| عنوان: | ہندوستان کی مسلمانی ہی نہیں، جمہوریت بھی خطرے میں ہے؟ (قسط: چہارم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی |
| پیش کش: | محمد طارق القادری بنارسی |
| منجانب: | مجمع التصانیف |
(12) مسلمان بڑے سستے داموں میں بکتا ہے۔ ہندوستان کی جمہوریت کے لیے خطرات کی بات کرتے ہوئے اس پہلو پر کچھ لکھنے سے پہلے گردنِ حیا جھک جاتی ہے کہ مسلمان بکاؤ ہے اور بکتا بھی بہت سستے داموں میں ہے۔ ایک سروے کے مطابق مسلم معاشرے کا تقریباً ہر چھٹا انسان انتظامیہ کا مخبر ہوتا ہے۔ اللہ نہ کرے، سو بار نہ کرے، اگر یہ آنکڑا درست ہے تو مسلمانوں کی تباہی کے لیے اور کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، وہ اپنی تباہی کا سامان لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ آثار بتاتے ہیں کہ یہ بات درست ہے۔ حالیہ دنوں میں دلت کمیونٹی کے چند لیڈروں کے ساتھ ایک خفیہ نشست ہوئی جس میں کیمرے وغیرہ پر بھی پابندی تھی۔ مسلم دلت ایکتا کے موضوع پر کافی باتیں ہوئیں لیکن اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جب دوسرے روز ہمارے ملنے والے ایک امام صاحب نے اطلاع دی: کل آپ کی فلاں مکان پر اتنے لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ ہم نے جب حیرت سے دریافت کیا تو بتانے لگے: ہمیں کیوں نہ اطلاع ہو، پولیس کو ایک ایک بات کی اطلاع مل چکی ہوگی، فلاں داڑھی والا نمازی آدمی پولیس کا مخبر ہے۔
سن 2002 کی گجرات بدنامی کے بعد سے اب تک سنگھ پریوار کے ایک مکھیا رہنما کی سرپرستی میں کوئی درجن بھر چھوٹی بڑی مسلم تنظیمیں چل رہی ہیں جن کا اول و آخر مدعا مسلمانوں جیسا نام رکھ کر اسلام کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ ان تنظیموں کو الگ الگ ٹارگیٹ دیے جاتے ہیں۔ کسی کا مقصد عوام میں کنفیوژن پیدا کرنا ہوتا ہے، کسی کا ٹارگیٹ خواص کو حکومت کی جھولی میں ڈالنا، کسی کو یہ ہدف دیا جاتا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف بھونکیں اور کسی کو اس لیے پالا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو رام مندر کے حق میں ہموار کریں۔ قربانی کے موسم میں کیک کی قربانی دینے کی بات سے لے کر واجپئی جی کے لیے قرآن خوانی کرنے تک اور بڑی بڑی کانفرنسوں سے لے کر فرضی تصوف کی آڑ تک سیکڑوں کام ہیں، جو ان تنظیموں سے حسبِ موقع لیے جاتے ہیں۔ مسلم، راشٹریہ، مہیلا، علما، کونسل، آندولن، بورڈ، جمعیت اور منچ جیسے سنہرے ٹائٹلوں کے ساتھ معاشرے میں برسرِ کار ان تنظیموں کی سنگھ سے فنڈنگ جتنی مضبوط ہوتی ہے، ویسے ہی ان کی ایمان فروشی، دیوثی اور منافقت بھی مثالی ہوتی ہے۔ ان تنظیموں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف بولنے کے لیے ٹیلی ویژن اسکرین سے لے کر ہر اسٹیج تک تیار رہتے ہیں لیکن مسلمانوں کی حمایت کا کوئی بیان ان کے بس کا روگ نہیں ہوتا۔ پھر ان تنظیموں میں سب کی کیٹیگری بھی الگ الگ ہوتی ہے، سب سے یکساں کام نہیں لیا جاتا بلکہ جس کی جیسی امیج ہوتی ہے، اس کی خرید و فروخت کا لیول بھی ویسا ہوتا ہے۔ کچھ بڑے میاؤں سے الیکشن میں مسلم ووٹ کی تقسیم کا بھی کام لیا جاتا ہے جو ایک بار اچانک تمام سیٹوں پر الیکشن کا اعلان کرتے ہیں اور پھر مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرح راتوں رات جانے کہاں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ مسلم دلالی کے یہ وہ بدترین نمونے ہیں جس کی ماضی میں کوئی مثال نظر نہیں آتی۔ بے شک انفرادی طور پر مسلم تاریخ میں بڑے عیاش اور بڑے دلال بھی گزرے ہیں جن کی ایمان فروشیوں کی پوری داستانیں رہی ہیں لیکن اجتماعی اور تنظیمی طور پر جو کھیل سن 2002 کے بعد شروع ہوا، اس کی امید نہیں تھی۔ حیران کن پہلو یہ بھی ہے کہ ان مسلم نامی تنظیموں میں سے کچھ تنظیموں کی ویب سائٹس، ویکی پیڈیا پیجز اور ان کے اپنے لیٹر پیڈز پر بھی یہ صراحت رہتی ہے کہ ہمارے سرپرست فلاں مہاشے ہیں۔
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
یہاں تک جن باتوں کا تذکرہ ہوا، مسائل ان کے علاوہ بھی بہت ہیں لیکن یہ وہ مسائل ہیں جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ہندوستان کی جمہوریت کے لیے بھی بڑا خطرہ ہیں۔ اس لیے سب سے پہلے تو اس سلسلے میں یہ پیش رفت کریں کہ ان مسائل میں سے ہمارے بس میں جو بھی مسئلہ ہو، اس کو پورے ما لہ وما علیہ کے ساتھ لے کر آگے بڑھیں، لیکن کبھی بھی تنہا آگے نہ بڑھیں بلکہ دوسرے سیکولر ہم وطنوں کو بھی دوش بہ دوش رکھیں اور دوسری بات یہ خیال میں رکھیں کہ جو بھی اقدام کریں، قانونی دائرے میں کریں، جذبات میں اشتعال نہ پیدا ہونے دیں اور خواہ مخواہ صلاح کو فساد میں تبدیل کرنے کا سبب نہ بنیں کیوں کہ الیکشن قریب ہونے کے ساتھ ہی چند پارٹیوں کو فسادات برپا کرنے کی ضرورت ہوگی، آپ ان کا مہرہ نہ بن جائیں، اس کا خیال ضروری ہے۔
