Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: پنجم)

امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: پنجم)
عنوان: امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: پنجم)
تحریر: فیضان المصطفی قادری
پیش کش: عرشیہ بانو عطاریہ
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

دوم کے مطابق یاہو کے آدمیوں نے یورام کو مارنے کے بعد اس کا پیچھا کر کے ابلیعام کے قریب اُسے بھی مار ڈالا۔

  1. تواریخِ دوم کے مطابق اُس کو یاہو کے آدمیوں نے قتل کر کے خود دفن بھی کیا جب کہ سلاطین دوم کے مطابق اخزیاہ کے خادم اس کی لاش کو رتھ پر سوار کر کے یروشلم لے گئے۔

  2. اس کے دفن کی جگہ کے بارے میں بھی اختلاف ہے۔ سلاطین دوم کے مطابق اخزیاہ کے خادم اس کی لاش لے کر یروشلم گئے اور اسے داؤد کے شہر میں اس کے باپ دادا کے ساتھ دفن کیا۔ جب کہ تواریخِ دوم کے مطابق اُسے یاہو کے خادم یاہو کے پاس پکڑ کے لے گئے اور پھر قتل کر کے دفن کر دیا۔

اس طرح جب ہم بائبل کے صفحات کو دیکھتے ہیں تو اخزیاہ بن یہورام کی پوری کی پوری زندگی، پیدائش، حکومت اور موت یہ ساری چیزیں تناقض اور تعارض سے بھری ہوئی نظر آتی ہیں۔

ابی عتر اخی ملک کا بیٹا یا باپ؟؟

محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ نے بائبل کے اس کمال کو ذکر کیا ہے جس میں اس نے بیٹے کو باپ سے دو سو سال بڑا بنا دیا۔ اب بائبل کے اس چمتکار کو بھی ملاحظہ فرمائیں کہ کبھی وہ ایک شخص کو اس کا باپ بتاتی ہے تو دوسری جگہ اس کو اپنے ہی باپ کا باپ قرار دیتی ہے؛

“And one of the sons of Ahimelech the son of Ahitub, named Abiathar, escaped, and fled after David.” [1Samuel: 22/20, 23/6, 30/7, KJV]

“اور اخیطوب کے بیٹے اخیملک کے بیٹوں میں سے ایک جس کا نام ابی عتر تھا بچ نکلا اور داؤد کے پاس بھاگ گیا؛” [سموئیل اول: 22/20، 23/6، 30/7، بائبل سوسائٹی ہند، 2009ء]

اس اقتباس کی روشنی میں اخیملک کے بیٹے کا نام ابی عتر تھا، جب کہ آنے والے پیراگراف کا کچھ اور کہنا ہے:

“And David reigned over all Israel; and David executed judgment and justice... was over the host; and Jehoshaphat the son of Ahilud was recorder; And Zadok the son of Ahitub, and Ahimelech the son of Abiathar, were the priests; and Seraiah was the scribe;” [2Samuel: 8/15-17, 1Chronicles: 18/16, 24/6, KJV]

“اور داؤد نے کل اسرائیل پر سلطنت کی اور داؤد اپنی سب رعیت کے ساتھ عدل و انصاف کرتا تھا اور ضرویاہ کا بیٹا یوآب لشکر کا سردار تھا اور اخیلود کا بیٹا یہوسفط مورخ تھا: اور اخیطوب کا بیٹا صدوق اور ابی عتر کا بیٹا اخیملک کاہن تھے اور سرایاہ منشی تھا۔” [سموئیل دوم: 15/8-17، اور تواریخ اول: 24/21/18، بائبل سوسائٹی ہند، 2009ء]

اس کے مطابق ابی عتر اخیملک کا بیٹا نہیں بلکہ باپ ہے۔ ہندوستان کے دیہات میں کیے جانے والے جاہلانہ اور امرِ محال مذاق سے بھی زیادہ بڑی چیز بائبل میں حقیقت بن کر جلوہ گر نظر آتی ہے۔

(2) مسیح کے نسب میں تعارض

مسیح کے نسب میں اختلاف اور شدید ترین اختلاف بائبل کی ایک زندہ حقیقت ہے، جس سے مجالِ انکار نہیں ہے۔ محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ نے اس کی جانب بھی حوالے کے ساتھ اشارہ کیا ہے، جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے۔

انجیلِ متی میں مسیح علیہ السلام کا نسب نامہ اس طرح نقل کیا گیا ہے:

“The book of the generation of Jesus Christ, the son of David, the son of Abraham. Abraham begat Isaac; and Isaac begat Jacob; and Jacob begat Judas and his brethren; And Judas begat Phares and Zara of Thamar; and Phares begat Esrom; and Esrom begat Aram; And Aram begat Aminadab; and Aminadab begat Naasson; and Naasson begat Salmon; And Salmon begat Booz of Rachab; and Booz begat Obed of Ruth; and Obed begat Jesse; And Jesse begat David the king; and David the king begat Solomon of her that had been the wife of Urias; And Solomon begat Roboam; and Roboam begat Abia; and Abia begat Asa; And Asa begat Josaphat; and Josaphat begat Joram; and Joram begat Ozias; And Ozias begat Joatham; and Joatham begat Achaz; and Achaz begat Ezekias; And Ezekias begat Manasses; and Manasses begat Amon; and Amon begat Josias; And Josias begat Jechonias and his brethren, about the time they were carried away to Babylon: And after they were brought to Babylon, Jechonias begat Salathiel; and Salathiel begat Zorobabel; And Zorobabel begat Abiud; and Abiud begat Eliakim; and Eliakim begat Azor; And Azor begat Sadoc; and Sadoc begat Achim; and Achim begat Eliud; And Eliud begat Eleazar; and Eleazar begat Matthan; and Matthan begat Jacob; And Jacob begat Joseph the husband of Mary, of whom was born Jesus, who is called Christ.” [Matthew: 1/1-16, King James Version]

“یِسُوع مِسیح اِبنِ داؤد اِبنِ ابرہام کا نسب نامہ۔ ابرہام سے اِضحاق پیدا ہوا اور اِضحاق سے یعقُوب پیدا ہوا اور یعقُوب سے یہُوداہ اور اُس کے بھائی پیدا ہوئے۔ اور یہُوداہ سے فارص اور زارح تمر سے پیدا ہوئے۔ اور فارص سے حصرون پیدا ہوا اور حصرون سے رام پیدا ہوا۔ اور رام سے عمینداب پیدا ہوا اور عمینداب سے نحشون پیدا ہوا اور نحشون سے سلمون پیدا ہوا۔ اور سلمون سے بوعز راحب سے پیدا ہوا اور بوعز سے عوبید رُوت سے پیدا ہوا اور عوبید سے یسّی پیدا ہوا۔ اور یسّی سے داؤد بادشاہ پیدا ہوا۔ اور داؤد سے سُلیمان اُس عورت سے پیدا ہوا جو پہلے اُوریاہ کی بیوی تھی۔ اور سُلیمان سے رحبُعام پیدا ہوا اور رحبُعام سے ابیاہ پیدا ہوا اور ابیاہ سے آسّا پیدا ہوا اور آسّا سے یہوسفط پیدا ہوا اور یہوسفط سے یورام پیدا ہوا اور یورام سے عُزّیاہ پیدا ہوا اور عُزّیاہ سے یوتام پیدا ہوا اور یوتام سے آخز پیدا ہوا اور آخز سے حزقیاہ پیدا ہوا اور حزقیاہ سے منسّی پیدا ہوا اور منسّی سے امون پیدا ہوا اور امون سے یوسیاہ پیدا ہوا اور گرفتار ہو کر بابل جانے کے زمانہ میں یوسیاہ سے یکونیاہ اور اس کے بھائی پیدا ہوئے؛ اور گرفتار ہو کر بابل جانے کے بعد یکونیاہ سے سیالتی ایل پیدا ہوا اور سیالتی ایل سے زربابل پیدا ہوا اور زربابل سے ابیہود پیدا ہوا اور ابیہود سے الیاقیم پیدا ہوا اور الیاقیم سے عازور پیدا ہوا اور عازور سے صدوق پیدا ہوا اور صدوق سے اخیم پیدا ہوا اور اخیم سے الیود پیدا ہوا اور الیود سے الیعزر پیدا ہوا اور الیعزر سے متان پیدا ہوا اور متان سے یعقوب پیدا ہوا اور یعقوب سے یوسف پیدا ہوا۔ یہ اُس مریم کا شوہر تھا جس سے یِسُوع پیدا ہوا جو مِسیح کہلاتا ہے۔” [متی: 1/1-16، مطبوعہ بائبل سوسائٹی ہند، 2009ء]

اور انجیلِ لوقا میں مسیح علیہ السلام کا شجرۂ نسب ان الفاظ میں ذکر کیا گیا ہے:

The genealogy of Jesus

“And Jesus himself began to be about thirty years of age, being (as was supposed) the son of Joseph, which was the son of Heli, Which was the son of Matthat, which was the son of Levi, which was the son of Melchi, which was the son of Janna, which was the son of Joseph, Which was the son of Mattathias, which was the son of Amos, which was the son of Naum, which was the son of Esli, which was the son of Nagge, Which was the son of Maath, which was the son of Mattathias, which was the son of Semei, which was the son of Joseph, which was the son of Juda, Which was the son of Joanna, which was the son of Rhesa, which was the son of Zorobabel, which was the son of Salathiel, which was the son of Neri, Which was the son of Melchi, which was the son of Addi, which was the son of Cosam, which was the son of Elmodam, which was the son of Er, Which was the son of Jose, which was the son of Eliezer, which was the son of Jorim, which was the son of Matthan, which was the son of Levi, Which was the son of Simeon, which was the son of Juda, which was the son of Joseph, which was the son of Jonan, which was the son of Eliakim, Which was the son of Melea, which was the son of Menan, which was the son of Mattatha, which was the son of Nathan, which was the son of David, Which was the son of Jesse, which was the son of Obed, which was the son of Booz, which was the son of Salmon, which was the son of Naasson, Which was the son of Aminadab, which was the son of Aram, which was the son of Esrom, which was the son of Phares, which was the son of Juda, Which was the son of Jacob, which was the son of Isaac, which was the son of Abraham, which was the son of Thara, which was the son of Nachor, Which was the son of Saruch, which was the son of Ragau, which was the son of Phalec, which was the son of Heber, which was the son of Sala, Which was the son of Cainan, which was the son of Arphaxad, which was the son of Sem, which was the son of Noe, which was the son of Lamech, Which was the son of Mathusala, which was the son of Enoch, which was the son of Jared, which was the son of Maleleel, which was the son of Cainan, Which was the son of Enos, which was the son of Seth, which was the son of Adam, which was the son of God.” [Luke: 3/23-38, KJV]

“جب یِسُوع خود تعلیم دینے لگا تو قریباً تِیس برس کا تھا اور (جیسا کہ سمجھا جاتا تھا) یُوسف کا بیٹا تھا اور وہ ہیلی کا اور وہ متّات کا اور وہ لاوی کا اور وہ ملکی کا اور وہ ینّا کا اور وہ یُوسف کا اور وہ متّتیاہ کا اور وہ عاموس کا اور وہ ناحُوم کا اور وہ اسلی کا اور وہ نگّے کا اور وہ ماحت کا اور وہ متّتیاہ کا اور وہ شمعی کا اور وہ یوسیک کا اور وہ یہوداہ کا اور وہ یوآنا کا اور وہ ریسا کا اور وہ زربابل کا اور وہ سیالتی ایل کا اور وہ نیری کا اور وہ ملکی کا اور وہ ادّی کا اور وہ قوسام کا اور وہ المودام کا اور وہ عیر کا اور وہ یُوسی کا اور وہ الیعزر کا اور وہ یوریم کا اور وہ متّات کا اور وہ لاوی کا اور وہ شمعون کا اور وہ یہوداہ کا اور وہ یُوسف کا اور وہ یونان کا اور وہ الیاقیم کا اور وہ ملیآ کا اور وہ مِینان کا اور وہ متّتا کا اور وہ ناتان کا اور وہ داؤد کا اور وہ یسّی کا اور وہ عوبید کا اور وہ بوعز کا اور وہ سلمون کا اور وہ نحشون کا اور وہ عمینداب کا اور وہ رام کا اور وہ حصرون کا اور وہ فارص کا اور وہ یہوداہ کا اور وہ یعقوب کا اور وہ اِضحاق کا اور وہ ابرہام کا اور وہ تارح کا اور وہ نحور کا اور وہ سروج کا اور وہ رعو کا اور وہ فلج کا اور وہ عابر کا اور وہ شلح کا اور وہ قینان کا اور وہ ارفکشاد کا اور وہ سم کا اور وہ نوح کا اور وہ لمک کا اور وہ متُوسلح کا اور وہ حنوک کا اور وہ یرد کا اور وہ مھلل ایل کا اور وہ قینان کا اور وہ انوس کا اور وہ سیت کا اور وہ آدم کا اور وہ خدا کا تھا۔” [لوقا: 23/3-38، بائبل سوسائٹی ہند، 2009ء]

لوقا کی انجیل میں مسیح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان 56 پشتیں ہیں جب کہ متی کی انجیل میں آپ دونوں کے بیچ میں 41 لوگوں کا نام ذکر کیا گیا مطلب کم از کم پندرہ آدمی کا فرق ہے۔

اور بائبل کے صرف ان دو اقتباسات میں تقریباً سترّ اسی سے بھی زائد تناقضات ہیں۔ کیوں کہ:

  1. عدد میں پندرہ کی گنتی کا کم یا زیادہ ہونا از خود کم از کم پندرہ تعارضات ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!