| عنوان: | امام احمد رضا اور تقابل ادیان (قسط: ششم) |
|---|---|
| تحریر: | فیضان المصطفی قادری |
| پیش کش: | عرشیہ بانو عطاریہ |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
تعارضات ہیں۔
-
مزید برآں تقاریر اور جنم ناموں میں اختلاف ہے۔
-
ان دو چیزوں کے علاوہ ترتیب میں جو اختلافات ہیں وہ تین چار درجن سے زیادہ بنتے ہیں۔ جس یوسف بڑھئی کو عیسائی برادران پاک کنواری حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا منگیتر کہتے ہیں خود اس کے باپ کے نام میں بھی اختلاف ہے۔ لوقا نے اس کو عیلی کا بیٹا بتایا ہے تو متی نے یعقوب کا۔ اور اس طرح پہلے ہی نام سے جو کڑی بگڑتی اور الجھتی ہے تو الجھتی ہی چلی جاتی ہے۔
(3) مسیح کے اقوال میں تعارض
بائبل میں مسیح کے مختلف اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ بسا اوقات ایک انجیل میں ذکر ان کا ایک قول دوسری انجیل میں مذکور ان کی بات سے ٹکراتی ہے تو بعض اوقات ایک ہی انجیل کے مختلف ابواب میں تو کبھی ایک ہی باب کی متعدد آیات میں شدید اور ناقابلِ تاویل تعارض ہوتا ہے۔
محدث بریلوی نے اپنے فتوے میں بائبل کے تعارضات کی نشان دہی کرتے ہوئے مثال کے طور پر مسیح کے اقوال کے تعارضات کو ذکر کیا اور خود کلامِ مسیح میں تعارضات کی تین مثالیں پیش کی ہیں۔ (1) طلاق کی وجہ (2) قسم کا جواز (3) انتقام کا جواز۔ لیکن ان تینوں تعارضات کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ توریت اور دیگر نبیوں کی کتابوں کے بارے میں مسیح کا نقطہ نظر کیا ہے اور وہ خود کیا کہتے ہیں۔
انجیل متی میں ہے کہ مسیح علیہ السلام یہ فرماتے ہیں کہ وہ توریت اور دیگر نبیوں کی کتابوں کے استحکام اور تکمیل کے لیے آئے ہیں اور بدنصیب ہے وہ شخص جو اس کے ایک نقطے سے بھی چھیڑ چھاڑ کرے اور اس پر عمل نہ کرے یا اس کی تعلیم دے:
“Think not that I am come to destroy the law or the Prophets, I am not come to destroy but to fulfill, for verily I say unto you till heaven and earth pass one jotor one little shall in no wise pass from, till all be fulfilled. Whosoever therefore shall break one of these least commandments and shall teach men so he shall be called the least in the kingdom of heaven, but whosoever shall do and teach them the same shall be called great in the kingdom of heavens.” [Matthew: 5/17-19, KJV]
“یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں، منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ کیوں کہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک کہ سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔ پس جو کوئی ان کے چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے کسی کو بھی توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔” [انجیل متی: 5/17-19، مطبوعہ بائبل سوسائٹی ہند، سن 2009ء]
پہلے اوپر کے اقتباس کو ذہن میں بٹھا لیں کہ مسیح کس طرح توریت اور انبیاء سابقین کی کتابوں کے احکام پر سختی سے عمل کرنے کا حکم سنا رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بیان کیا کہ جو کوئی توریت یا نبیوں کی کتابوں کے حکم میں سے چھوٹے سے چھوٹے حکم کو توڑے یا ایسی تعلیم دے وہ آسمان کی بادشاہی یعنی خدا کی نظر اور عدالت میں کم تر اور حقیر ترین گردانا جائے گا۔ لیکن آئیے دیکھیں خود مسیح اپنے اس ارشاد پر کتنا عمل کرتے ہیں؟
(الف) طلاق کی وجہ
طلاق کی وجہ کو بائبل کے توریت کے اس اقتباس میں ذکر کیا گیا ہے:
“When a man hath taken a wife, and married her, and it come to pass that she find no favour in his eyes, because he hath found some uncleanness in her: then let him write her a bill of divorcement, and give it in her hand, and send her out of his house. And when she is departed out of his house, she may go and be another man's wife. And if the latter husband hate her, and write her a bill of divorcement, and giveth it in her hand, and sendeth her out of his house; or if the latter husband die, which took her to be his wife; Her former husband, which sent her away, may not take her again to be his wife, after that she is defiled; for that is abomination before the LORD: and thou shalt not cause the land to sin, which the LORD thy God giveth thee for an inheritance.” [Deuteronomy: 24/1-4, KJV]
“اگر کوئی مرد کسی عورت سے بیاہ کرے اور پیچھے اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اس کو طلاق نامہ لکھ کر دے...”
Jesus' teaching on divorce
“It hath been said, Whosoever shall put away his wife, let him give her a writing of divorcement: But I say unto you, That whosoever shall put away his wife, saving for the cause of fornication, causeth her to commit adultery: and whosoever shall marry her that is divorced committeth adultery.” [Matthew: 5/31-32, 19/17, Mark: 10/3-6]
“یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑے اسے طلاق نامہ لکھ دے۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا اور سب سے چھوڑ دے وہ اس سے زنا کراتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے۔” [متی: 5/31-32، 19/17، مرقس: 10/3-6]
“find no favour in his eyes, because he hath found some uncleanness in her: then let him write her a bill of divorcement, and give it in her hand, and send her out of his house. And when she is departed out of his house, she may go and be another man's wife. And if the latter husband hate her, and write her a bill of divorcement, and giveth it in her hand, and sendeth her out of his house; or if the latter husband die, which took her to be his wife; Her former husband, which sent her away, may not take her again to be his wife, after that she is defiled; for that is abomination before the LORD: and thou shalt not cause the land to sin, which the LORD thy God giveth thee for an inheritance.” [Deuteronomy: 24/1-4, KJV]
“اگر کوئی مرد کسی عورت سے بیاہ کرے اور پیچھے اس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اُس عورت کی طرف اس کی التفات نہ رہے تو وہ اُس کا طلاق نامہ لکھ کر اُس کے حوالے کرے اور اُسے اپنے گھر سے نکال دے اور جب وہ اُس کے گھر سے نکل جائے تو وہ دوسرے مرد کی ہو سکتی ہے پھر اگر دوسرا شوہر بھی اُس سے ناخوش رہے اور اُس کا طلاق نامہ لکھ کر اُس کے حوالہ کرے اور اُسے اپنے گھر سے نکال دے یا وہ دوسرا شوہر جس نے اُس سے بیاہ کیا ہو مر جائے؛ تو اُس کا پہلا شوہر جس نے اُسے نکال دیا تھا اُس عورت کے ناپاک ہو جانے کے بعد پھر اُس سے بیاہ نہ کرنے پائے کیوں کہ یہ کام خداوند کے نزدیک مکروہ ہے۔ سو تو اُس ملک کو جسے خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے گنہ گار نہ بنانا۔” [استثنا: 24/1-4]
لیکن انجیلوں میں مسیح کی طرف منسوب یہ حکم ملتا ہے کہ انھوں نے صرف اور صرف زنا کی شرط پر ہی طلاق کو محدود کر دیا، جس سے توریت کے حکم میں زبردست تبدیلی آ گئی۔
متی کے باب 19 میں تو مسیح نے کھل کر اس بات کا اقرار اور اعلان کیا ہے کہ وہ موسیٰ کی توریت کے حکم کو بدل رہے ہیں:
“He saith unto them, Moses because of the hardness of your hearts suffered you to put away your wives: but from the beginning it was not so. And I say unto you, Whosoever shall put away his wife, except it be for fornication, and shall marry another, committeth adultery: and whoso marrieth her which is put away doth commit adultery.” [Matthew: 19/8-9, Mark: 10/2-12]
“اُس نے اُن سے کہا کہ مُوسیٰ نے تمھاری سخت دلی کے سبب سے تم کو اپنی بیویوں کو چھوڑنے کی اجازت دی مگر ابتدا سے ایسا نہ تھا۔ اور میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے اور جو کوئی چھوڑی ہوئی سے بیاہ کر لے وہ بھی زنا کرتا ہے۔” [متی: 19/8-9، مرقس: 10/2-12]
ایک طرف مسیح توریت اور انبیاء سابقین کی کتابوں سے بال برابر انحراف کو بھی سخت جرم بتاتے ہیں اور دوسری طرف ان کے احکام کی مخالفت کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔
(ب) قسم کے بارے میں تعلیم
قسم کھانے کے متعلق توریت میں بنی اسرائیل کے خدا نے یہ حکم دیا:
“And ye shall not swear by my name falsely, neither shalt thou profane the name of thy God: I [am] the LORD.” [Leviticus: 19/12]
“اور تم میرے نام سے جھوٹی قسم نہ کھانا، جس سے تو اپنے خدا کے نام کو ناپاک ٹھہرائے۔ میں خداوند ہوں۔” [احبار: 19/12]
یعنی سچی قسم کھا سکتے ہیں اور جھوٹی قسم کھانا گناہ ہے۔ توریت کی چوتھی کتاب گنتی میں قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا:
“And Moses spake unto the heads of the tribes concerning the children of Israel, saying, This is the thing which the LORD hath commanded. If a man vow a vow unto the LORD, or swear an oath to bind his soul with a bond; he shall not break his word, he shall do according to all that proceedeth out of his mouth.” [Numbers: 30/1-2, KJV]
“اور موسیٰ نے بنی اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں سے کہا کہ جس بات کا خداوند نے حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی مرد خداوند کی منت مانے یا قسم کھا کر اپنے اوپر کوئی خاص فرض ٹھہرائے تو وہ اپنے فرض کو نہ توڑے بلکہ جو کچھ اس کے منہ سے نکلا ہے اسے پورا کرے۔” [گنتی: 30/1-2]
قسم کھانے کے متعلق بھی توریت کے خلاف اپنی راہ اور اپنے فتوے کا اعلان کرتے ہوئے مسیح کہتے ہیں:
Jesus' teaching on oaths
“Again, ye have heard that it hath been said by them of old time, Thou shalt not forswear thyself, but shalt perform unto the LORD thine oaths: But I say unto you, Swear not at all; neither by heaven; for it is God's throne: Nor by the earth; for it is his footstool: neither by Jerusalem; for it is the city of the great King. Neither shalt thou swear by thy head, because thou canst not make one hair white or black. But let your communication be, Yea, yea; Nay, nay: for whatsoever is more than these cometh of evil.” [Matthew: 5/33-37]
“پھر تم سن چکے ہو کہ اگلوں سے کہا گیا تھا کہ جھوٹی قسم نہ کھانا بلکہ اپنی قسمیں خداوند کے لیے پوری کرنا۔ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ بالکل قسم نہ کھانا۔ نہ تو آسمان کی کیوں کہ وہ خدا کا تخت ہے؛ نہ زمین کی کیوں کہ وہ اُس کے پاؤں کی چوکی ہے۔ نہ یروشلم کی کیوں کہ وہ بزرگ بادشاہ کا شہر ہے؛ نہ اپنے سر کی قسم کھانا کیوں کہ تو ایک بال کو بھی سفید یا کالا نہیں کر سکتا؛ بلکہ تمھارا کلام ہاں ہاں یا نہیں نہیں ہو کیوں کہ جو اس سے زیادہ ہے وہ بدی سے ہے۔” [متی: 5/33-37]
یہاں بھی توریت کے حکم سے انحراف کا برسرِ عام اعلان ہو رہا ہے اور اس کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
(ج) انتقام کے متعلق توریت کے موقف سے انحراف
قصاص اور انتقام کے سلسلے میں توریت کا نقطہ نظر درج ذیل ہے:
“The payment will be life for life, eye for eye, tooth for tooth, head for head, foot for foot, burn for burn, cut for cut, and bruise for bruise.” [Exodus: 21/23-25, Deuteronomy: 19/21, CEV, ABS, NY, USA, ©1995]
“تو جان کے بدلے جان لے۔ اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ اور دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ۔ پاؤں کے بدلے پاؤں؛ جلانے کے بدلے جلانا، زخم کے بدلے زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ۔” [خروج: 21/23-25، استثنا: 19/21]
جب کہ مسیح خود بھی توریت کے اس قانون سے انحراف کرتے ہوئے کچھ اور قانون سنا رہے ہیں:
Love for enemies
“Ye have heard that it hath been said, An eye for an eye, and a tooth for a tooth: But I say unto you, That ye resist not evil: but whosoever shall smite thee on thy right cheek, turn to him the other also. And if any man will sue thee at the law, and take away thy coat, let him have thy cloke also. And whosoever shall compel thee to go a mile, go with him twain. Give to him that asketh thee, and from him that would borrow of thee turn not thou away.” [Matthew: 5/38-42, Luke: 6/29-30, KJV]
“تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت؛ لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اُس کی طرف پھیر دے؛ اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اُسے لے لینے دے؛ اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اُس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔ جو کوئی تجھ سے مانگے اُسے دے اور جو تجھ سے قرض چاہے اُس سے منہ نہ موڑ۔” [متی: 5/38-42، لوقا: 6/29-30]
یہ تو صرف اقوالِ مسیح سے متعلق تعارضات کی مثالیں ہیں کہ کس طرح مسیح ایک طرف توریت اور دیگر انبیاء کی کتابوں پر سختی سے عمل کرنے کا حکم دے رہے ہیں اور دوسری طرف خود ہی اس کے خلاف نئی راہ کا اعلان کر رہے ہیں۔
فصلِ دوم: بائبل کی عجیب و غریب باتیں
محدث بریلوی نے بائبل کے رد کے لیے بائبل کی کتابوں اور باب نیز آیات نمبر کے حوالے سے کچھ اچھنبے بھری چیزوں کو ذکر کیا ہے۔ (1) چرچ کے لیے دنیا کی کمائی کا مقدس ہونا؛ (2) لوط کا اپنے ہی سگے نواسوں کا باپ ہونا؛ (3) مقدس داؤد کا نا قابلِ قبول عمل؛ (4) ناشائستہ جملے اور الفاظ کا استعمال؛ (5) مسیحیوں کا خود اپنے خدا پر (نعوذ باللہ) لعنت بھیجنا؛ (6) روٹی کو مسیح کا گوشت اور شراب کو اس کا خون سمجھ کر کھانا پینا۔ وغیرہ وغیرہ۔
(1) چرچ کے لیے دنیا کی کمائی مقدس
آج دنیا کے بہت سے ممالک نے بھلے ہی فاحشہ کی کمائی کو قانونی حیثیت دے دی ہو مگر بائبل نے جگہ جگہ زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ اور بدن کی بے پردگی اور قوم کی بیٹیوں اور عورتوں کی جسم فروشی کو اس قوم پر عذابِ الٰہی سے تعبیر کیا ہے۔ بائبل کی دوسری کتاب خروج نے زنا کو حرام قرار دیتے ہوئے کہا:
“Thou shall not commit adultery.” [Exodus: 20/14, Deuteronomy: 5/18, KJV]
“تو زنا نہ کرنا۔” [خروج: 20/14، استثنا: 5/18]
کتاب احبار میں کہا گیا:
“Do not prostitute thy daughter, to cause her to be a whore; lest the land fall to whoredom, and the land become full of wickedness.” [Leviticus: 19/29, KJV, TBR, BSI, 2006]
“تو اپنی بیٹی کو کسبی بنا کر ناپاک نہ ہونے دینا تا ایسا نہ ہو کہ ملک میں رنڈی بازی پھیل جائے اور سارا ملک بدکاری سے بھر جائے۔” [احبار: 19/29]
زنا اور لواطت کو حرام اور ان کی کمائی کو ناپاک بتاتے ہوئے بنی اسرائیل سے کہا گیا:
“There shall be no whore of the daughters of Israel, nor a sodomite of the sons of Israel. Thou shalt not bring the hire of a whore, or the price of a dog, into the house of the LORD thy God for any vow: for even both these are abomination unto the LORD thy God.” [Leviticus: 23/17-18, KJV]
“اسرائیلی لڑکیوں میں کوئی فاحشہ نہ ہو اور نہ اسرائیلی لڑکوں میں سے کوئی لوطی ہو، تو کسی فاحشہ کی خرچی یا کتے کی اجرت کسی منت کے لیے خداوند اپنے خدا کے گھر میں نہ لانا کیوں کہ یہ دونوں خداوند تیرے خدا کے نزدیک مکروہ ہیں۔” [استثنا: 23/17-18]
بدکاری اور بدکاروں سے متعلق بائبل کے سخت موقف کو جان لینے کے بعد اب اس اقتباس کو ملاحظہ فرمائیں:
“Howl, ye ships of Tarshish; for your strength is laid waste And it shall come to pass in that day, that Tyre shall be forgotten seventy years, according to the days of one king: after the end of seventy years shall Tyre sing as an harlot. Take an harp, go about the city, thou harlot that hast been forgotten; make sweet melody, sing many songs, that thou mayest be remembered. And it shall come to pass after the end of seventy years, that the LORD will visit Tyre, and she shall turn to her hire, and shall commit fornication with all the kingdoms of the world upon the face of the earth. And her merchandise and her hire shall be holiness to the LORD: it shall not be treasured nor laid up; for her merchandise shall be for them that dwell before the LORD, to eat sufficiently, and for durable clothing.” [Isaiah: 23/14-18, KJV]
“اے ترسیس کے جہازو واویلا کرو کیوں کہ تمھارا قلعہ اجاڑا گیا؛ اور اُس وقت یوں ہو گا کہ صور کسی بادشاہ کے ایام کے مطابق ستر برس تک فراموش ہو جائے گا اور ستر برس کے بعد صور کی حالت فاحشہ کی گیت کے مطابق ہو گی؛ نہ اے فاحشہ! تو جو فراموش ہو گئی ہے بربط اٹھا لے اور شہر میں پھیرا کر۔ راگ کو چھیڑ اور بہت سی غزلیں گا کہ لوگ تجھے یاد کریں۔ اور ستر برس کے بعد یوں ہو گا کہ خداوند صور کی خبر لے گا اور وہ اُجرت پائے گی اور روئے زمین کی تمام مملکتوں سے بدکاری کرے گی۔ لیکن اس کی تجارت اور اُس کی اُجرت خداوند کے لیے مقدس ہو گی اور اُس کا مال نہ ذخیرہ کیا جائے گا نہ جمع رہے گا بلکہ اُس کی تجارت کا حاصل اُن کے لیے ہو گا جو خداوند کے حضور رہتے ہیں کہ کھا کر سیر ہوں اور نفیس پوشاک پہنیں۔” [یسعیاہ: 23/14-18]
آج کے مغربی اور عیسائی معاشرے کے پس منظر میں دیکھیں تو شاید اس اقتباس میں کوئی خرابی نظر نہ آئے مگر جب ہم بائبل کے نقطۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں تو یہ بات آشکارا ہو جاتی ہے کہ زنا گناہ اور سخت گناہ ہے۔ بائبل نے کم و بیش تین درجن مقامات پر زنا کی مذمت و قباحت اور سخت مذمت بیان کی ہے:
(احبار: 10/20، 12/21، 22/22، 23، گنتی: 1/25، امثال: 3/2، 3/5، 3/6، 26، 27، 32، یرمیاہ: 5/5، 9، حزقیال: 26/23-29، عاموس: 7/4، ناحوم: 1/3-6، ہوسیع: 1/2، متی: 11/2، 1/5، 29، متی: 19/5، 32، 18/19، مرقس: 1/10-12، 15/10، لوقا: 18/16، یوحنا: 3/8-11، رومیوں: 3/2، 9/7، عبرانیوں: 4/13، یعقوب: 4/4، 1-کرنتھیوں اول: 6/6-13، 18، کلسیوں: 5/3، 1-تھیسلنیکین اول: 3/4-5، یعقوب: 2/12، مکاشفہ: 2/2، 7، 14/14، 19/19، 15/22۔)
(2) لوط اپنے سگے نواسوں کا باپ:
لوط علیہ السلام کا الزام اور وہ بھی معاذ اللہ معزز ہستیوں پر حد درجہ برا ہے۔ بائبل لکھنے والوں کے قلم سے حضرت موسیٰ، حضرت ہارون، حضرت لوط، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی عصمت پر بھی انگشت نمائی کی گئی اور انھیں بھی زمرۂ صالحین و شرفا سے نکالنے کی کوشش ہوئی ہے۔ محدث بریلوی نے اپنے فتوے میں...
