نہ لگے کیوں کہ تلوار تو اس کو بھی کھا جاتی ہے اور اُس کو بھی؛ تُو اُس شہر کے خلاف اپنی لڑائی کو اور زور سے لڑ اور اسے ڈھادے اور تو اُسے تسلی دے۔ اور جب اوریاہ کی بیوی نے سنا کہ میرا شوہر اوریاہ مر گیا ہے تو اُس نے اپنے شوہر کا ماتم کیا اور جب ماتم کے دن گزر گئے تو داؤد نے اسے بلوا کر اپنے محل میں لا رکھا اور وہ اس کی بیوی بنی اور اس کے ایک بیٹا پیدا ہوا لیکن یہ کام جو داؤد نے کیا تھا خداوند کی نظر میں بُرا تھا۔” [سموئیل دوم: 11/6-27، بائبل سوسائٹی ہند، 2008ء]

بائبل کے اس اقتباس میں جس طرح کے الزامات ایک برگزیدہ پیغمبر پر لگائے گئے ہیں، وہ نہ صرف اسلامی عقائد کے منافی ہیں بلکہ کسی بھی مہذب معاشرے کے معیارِ اخلاق سے کوسوں دور ہیں۔ یہ تاریخی واقعات جس انداز میں پیش کیے گئے ہیں، وہ بائبل کی تنقیدی حیثیت اور اس کی تحریری صداقت پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔

(4) بائبل میں ناشائستہ زبان و الفاظ کا استعمال

محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ نے بائبل کے اندر موجود غیر مہذب اور نامناسب الفاظ و جملوں کی جانب بھی نشاندہی کی ہے۔ بائبل کے مختلف مقامات پر ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جو انبیاء کی شان کے تو دور، کسی بھی عام شریف انسان کی زبان سے ادا ہونے کے لائق نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر، بعض مقامات پر انسانی اعضاء اور ان کے افعال کو انتہائی فحش انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس سے بائبل کا تقدس مجروح ہوتا ہے۔ یہ صرف زبان کا فرق نہیں، بلکہ سوچ اور اسلوبِ نگارش کا وہ انداز ہے جو بائبل کے تقدس کو ایک سنگین بحران سے دوچار کرتا ہے۔

اسی طرح، کچھ مقامات پر خدا کی طرف ایسے صفاتی نام یا افعال منسوب کیے گئے ہیں جو شانِ الوہیت کے بالکل منافی ہیں۔ ان الفاظ کا انتخاب بائبل کے اس دعوے کو کمزور کرتا ہے کہ یہ کلامِ الٰہی ہے۔ محدثِ بریلوی نے اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح ایک "مقدس کتاب" اپنے اندر ایسے الفاظ اور واقعات کو جگہ دے سکتی ہے جو اخلاقیات کے تمام دائروں کو توڑتے نظر آتے ہیں۔

(5) مسیحیوں کا اپنے ہی خدا پر (نعوذ باللہ) لعنت بھیجنا

محدثِ بریلوی نے اس مقام کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جہاں بائبل کے مطابق مسیح علیہ السلام کو لعنتی قرار دیا گیا ہے۔ بائبل میں لکھا ہے:

“Christ hath redeemed us from the curse of the law, being made a curse for us: for it is written, Cursed is every one that hangeth on a tree:” [Galatians: 3/13, KJV]

“مسیح نے ہمیں شریعت کی لعنت سے مول لے کر آزاد کیا، اس لیے کہ وہ ہمارے لیے لعنتی بنا کیوں کہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا جاتا ہے وہ لعنتی ہے۔” [گلتیوں: 3/13، بائبل سوسائٹی ہند، 2009ء]

یہ عقیدہ کہ مسیح علیہ السلام خود لعنتی بن گئے، اسلامی نظریہ کے بالکل برعکس ہے۔ اسلام میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے جلیل القدر نبی اور روح اللہ ہیں، جن کی شان میں کسی بھی قسم کی توہین یا لعنت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بائبل کے ان بنیادی عقائد کا نتیجہ ہے جو تقابلِ ادیان کے محققین کے لیے بحث اور تحقیق کا ایک اہم موضوع ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!