| عنوان: | طلاق کے عادلانہ اصول (قسط: اوّل) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد نظام الدین رضوی |
| پیش کش: | زہرہ یاسمین |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
نکاح میاں، بیوی کے درمیان ایک خاص قسم کا معاہدہ ہے جس کی وجہ سے عورت کے بہت سے حقوق شوہر کے ذمہ لازم ہو جاتے ہیں مثلاً رہائش کے لیے گھر کا انتظام، پہننے کے لیے لباس اور کھانے، پینے کے لیے غذا وغیرہ کا انتظام، اور اس کے ساتھ حسنِ معاشرت و جنسی حقوق وغیرہ۔
انھیں حقوق اور ذمہ داریوں سے شوہر کے خاص طرح سے سبک دوش ہو جانے کا نام طلاق ہے۔ طلاق کے ذریعہ شوہر عورت کی حق تلفی نہیں کرتا بلکہ اس کے حقوق سے اپنے آپ کو آزاد کر لیتا ہے، اس لیے اسلام نے طلاق کا اختیار شوہر کے ہاتھ میں دیا ہے۔
طلاق بحیثیت استعفا:
کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی تنظیم، تحریک، کمپنی، ادارے یا پارٹی کی رکنیت یا کوئی ذمہ داری قبول کر کے اس کی فلاح و بہبود اور ترقی و فروغ کے لیے کام کرنے کا معاہدہ کرتا ہے پھر اسے کوئی شکایت ہوتی ہے تو اسے اختیار ہوتا ہے کہ استعفا دے کر اس تنظیم یا تحریک وغیرہ کے حقوق اور ذمہ داریوں سے اپنے کو آزاد کر لے اور آئے دن ایسا ہوتا بھی رہتا ہے۔ کوئی صاحبِ عقل و بصیرت اسے پارٹی یا تنظیم وغیرہ کی حق تلفی نہیں تصور کرتا، نہ اسے حقوقِ انسانی کی پامالی سمجھتا ہے کہ یہ تو اپنے ذمہ عائد ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو سبک دوش اور آزاد کرنا ہے، اس کا کسی کے حق کی پامالی سے کیا تعلق؟ اسی لیے ہر پارٹی اور ہر تنظیم وادارہ کے دستور میں اسے پارٹی اور تنظیم کو چھوڑنے کا اختیار ہوتا ہے۔
اس مثال کی روشنی میں طلاق کے حق کو بھی سمجھنا چاہیے کہ یہ شوہر کی طرف سے ایک طرح کا استعفا ہے لہذا، اسے کسی انسانی حق کی پامالی نہیں سمجھنا چاہیے اور یہاں میرا مقصود بس اسی کی تفہیم ہے۔
طلاق ایک فطری ضرورت:
قرآنِ حکیم کی بہت سی آیات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کثیر احادیث میں طلاق کا ذکر ملتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ خداے پاک کا قانون ہے جو انسانیت سے بہت ہم آہنگ اور فطری تقاضوں کے مطابق ہے۔ عقلِ سلیم یہ باور کرتی ہے کہ جب میاں، بیوی کے درمیان رنجش اس حد کو پہنچ جائے کہ دونوں میں نباہ کی گنجائش نہ رہ جائے تو دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو کر چین و سکون کی زندگی بسر کرنے کے راستے اپنا سکتے ہیں اور اس جدائی کا راستہ طلاق ہے۔
اگر ایسا نہ ہو تو دونوں ایک دوسرے کے لیے الگ الگ حالات میں وبالِ جان اور سوہانِ روح بن سکتے ہیں۔ بیوی کو اگر شوہر کسی وجہ سے نامنظور ہو، اور اس کے مذہب میں چھٹکارا پانے کی کوئی راہ نہ ہو تو وہ مجبور ہو کر شوہر کی زندگی کا بلکہ کبھی کبھی اپنی بھی زندگی کا فیصلہ کر لیتی ہے۔ یوں ہی اگر شوہر کو یہ معلوم ہو کہ اس کے مذہب میں اس کی ظالم بیوی سے چھٹکارے کی راہ بند ہے تو وہ بھی کچھ اسی طرح کا اقدام کر سکتا ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے، اخبارات میں اس طرح کی خبریں برابر شائع ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن جب انھیں یہ یقین ہوگا کہ ہمارے مذہب میں تعلقات کی خرابی کی صورت میں نکاح کے بندھن کو کھول کر آزاد فضا میں سانس لی جا سکتی ہے تو وہ ایک دوسرے کی زندگی کو برباد کرنے کے بجائے وہی راستہ اپنائیں گے جس میں دونوں کے لیے عافیت اور سلامتی ہو۔ اسلام کے اس فطری نظام کے خلاف آواز اٹھانا، یا اس کو ختم کرنے کے لیے کورٹ کا سہارا لینا دانشمندی کی بات نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ یہ دینِ فطرت کے خلاف بڑا ہی غیر منصفانہ اقدام ہے۔
ایک ساتھ تین طلاقیں اور ان کا حکم:
طلاق اسلام میں ناپسندیدہ امر ہے مگر کچھ خاص مجبوریوں کی صورت میں اس کی اجازت بھی ہے اور ایک ساتھ تین طلاقیں دینا تو ایک طرح کا مجرمانہ عمل و گناہ بھی ہے تاہم طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں۔ گناہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ طلاقیں نہیں پڑیں یا، ایک ہی طلاق پڑی۔ جیسے کسی کو ناحق پتھر مارنا ایک مجرمانہ عمل اور گناہ ہے تاہم کوئی مارے گا تو مار کھانے والے کو چوٹ ضرور لگے گی اور تین پتھر مارے گا تو تین چوٹیں لگیں گی اور یہ کہہ کر اسے نہیں ٹالا جا سکتا کہ مارنے والے نے نادانی کی ہے یا گناہ کیا ہے اس لیے مار کھانے والے کو چوٹ نہیں لگی، یا ایک ہی چوٹ لگی۔ یا کسی کو شراب پلانا، زہر کھلانا بھی بلا شبہ حرام و گناہ اور نادانی کا کام ہے مگر صرف اس وجہ سے ان کو بے اثر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ حرام و گناہ ہیں اور اسلام ان کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام میں ان کی ممانعت یا اُن کا حرام و گناہ ہونا اپنی جگہ حق و درست ہے مگر ان کے برے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، یا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تین بار زہر کا گھونٹ پینے سے صرف ایک بار اثر ہوگا اور شراب کے تین گھونٹ حلق سے اتارنے پر صرف ایک گھونٹ اپنا کرشمہ دکھائے گا۔
اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی کو گالی دینا حرام و گناہ ہے، اسلام نے اس سے سخت ممانعت فرمائی ہے تاہم اگر کوئی کسی صاحبِ عزت و وجاہت انسان کو ایک ساتھ تین بار گالیاں دے دے تو اس کا شیشۂ دل اس سے ضرور زخمی ہوگا اور ایک بار نہیں، تین تین بار زخمی ہوگا، یہ الگ بات ہے کہ وہ دیکھنے کی چیز نہیں اس لیے اس کا مشاہدہ نہیں ہو سکتا۔ اب کوئی یہ کہے کہ ان سب گالیوں میں ضرب کاری کی تاثیر کہاں، کسی ایک گالی سے کچھ ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کے لیے خدا سے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔
الغرض اگر یہ طرزِ فکر غیر دانشمندانہ اور غیر منصفانہ ہے اور تقاضائے فطرت کے خلاف ہے تو تین طلاقوں کے بارے میں وہ بات بھی غیر دانشمندانہ اور تقاضائے فطرت کے خلاف ہے۔
ائمہ کا اجماع:
احادیثِ نبویہ یہاں تک کہ احادیثِ صحیح بخاری بھی شاہد ہیں کہ تین طلاقیں دینے سے تینوں واقع ہو جاتی ہیں، قرآنِ حکیم کا فرمان بھی یہی شہادت دیتا ہے اور اسی پر ہمارے چاروں مذہب کے اماموں (امامِ اعظم ابوحنیفہ، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم) اور ان ماننے والے کروڑہا کروڑ بے شمار مسلمانوں کا اتفاق و اجماع بھی ہے۔ اس لیے اس کے خلاف کوئی اقدام مسلم پرسنل لا میں صریح مداخلت اور نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کے بے شمار مسلمانوں کی دل آزاری ہے۔ اگر کچھ خواتین اس طرح کی آواز اٹھاتی ہیں تو اربابِ فہم و دانش کو انھیں سمجھانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ معاشرے میں سب یکساں نہیں ہوتے، اللہ نے پانچوں انگلیاں برابر نہیں رکھیں، اس لیے ہماری حکومت اور ہمارے فاضل جج اِن باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں۔ باتیں سب کی سنی جاتی ہیں مگر فیصلہ وہ کیا جاتا ہے جو اربابِ دانش کے دل کی آواز اور بالخصوص آسمانی مذہب کا پاسبان ہو۔
