| عنوان: | امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
“...name was Athaliah, the daughter of Omri king of Israel.” [2Kings: 8/25-26, 9/29, KJV]
“اور شاہِ اسرائیل اخی اب کے بیٹے یورام کے بارہویں برس سے شاہِ یہوداہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ سلطنت کرنے لگا۔ اخزیاہ بائیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلم میں ایک برس سلطنت کی۔ اُس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو شاہِ اسرائیل عُمری کی بیٹی تھی۔” [سلاطین دوم: 25/8-26، 29/9]
لیکن خود اسی کتاب تواریخِ دوم کے باب 18 اور باب 9 میں بھی زبردست اختلاف ہے، بلکہ باپ کی مختلف آیات میں بھی اختلاف ہے۔ سلاطین دوم: 16/8 سے 21 کیا ہے:
Jehoram reigns
“And in the fifth year of Joram the son of Ahab king of Israel, Jehoshaphat being then king of Judah, Jehoram the son of Jehoshaphat king of Judah began to reign. Thirty and two years old was he when he began to reign; and he reigned eight years in Jerusalem.” [2Kings: 8/16-17, KJV]
“اور شاہِ اسرائیل اخی اب کے بیٹے یورام کے پانچویں سال جب یہوسفط یہوداہ کا بادشاہ تھا شاہِ یہوداہ یہوسفط کا بیٹا یہورام سلطنت کرنے لگا۔ اور جب وہ سلطنت کرنے لگا تو بتیس برس کا تھا اور اُس نے یروشلم میں آٹھ برس بادشاہی کی۔”
اس کا صاف معنی یہ ہے کہ جب اخی اب کا بیٹا یورام سلطنتِ اسرائیل کا بادشاہ تھا اور اس کی بادشاہی کا پانچواں سال تھا تو اس وقت یہوداہ کے علاقے میں یہورام بادشاہ بنا اور اس نے آٹھ سال حکومت کی۔ مطلب یورام کی حکومت کے تیرہویں سال میں یہورام دنیا سے چل بسا۔
مگر باب 16/8-26 کا کچھ اور کہنا ہے:
Ahaziah reigns over Judah
“In the twelfth year of Joram the son of Ahab king of Israel did Ahaziah the son of Jehoram king of Judah begin to reign. Two and twenty years old was Ahaziah when he began to reign; and he reigned one year in Jerusalem. And his mother's name was Athaliah, the daughter of Omri king of Israel.” [2Kings: 8/25-26]
“اور شاہِ اسرائیل اخی اب کے بیٹے یورام کے بارہویں برس سے شاہِ یہوداہ یہورام کا بیٹا اخزیاہ سلطنت کرنے لگا۔ اخزیاہ بائیس برس کا تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلم میں ایک برس سلطنت کی۔ اُس کی ماں کا نام عتلیاہ تھا جو شاہِ اسرائیل عُمری کی بیٹی تھی۔” [سلاطین دوم: 25/8-26، 29/9]
آٹھ (8) اور پانچ (5) کا مجموعہ تیرہ (13) ہوتا ہے نہ کہ بارہ (12)۔ جب ریاستِ اسرائیل کے راجا یورام کی بادشاہی کے پانچویں سال اخزیاہ کا باپ یہورام ریاستِ یہوداہ کا بادشاہ بنا اور اس نے آٹھ سال حکومت کی تو یقیناً بائیس سال یہورام کی موت ہوئی اور اس کی جگہ اس کا بیٹا اخزیاہ تخت نشیں ہوا وہ یورام ہی کی حکومت کا تیرہواں برس رہا ہو گا۔ ایسے یہاں پر اگر یہورام کی حکومت کے کل آٹھ سال مراد نہ ہوں، سات سال کچھ مہینے مراد ہوں تو یہ ممکن ہے کہ تاویل کا راستہ مل جائے اور دونوں عبارتوں میں کوئی تناقض نہ ہو مگر مسیحی بھائیوں کو ہماری یہ محبت اور خوش گمانی بھی کوئی فائدہ نہیں دے سکتی ہے کیوں کہ اگلے باب 29/9 کو پڑھ کر حیرت اور بڑھ جائے گی:
“And in the eleventh year of Joram the son of Ahab began Ahaziah to reign over Judah.” [2Kings: 9/29]
“اور اخی اب کے بیٹے یورام کے گیارہویں برس اخزیاہ یہوداہ کا بادشاہ ہوا۔” [سلاطین دوم: 29/9]
اس اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ جب یورام کی بادشاہی کا گیارہواں سال تھا اس وقت یہورام کا بیٹا اخزیاہ اپنے باپ کی موت کے بعد تخت نشیں ہوا۔ اب علمِ ریاضی کے کسی بھی طالبِ علم کو بلائیں اور پوچھیں کہ جب یورام کی حکومت کے پانچویں سال یہورام بادشاہ بنا اور آٹھ سال حکومت کر کے مر گیا تو یورام کی حکومت کے کس برس میں اس کا انتقال ہوا ہوگا؟ اس کا سیدھا سادہ جواب ہوگا کہ تیرہویں سال۔ اور اگر اس نے آٹھ سال مکمل حکومت نہیں کی بلکہ سات ماہ اور کچھ مہینے حکومت کی تو بھی کم از کم بارہویں سال اس کی موت ہوئی ہوگی اور اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا اخزیاہ بادشاہ بنا ہوگا مگر باب نمبر 9 کی آیت 29 نے تو یورام کی حکومت کے گیارہویں سال میں اس کے بادشاہ بننے کا ذکر کر کے تاویل اور خوش گمانی کے سارے ممکنہ دروازے بند کر دیے ہیں۔
بائبل کے معتبر ترین نسخے کنگ جیمس ورشن کے علاوہ:
-
بائبل کا اردو ترجمہ، بنام ‘کتابِ مقدس’ (بائبل سوسائٹی ہند، بنگلور، ہند، 2009ء)
-
‘گڈ نیوز بائبل’ (مطبوعہ بائبل سوسائٹی ہند، بنگلور، ہند، 2016ء)
-
بائبل کا ہندی ترجمہ، بنام ‘پوتر بائبل’ (مطبوعہ بائبل سوسائٹی ہند، بنگلور، ہند، 2010ء)
-
نیو انٹرنیشنل ورشن (نیوجرسی، انٹرنیشنل بائبل سوسائٹی، نیو جرسی، امریکہ، کاپی رائٹ 1973ء، 1978ء اور 1984ء)
-
نیو کنگ جیمس ورشن (مطبوعہ دی گائیڈنس انٹرنیشنل، الہ آباد، سکندر آباد، بھارت، کاپی رائٹ 1982ء اور 1985ء)
-
بائبل کا ہندی ترجمہ، بنام ‘پوتر بائبل’ (پرنٹر ڈواکن پرنٹرس، مورتینگور، کیرلا، بھارت، کاپی رائٹ ہندی ساہتیہ سمتی، الٰہ آباد، یو پی، ہند، 1991ء)
-
معاصر انگریزی ترجمہ Contemporary English Version (مطبوعہ امریکن بائبل سوسائٹی، نیویارک، امریکہ، کاپی رائٹ 1995ء)
بائبل کے یہ تمام نسخے اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ:
-
سلاطین دوم: 16/8-17 کے مطابق شاہِ اسرائیل یورام بن اخی اب کی سلطنت کے پانچویں سال شاہِ یہوداہ یہوسفط کا بیٹا اور اخزیاہ کا باپ یہورام بادشاہ بنا۔
-
سلاطین دوم: 25/8-26 کے مطابق یہورام نے آٹھ سال حکومت کی اور اس کی موت یورام کی بادشاہی کے بارہویں سال ہوئی۔
جب کہ:
-
سلاطین دوم: 29/9 کے مطابق یہورام بن یہوسفط کی موت کے بعد اس کا بیٹا اخزیاہ جب یہوداہ ریاست کا بادشاہ بنا وہ اسرائیل کے راجا یورام بن اخی اب کی حکومت کا گیارہواں سال تھا۔
مطلب ان تینوں مقامات پر اور ان تینوں اقتباسات کے ترجمے میں بائبل کے ترجمہ نگاروں کو کوئی دقت یا پریشانی نہیں ہوئی۔ سب کا ایک ہی ترجمہ اور ایک مفہوم سمجھ میں آیا، جس کی وجہ سے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ اخزیاہ کی پیدائش، نیز اس کے باپ کی عمر اور حکومت کے سلسلے میں بائبل کی مختلف کتابوں کی مختلف عبارتیں آپس میں ٹکراؤ کی شکار ہیں۔
یہاں پر کم از کم تین تناقضات ظاہر ہوتے ہیں:
-
اخزیاہ کے باپ یہورام کی موت کے سلسلے میں کہ آیا وہ یورام کے گیارہویں برس میں مرا؟ یا بارہویں سال میں مرا؟ یا تیرہویں سال میں مرا؟
-
اخزیاہ کے باپ یہورام کی مدتِ حکومت میں، کہ اس نے یورام کے گیارہویں برس تک حکومت کی؟ یا بارہویں برس تک؟ یا تیرہویں سال تک؟
-
اس میں تو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اخزیاہ اپنے باپ کی موت کے فوراً بعد تخت پر بیٹھا لیکن یہ ضرور تذبذب ہے کہ وہ کس سال بادشاہ بنا؟ یورام کے گیارہویں سال؟ بارہویں سال؟ یا تیرہویں سال میں؟
اور جب معاملہ ایسا ہے کہ جن اقتباسات یعنی تواریخِ دوم کی عبارات پر بھروسہ کر کے بعض مترجمین نے باپ کی موت اور تاج پوشی کے وقت اخزیاہ کی عمر ‘بائیس سال’ لکھی ہے وہ دلیل بھی ازخود باطل و لغو ہوگئی کیوں کہ تناقض و تعارض کسی کو بھی درجۂ اعتبار سے گرانے کے اہم اسباب ہیں۔
اور معاملہ یہیں تک محدود نہیں بلکہ بائبل میں اخزیاہ بن یہورام کی موت اور اس کا سبب بھی کچھ الگ اور متناقض طور پر بیان ہوا ہے، جس کی تفصیل درجِ ذیل ہے:
اخزیاہ بن یہورام کی موت اور موت کا سبب بھی معمہ
اخزیاہ بن یہورام کی صرف پیدائش اور تاج پوشی ہی ایک معمہ نہیں ہے بلکہ اس کی موت بھی بائبل میں ایک گتھی بنی ہوئی ہے۔ تواریخِ دوم: 21/22-28 کا کہنا کچھ اور ہے اور سلاطینِ دوم: 12/2 کے 12 کا بیان کچھ اور ہے۔
بائبل کے عہدِ نامہ قدیم کی اہم کتاب تواریخِ دوم نے اخزیاہ بن یہورام کی موت اور اس کے اسباب کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
“And the destruction of Ahaziah was of God by coming to Joram: for when he was come, he went out with Jehoram against Jehu the son of Nimshi, whom the LORD had anointed to cut off the house of Ahab. And it came to pass, that, when Jehu was executing judgment upon the house of Ahab, and found the princes of Judah, and the sons of the brethren of Ahaziah, that ministered to Ahaziah, he slew them. And he sought Ahaziah: and they caught him, (for he was hid in Samaria,) and brought him to Jehu: and when they had slain him, they buried him: Because, said they, he is the son of Jehoshaphat, who sought the LORD with all his heart. So the house of Ahaziah had no power to keep still the kingdom. But when Athaliah the mother of Ahaziah saw that her son was dead, she arose and destroyed all the seed royal of the house of Judah. But Jehoshabeath, the daughter of the king, took Joash the son of Ahaziah, and stole him from among the king's sons that were slain, and put him and his nurse in a bedchamber. So Jehoshabeath, the daughter of king Jehoram, the wife of Jehoiada the priest, (for she was the sister of Ahaziah,) hid him from Athaliah, so that she slew him not. And he was with them hid in the house of God six years: and Athaliah reigned over the land.” [2Chronicles: 22/7-12, KJV]
“اور اخزیاہ کی ہلاکت خدا کی طرف سے یوں ہوئی کہ وہ یہورام کے پاس گیا کیوں کہ جب وہ پہنچا تو یہورام کے ساتھ یاہو بن نمشی سے لڑنے کو گیا جسے خداوند نے اخی اب کے خاندان کو کاٹ ڈالنے کے لیے مسح کیا تھا اور جب یاہو اخی اب کے خاندان کو سزا دے رہا تھا تو اُس نے یہوداہ کے سرداروں اور اخزیاہ کے بھائیوں کے بیٹوں کو جو اخزیاہ کی خدمت کرتے تھے پایا اور اُن کو قتل کیا اور اُس نے اخزیاہ کو ڈھونڈا (وہ سامریہ میں چھپا تھا) سو وہ اُسے پکڑ کر یاہو کے پاس لائے اور اُسے قتل کیا اور انھوں نے اُسے دفن کیا کیوں کہ وہ کہنے لگے کہ وہ یہوسفط کا بیٹا ہے جو اپنے سارے دل سے خداوند کا طالب رہا اور اخزیاہ کے گھرانے میں سلطنت سنبھالنے کی طاقت کسی میں نہ رہی۔ جب اخزیاہ کی ماں عتلیاہ نے دیکھا کہ اُس کا بیٹا مر گیا تو اُس نے اُٹھ کر یہوداہ کے گھرانے کی ساری شاہی نسل کو تباہ کر دیا لیکن بادشاہ کی بیٹی یہوسبعت نے اخزیاہ کے بیٹے یوآس کو بادشاہ کے بیٹوں کے بیچ سے جو قتل کیے جا رہے تھے لے لیا اور اُسے اور اُس کی دایہ کو بستروں کی کوٹھری میں رکھا۔ سو یہورام بادشاہ کی بیٹی یہوسبعت کاہن کی بیوی یہوسبعت نے (چوں کہ وہ اخزیاہ کی بہن تھی) اُسے عتلیاہ سے ایسا چھپایا کہ وہ اُسے قتل کرنے نہ پائی۔ اور وہ اُن کے پاس خدا کی ہیکل میں چھ برس تک چھپا رہا اور عتلیاہ ملک پر حکومت کرتی رہی۔” [تواریخ دوم: 7/22-12]
اب بائبل کی ایک دوسری کتاب ‘سلاطین دوم’ کو دیکھ لیں کہ اُس نے اخزیاہ بن یہورام کی موت کے واقعے کو کس رنگ سے پیش کیا ہے۔ پہلے اسرائیل کے راجا یورام کی موت کے حالات کو پڑھ لیں تبھی یہوداہ کے راجا اخزیاہ کی موت کی کہانی بہتر انداز میں سمجھ میں آ سکے گی:
Jehu kills Joram king of Israel
“So Jehu the son of Jehoshaphat the son of Nimshi conspired against Joram. (Now Joram had kept Ramoth-gilead, he and all Israel, because of Hazael king of Syria. But king Joram was returned to be healed in Jezreel of the wounds which the Syrians had given him, when he fought with Hazael king of Syria.) And Jehu said, If it be your minds, then let none go forth nor escape out of the city to go to tell it in Jezreel. So Jehu rode in a chariot, and went to Jezreel; for Joram lay there. And Ahaziah king of Judah was come down to see Joram. And there stood a watchman on the tower in Jezreel, and he spied the company of Jehu as he came, and said, I see a company. And Joram said, Take an horseman, and send to meet them, and let him say, Is it peace? So there went one on horseback to meet him, and said, Thus saith the king, Is it peace? And Jehu said, What hast thou to do with peace? turn thee behind me. And the watchman told, saying, The messenger came to them, but he cometh not again. Then he sent out a second on horseback, which came to them, and said, Thus saith the king, Is it peace? And Jehu answered, What hast thou to do with peace? turn thee behind me. And the watchman told, saying, He came even unto them, and cometh not again: and the driving is like the driving of Jehu the son of Nimshi; for he driveth furiously. And Joram said, Make ready. And his chariot was made ready. And Joram king of Israel and Ahaziah king of Judah went out, each in his chariot, and they went out against Jehu, and met him in the portion of Naboth the Jezreelite. And it came to pass, when Joram saw Jehu, that he said, Is it peace, Jehu? And he answered, What peace, so long as the whoredoms of thy mother Jezebel and her witchcrafts are so many? And Joram turned his hands, and fled, and said to Ahaziah, There is treachery, O Ahaziah. And Jehu drew a bow with his full strength, and smote Jehoram between his arms, and the arrow went out at his heart, and he sunk down in his chariot. Then said Jehu to Bidkar his captain, Take up, and cast him in the portion of the field of Naboth the Jezreelite: for remember how that, when I and thou rode together after Ahab his father, the LORD laid this burden upon him; Surely I have seen yesterday the blood of Naboth, and the blood of his sons, saith the LORD; and I will requite thee in this plat, saith the LORD. Now therefore take and cast him into the plat of ground, according to the word of the LORD.” [2Kings: 9/14-26, KJV]
“سو یاہو بن یہوسفط بن نمشی نے یورام کے خلاف سازش کی (اور یورام سارے اسرائیل سمیت شاہِ ارام حزائیل کے سبب سے رامات جلعاد کی حمایت کر رہا تھا لیکن یورام بادشاہ لوٹ گیا تھا تاکہ یزرعیل میں اُن زخمیوں کا علاج کرائے جو شاہِ ارام حزائیل سے لڑتے وقت ارامیوں کے ہاتھ سے لگے تھے) تب یاہو نے کہا اگر تمھاری مرضی یہی ہے تو کوئی یزرعیل جا کر خبر کرنے کے لیے اس شہر سے بھاگنے اور نکلنے نہ پائے: اور یاہو رتھ پر سوار ہو کر یزرعیل کو گیا کیوں کہ یورام کی ملاقات کو آیا ہوا تھا اور یزرعیل میں نگہبان برج پر کھڑا تھا اور اُس نے یاہو کے جتھے کو آتے دیکھا تو کہا مجھے ایک جتھا دکھائی دیتا ہے۔ یورام نے کہا ایک سوار کو لے کر اُن سے ملنے کو بھیج۔ وہ یہ پوچھے ‘خیر ہے؟’ چنانچہ ایک شخص گھوڑے پر اس سے ملنے کو گیا اور کہا بادشاہ پوچھتا ہے خیر ہے؟ یاہو نے کہا تجھ کو خیر سے کیا کام؟ میرے پیچھے ہو لے۔ پھر نگہبان نے کہا کہ قاصد اُن کے پاس پہنچ تو گیا لیکن واپس نہیں آتا: تب اُس نے دوسرے کو گھوڑے پر روانہ کیا جس نے اُن کے پاس جا کر اُن سے کہا بادشاہ پوچھتا ہے ‘خیر ہے؟’ یاہو نے جواب دیا تجھ کو خیر سے کیا کام؟ میرے پیچھے ہو لے۔ پھر نگہبان نے کہا وہ اُن کے پاس پہنچ تو گیا لیکن واپس نہیں آتا اور ہانکنا تو یاہو بن نمشی کا سا ہانکنا ہے کیوں کہ وہ دیوانہ وار ہانکتا ہے۔ تب یورام نے کہا رتھ تیار کرو۔ چنانچہ اُس کا رتھ تیار کیا گیا اور شاہِ اسرائیل یورام اور شاہِ یہوداہ اخزیاہ اپنے اپنے رتھ پر سوار ہو کر نکلے اور یاہو کا سامنا کرنے کو بڑھے اور یزرعیلی نابوت کے قطعہ زمین میں اُس سے ملے۔ اور ایسا ہوا کہ جوں ہی یورام نے یاہو کو دیکھا کہا اے یاہو کیا خیر ہے؟ اُس نے جواب دیا جب تک تیری ماں ایزبل کی حرامکاریاں اور جادوگریاں ایسی کثرت سے ہیں تو کیا خیر ہو سکتی ہے؟ تب یورام نے ہاتھ پھیرا اور بھاگا اور اخزیاہ سے کہا اے اخزیاہ دغا ہے دغا! اور یاہو نے پورے زور سے کمان کھینچی اور یورام کو دونوں کندھوں کے بیچ میں ایسا مارا کہ تیر اُس کے دل کے پار نکل گیا اور وہ اپنے رتھ میں جھک گیا۔ تب یاہو نے اپنے سردار بدقر سے کہا اُسے اُٹھا کر یزرعیلی نابوت کے کھیت کے قطعہ میں ڈال دے کیوں کہ یاد کر کہ جب میں اور تُو دونوں پیچھے سوار ہو کر چل رہے تھے تو خداوند نے یہ فتویٰ اُس پر دیا تھا کہ یقیناً میں نے کل نابوت کے خون اور اُس کے بیٹوں کے خون کو دیکھا ہے خداوند فرماتا ہے۔ سو جیسا خداوند نے فرمایا ہے اُسے لے کر اُسی جگہ ڈال دے۔” [سلاطین دوم: 14/9-26]
اس طرح پہلے یاہو نے اسرائیل کے بادشاہ یورام کو قتل کیا اس کے بعد یہوداہ سلطنت کے بادشاہ اخزیاہ بن یہورام کو بھی قتل کیا:
Jehu kills Ahaziah king of Judah
“But when Ahaziah the king of Judah saw this, he fled by the way of the garden house. And Jehu followed after him, and said, Smite him also in the chariot. And they did so at the going up to Gur, which is by Ibleam. And he fled to Megiddo, and died there. And his servants carried him in a chariot to Jerusalem, and buried him in his sepulchre with his fathers in the city of David.” [2Kings: 9/27-28, KJV]
“لیکن جب شاہِ یہوداہ اخزیاہ نے یہ دیکھا تو وہ باغ کے بارہ دری کی راہ سے نکل بھاگا اور یاہو نے اُس کا پیچھا کیا اور کہا کہ اُسے بھی رتھ ہی میں مار دو چنانچہ انھوں نے اُسے یُور کی چڑھائی پر جو ابلیعام کے متصل ہے مارا اور وہ مجدّو کو بھاگا اور وہیں مر گیا اور اُس کے خادم اُس کو ایک رتھ میں یروشلم کو لے گئے اور اُسے اُس کی قبر میں داؤد کے شہر میں اُس کے باپ دادا کے ساتھ دفن کیا۔” [سلاطین دوم: 27/9-28]
آپ دونوں کتابیں یعنی تواریخِ دوم اور سلاطین دوم کے اقتباسات پر غور کریں تو درجِ ذیل چیزیں سامنے آتی ہیں:
-
تواریخِ دوم کے مطابق اخزیاہ سامریہ میں چھپا تھا جہاں سے یاہو کے آدمی اسے پکڑ کر یاہو کے پاس لے گئے جب کہ سلاطین
