| عنوان: | سفر کے خطرات، طلبہ و علما کرام کیا کریں؟ |
|---|---|
| تحریر: | محمد عارف رضا قادری امجدی |
| پیش کش: | جامعہ امجدیہ رضویہ، گھوسی |
سفر میں جاتے وقت اور لوٹنے کے بعد یہ دعائیں پڑھیے
آپ جب سفر کے لیے نکلیں تو سواری پر سوار ہو کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہیے، پھر سفر کی دعا:
سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ
پڑھیے، پھر:
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ
پڑھا کریں اور جب سفر سے واپس ہوں تو یہی کلمات پڑھا کریں اور اس پر ان کلمات کا اضافہ فرمائیے:
آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ [السنن لأبي داود: ص: 349، كتاب الجهاد]
اور گھر جانے سے پہلے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھتے۔ [صحیح البخاري]
اس لیے اس دعا کا پڑھنا اور گھر جانے سے پہلے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنا سنت ہے، نیز مسافر کو بحالتِ سفر نمازوں، دعا اور رجوع الی اللہ کا پورا اہتمام و التزام کرنا چاہیے، اپنے لیے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگنا چاہیے، کیوں کہ مسافر کی دعا قبول ہوتی ہے۔ [ما في “جامع الترمذي”]
مسافر سفر سے واپس لوٹے تو پہلے گھر والوں کو اطلاع دے دے
جب مسافر اپنے سفر سے لوٹ رہا ہو، تو اپنے مقام سے قریب پہنچنے پر گھر والوں کو اپنی آمد سے مطلع کرنا اس کے لیے مستحب ہے، تاکہ گھر والوں کے حق میں اس کی آمد اچانک نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو اس بات سے منع فرمایا کہ وہ رات کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آئے، موجودہ زمانے میں مواصلاتی نظام نے کافی ترقی کر لی ہے، اس لیے موبائل فون وغیرہ کے ذریعے سے اپنی آمد کی اطلاع دے کر اس استحباب پر عمل کرنا بڑا آسان ہے۔ [ما في “صحیح البخاري”]
طالبِ علم کے ساتھ پیش آنے والا افسوس ناک واقعہ اور حادثہ ہم سب کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ سفر کے دوران ہر قدم پر احتیاط، ہوشیاری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ ساتھ ہی متعلقہ اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایسے معاملات کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں تاکہ حقائق سامنے آئیں، انصاف ہو اور آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ ہم لوگ اس بابت کوئی منصوبہ بندی کریں تاکہ اس طرح کے حادثات سے طلبہ و علما کو حتی الوسع کسی ناگہانی آفت سے بچایا جا سکے۔ گزشتہ سال بھی امجدیہ کے دو طالب علم سڑک حادثے میں شہید ہو گئے تھے۔ وائرل ویڈیو سے صاف ظاہر تھا کہ وہ حادثہ نہیں جان بوجھ کر کیا گیا حملہ تھا۔ اس دردناک سانحے کے بعد بھی ہمارے یہاں اس حوالے سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ یہاں تک کہ اب مذکورہ طالب علم کا معاملہ سامنے آ گیا۔ اگر اب بھی ہم نے کوئی تدبیر اختیار نہیں کی تو آئے دن طلبہ و علما ظالموں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔
سفر کے خطرات اور طلبۂ مدارس کی حفاظت
وطنِ عزیز میں اہلِ سنت و جماعت کے درجنوں بڑے دینی ادارے ایسے ہیں جہاں مختلف صوبوں سے سیکڑوں بلکہ ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہوتے ہیں۔ عید الاضحیٰ، عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم، سالانہ تعطیلات یا دیگر مواقع پر یہ طلبہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے طلبہ پانچ سو سے پندرہ سو کلو میٹر یا اس سے بھی زیادہ کا سفر، عموماً ٹرین یا بس کے ذریعے طے کرتے ہیں۔
موجودہ حالات کے پیشِ نظر سفر کے دوران احتیاط اور حفاظت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بعض ناخوشگوار واقعات نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ طلبۂ کرام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے منظم اور مؤثر انتظامات کیے جائیں۔ شریعتِ مطہرہ بھی جان کی حفاظت کو نہایت اہمیت دیتی ہے، لہٰذا اہلِ مدارس اور ذمہ داران پر لازم ہے کہ تعطیلات سے قبل طلبہ کی محفوظ روانگی کے لیے مناسب منصوبہ بندی کریں۔
اس سلسلے میں چند مؤدبانہ تجاویز پیشِ خدمت ہیں:
-
کسی بھی طالبِ علم کو حتی الامکان تنہا سفر پر نہ بھیجا جائے، بلکہ کم از کم چار یا پانچ طلبہ ایک ساتھ روانہ ہوں۔
-
مختلف علاقوں میں جانے والے طلبہ کا روٹ پلان پہلے سے مرتب کیا جائے تاکہ ایک ہی سمت میں جانے والے طلبہ باہم ساتھ سفر کریں۔
-
اگر کسی روٹ پر صرف ایک یا دو طلبہ ہوں تو حتی الامکان ان کے سرپرست یا کوئی ذمہ دار فرد ان کے ساتھ روانہ ہو۔
-
ممکن ہو تو جنرل ڈبے کے بجائے ریزرویشن، خصوصاً محفوظ کوچ میں سفر کا انتظام کیا جائے، کیونکہ جان کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے۔ مانا کہ اے سی ریزرویشن مہنگا ہے، مگر جان سے زیادہ مہنگا نہیں۔
-
ادارے کے ذمہ داران مقامی ریلوے حکام، جی آر پی اور آر پی ایف کے افسران سے ملاقات کر کے طلبہ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی درخواست کریں اور باہمی تعاون کو فروغ دیں۔
-
بڑے دینی اداروں کے ذمہ داران متعلقہ حکام سے مؤدبانہ ملاقات کر کے طلبہ کے تحفظ کے حوالے سے اپنی گزارشات اور تجاویز پیش کریں تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
-
ضرورت محسوس ہو تو ذمہ داران پریس کانفرنس یا میڈیا بریفنگ کے ذریعے نہایت سنجیدہ، مہذب اور تعمیری انداز میں طلبہ کی حفاظت کے مسئلے کو اجاگر کریں، تاکہ متعلقہ ادارے اس جانب مزید توجہ دیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ تمام طلبۂ کرام، اساتذۂ عظام اور تمام مسلمانوں کو ہر قسم کے فتنوں، حادثات اور آفات سے محفوظ رکھے، سفر و حضر میں اپنی امان عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ حکمت، صبر اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق بخشے۔
طلبہ، طالبات اور علمائے کرام سے عرض
یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ دورانِ سفر اپنی حفاظت کی ذمہ داری سب سے پہلے خود ہم پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت ضروری ہے:
-
مذہبی، مسلکی، سیاسی یا سماجی اختلافی بحث و مباحثے سے حتی الامکان اجتناب کریں۔
-
غیر ضروری طور پر ٹرین کے دروازے پر کھڑے ہونے یا خطرناک انداز میں سفر کرنے سے بچیں۔
-
حتی المقدور ساتھیوں کے ساتھ رہیں اور ہر اسٹیشن پر بلا ضرورت ٹرین سے نہ اتریں۔
-
شریعتِ مطہرہ نے جان، مال اور عزت کی حفاظت کی تعلیم دی ہے، لہٰذا ممکنہ حفاظتی تدابیر اختیار کرنا بھی توکل کے منافی نہیں بلکہ اسباب اختیار کرنا سنتِ نبوی ہے۔
-
گھر سے نکلتے وقت اور دورانِ سفر اپنے اہلِ خانہ یا قابلِ اعتماد احباب سے رابطہ رکھیں اور ضرورت کے وقت اپنی لائیو لوکیشن بھی شیئر کرتے رہیں۔
-
ہر وقت چوکنا رہیں، اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں، اجنبی افراد سے مناسب فاصلہ رکھیں اور بلا ضرورت بے تکلفی سے گریز کریں۔
-
علم، حکمت، صبر اور بردباری سے کام لیں۔ بسا اوقات اعتماد، حوصلہ، مناسب اندازِ گفتگو اور ذہنی پختگی بڑے نقصان سے بچا دیتی ہے۔
-
اگر مزید کوئی مفید حفاظتی تدابیر معلوم ہوں تو ان پر بھی ضرور عمل کریں۔
سب سے بڑھ کر اپنا معاملہ اللہ رب العزت کے سپرد رکھیں، کیونکہ حقیقی محافظ، کارساز اور مددگار صرف وہی ہے۔ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے مسنون دعائیں ضرور پڑھیں، خصوصاً:
بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
اور دیگر مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوبِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہم سب کو ہر قسم کے شر، حادثات اور آفات سے محفوظ رکھے، ایمان و عافیت کے ساتھ سفر نصیب فرمائے اور بحفاظت منزل تک پہنچائے۔ آمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ وسلم۔
