Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: نہم)

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: نہم)
عنوان: امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: نہم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

“...نئے بدکاری میں ترقی کی، کیوں کہ جب اُس نے دیوار پر مردوں کی صورتیں دیکھی، جنہیں کلدانیوں کے طور پر شنگرف سے کھینچی ہوئی تھیں۔ جو بچوں کے سرتہ اور سروں پر رنگین پگڑیاں پہنے تھے اور سب کے سب دیکھنے میں امر اہلِ بابل کے مانند تھے، جن کا وطن کسدستان ہے؛ تو دیکھتے ہی وہ اُن پر مرنے لگی اور اُن کے پاس کسدستان میں قاصد بھیجے؛ پس اہلِ بابل اُس کے پاس آکر عشق کے بستر پر چڑھے اور اُنہوں نے اُسے بدکاری کرکے آلودہ کیا اور وہ اُن سے تارک ہوئی تو اُس کی جان اُن سے بیزار ہو گئی، تب اُس کی بدکاری علانیہ ہوئی اور اُس کی برہنگی بے ستر ہو گئی۔ تب میری جان اُس سے بے زار ہوئی جیسی اُس کی بہن سے بے زار ہو چکی تھی۔ تو وہ بھی اُس نے اپنی جوانی کے دنوں کو یاد کر کے، جب وہ مصر کی سرزمین میں بدکاری کرتی تھی، بدکاری پر بدکاری کی، نہ سو وہ پھر اپنے اُن یاروں پر مرنے لگی، جن کا بدن گدھوں کا سا بدن اور اُن کے انزال گھوڑوں کا سا انزال تھا۔ اِس لئے اے اہولیو! خداوند یوں فرماتا ہے کہ: اُٹھاؤں گا کہ تجھ سے مخالفت کریں اور اُن کو بلا لاؤں گا کہ تجھے چاروں طرف سے گھیر لیں، اہلِ بابل اور سب کسدیوں کو، فِقُود اور شوع اور قُوع اُن کے ساتھ تمام اسوریوں کو۔ سب کے سب دل پسند جوان، مردوں کے سرداروں اور حاکموں کو، اور سب کے سب گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، تجھ پر پہنچیں گے... میں عدالت اُن کو سپرد کروں گا اور وہ اپنے آئین کے مطابق تیرا فیصلہ کریں گے۔ اور انہیں اپنی غیرت کو تیری مخالفت بناؤں گا اور وہ غضب ناک ہو کر تجھ سے پیش آئیں گے اور تیری ناک اور تیرے کان کاٹ ڈالیں گے اور تیرے باقی لوگ تلوار سے مارے جائیں گے۔” [حزقیال: 23/14-25]

خداوند نے اہولیو اور سامریہ کے رہنے والوں کی نافرمانی میں بطورِ مثال بابل کے اِس اقتباس کو پیش کیا ہے۔ نعمت و احسان اور اُس کے بدلے میں ملنے والی ناشکری کے درد کو بیان کرنے کے لیے اُنہوں نے اِن جملوں اور اِس تمثیل کا استعمال کیا ہے۔ یہ بات تو زبان کے ماہرین اور معمولی فہم رکھنے والے افراد بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اِن جملوں اور اس تمثیل سے بچا جا سکتا تھا بلکہ بچنا ہی چاہیے تھا کہ شرفاء اس طرح کی زبان ہرگز استعمال نہیں کرتے ہیں۔ ہندوستان وغیرہ ایشیائی ملکوں میں اسے کس قدر غیر مہذب اور نامناسب زبان مانا جاتا ہے، اور اس معیار کی زبان کو کیا کہا جا سکتا ہے اس کا بہتر فیصلہ شاید ماہرینِ زبان ہی کر سکتے ہیں۔

بائبل میں ایسے پیراگراف بھی ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر ایک غیرت مند اور شریف انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی کلامِ الٰہی اس طرح کے جملوں پر مشتمل ہو سکتا ہے؟ ملاحظہ فرمائیں:

“How beautiful are thy feet with shoes, O prince's daughter! the joints of thy thighs are like jewels, the work of the hands of a cunning workman. Thy navel is like a round goblet, which wanteth not liquor: thy belly is like an heap of wheat set about with lilies. Thy two breasts are like two young roes that are twins. Thy neck is as a tower of ivory; thine eyes like the fishpools in Heshbon, by the gate of Bathrabbim: thy nose is as the tower of Lebanon which looketh toward Damascus. Thine head upon thee is like Carmel, and the hair of thine head like purple; the king is held in the galleries. How fair and how pleasant art thou, O love, for delights! This thy stature is like to a palm tree, and thy breasts to clusters of grapes. I said, I will go up to the palm tree, I will take hold of the boughs thereof: now also thy breasts shall be as a cluster of grapes, and the smell of thy nose like apples.” [Song of Solomon: 7/1-8]

“اے شہزادی! جوتوں میں تیرے پاؤں کیسے خوبصورت ہیں! تیری رانوں کے جوڑ ایسے ہیں جیسے زیور، کسی ماہر کاریگر کے ہاتھ کا کام۔ تیری ناف ایک گول پیالے کی مانند ہے جس میں مے کی کمی نہیں؛ تیرا پیٹ گیہوں کا ڈھیر ہے جس کے چاروں طرف سنبل ہیں۔ تیرے دونوں پستان ہرنی کے دو جڑواں بچوں کی مانند ہیں۔ تیری گردن ہاتھی دانت کے برج کی طرح ہے؛ تیری آنکھیں حشبون کے تالابوں کی مانند ہیں، جو بت رِبّیم کے پھاٹک کے پاس ہیں؛ تیری ناک لبنان کے اس برج کی مانند ہے جو دمشق کی طرف دیکھتا ہے۔ تیرا سر تجھ پر کرمل پہاڑ جیسا ہے، اور تیرے سر کے بال ارغوانی رنگ کے ہیں؛ بادشاہ گیلریوں میں قید ہے۔ اے محبت! تو لذتوں کے لیے کتنی حسین اور کتنی دلکش ہے! تیرا یہ قد کھجور کے درخت کی مانند ہے، اور تیرے پستان انگور کے گچھوں کی طرح ہیں۔ میں نے کہا، میں کھجور کے درخت پر چڑھ کر اس کی ٹہنیوں کو پکڑ لوں گا: اب تیرے پستان انگور کے گچھے کی طرح ہوں گے، اور تیری ناک کی خوشبو سیبوں جیسی ہو گی۔” [گیتوں کا گیت: 7/1-8]

مذکورہ بالا اقتباس "گیتوں کا گیت" سے لیا گیا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں بائبل کے شارحین کے درمیان شدید اختلاف ہے؛ جہاں کچھ اسے ایک استعاراتی اور روحانی تعبیر قرار دیتے ہیں، وہیں زبان و بیان کا اسلوب، جس میں ایک عورت کے جسمانی اعضاء کی تفصیلات اور ان کا موازنہ شہوانی تشبیہات سے کیا گیا ہے، کسی بھی ذی شعور انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ محدثِ بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان مقامات کی نشاندہی کر کے یہ واضح کیا ہے کہ یہ زبان اور یہ اسلوب کسی بھی طور پر ایک ایسی کتاب کے شایانِ شان نہیں جسے "کلامِ الٰہی" کا درجہ دیا جاتا ہو۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!