طولِ غمِ حیات سے گھبرا نہ اے جگر

طولِ غمِ حیات سے گھبرا نہ اے جگر
عنوان: طولِ غمِ حیات سے گھبرا نہ اے جگر
تحریر: محمدثاقب نظامی

شہریت ترمیمی بل اور ریاستی جبر

شہریت ترمیمی بل پاس ہو جانے کے بعد ملک کے متعدد مقامات، بالخصوص دہلی، لکھنؤ، بنارس، اورنگ آباد وغیرہ جن عظیم ہلاکتوں، بربادیوں اور قیامتوں سے گزر رہے ہیں، اور جس جارحانہ و مجنونانہ انداز میں رقصِ ابلیس ہوا اور وقفے وقفے سے یہ سلسلۂ جنون اب بھی جاری ہے، جس میں تقریباً ہر جگہ علی العموم پولیس انتظامیہ نے جس جانبداری، بے رحمی اور مسلم دشمنی کا مظاہرہ کیا، اور جامعہ میں قاتلوں، ڈاکوؤں اور بدمعاشوں نے پولیس کی وردی پہن کر طلبہ و طالبات کی جان و ناموس کے ساتھ جو سلوک کیا اور بے دردی کا جو انداز اختیار کیا، اس نے جرمنی کے نازیوں کو بھی شرمندہ کر دیا ہے، جس کے لیے اب کسی گواہی یا ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

ہندوستان میں اقلیتوں کی بربادی کی یہ پہلی مثال نہیں، بلکہ تقسیمِ ملک کے بعد ہی سے پورے ملک میں فرقہ پرستوں نے مظلوم اقلیت کے لیے چھوٹے بڑے اتنے کربلا برپا کیے ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔

حکومتی پالیسیاں اور مسلم نوجوانوں کی بے چینی

امت شاہ اور نریندر مودی نے شہریت ترمیمی بل پاس کر کے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے، وہیں دوسری طرف ہندو مذہب اور ہندوؤں کو بھی پوری دنیا میں ذلیل و رسوا کر دیا ہے اور ملک سے باہر رہنے والے تمام ہندوؤں کے لیے بھی بڑی مشکلات کھڑی کر دی ہیں، جن کا احساس انہیں بہت جلد ہو جائے گا۔

آج اقلیت کا نوجوان طبقہ بری طرح جھنجھلایا ہوا ہے۔ چاروں طرف اپنی بربادی کا منظر دیکھ کر اس کا خون کھولنے لگا ہے۔ مسلم نوجوان اپنے علما کو جھنجھوڑتا ہے اور بے چینی سے پوچھتا ہے کہ آخر آپ لوگ جہاد کا حکم کیوں نہیں دے دیتے، تاکہ آر ایس ایس اور پولیس انتظامیہ کے ہاتھوں مرنے کے بجائے غازی یا شہید ہو کر مرا جائے۔

خوف کے ماحول میں حکمت عملی اور قرآنی تعلیمات

پورے ہندوستان میں اقلیت اس وقت خوف و دہشت کی کیفیت میں ہے اور اپنے آپ کو بے یار و مددگار تصور کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں نہ گھبرانے کی ضرورت ہے اور نہ ذہنی انتشار و ڈپریشن میں مبتلا ہونے کی، کیونکہ اس سے قوتِ فیصلہ مفلوج، اقدامی صلاحیت کمزور اور دل و دماغ مضمحل و پژمردہ ہو جاتے ہیں۔

بلکہ ہمیں ہمت و جرأت، حوصلہ و امنگ اور اولوالعزمی کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اتحاد و اتفاق اور اطاعتِ خداوندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر سیرتِ نبوی ﷺ اور تعلیماتِ قرآنی کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے، اور اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں اور پروپیگنڈوں کا اشتعال انگیزی کے بجائے حکمتِ عملی کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہیے۔

امید کی کرن اور روشن صبح کا یقین

ان شاء اللہ حالات خود بخود بدل جائیں گے اور دشمن بھی سپر ڈال دیں گے، کیونکہ ہر عروج کو زوال، ہر ترقی کو تنزلی، اور ہر شام کے بعد سحر یقینی ہے۔

طولِ غمِ حیات سے گھبرا نہ اے جگر
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہیں

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!