| عنوان: | کہانیاں پڑھ کر رونے والے ہم حساس لوگ |
|---|---|
| تحریر: | محمد ثاقب نظامی |
حساسیت اور زندگی کا تضاد
کہانیاں پڑھ کر رونے والے ہم حساس لوگ
زندگی کی تلخیوں کو ہنس کر جھیلتے ہیں۔
یقیناً ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم اتنے حساس ہیں کہ غمناک کہانیاں ہمیں نمناک کر دیتی ہیں، درد بھری داستانوں سے ہماری آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف ہم اتنے متین بھی ہیں کہ اپنی زندگی کی تلخیوں کو ہنس کر جھیلتے جاتے ہیں۔
تلخیاں: ایک الٰہی نعمت
میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ پروردگار اگر اس نعمت سے ہمیں نہ نوازتا تو ہماری زندگی دوبھر ہو جاتی اور جینا محال ہو جاتا، کیونکہ انسانی زندگی تکالیف اور تلخیوں سے بھری پڑی ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ انسانی زندگی میں تلخیوں کی حیثیت آگ جیسی ہے۔
کردار کا نکھار اور کامیابی کی منزل
جس طرح آگ سونے اور چاندی کو تپا کر خالص اور کارآمد بنا دیتی ہے، اسی طرح تلخ تجربات انسان کی اصلاح کرتے ہیں، اس کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتے ہیں اور اس کے کردار میں چمک پیدا کر دیتے ہیں۔
میں نے دیکھا ہے کہ سونے اور چاندی کو آگ کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے، تب جا کر ان کی اصل قدر و قیمت ظاہر ہوتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم زندگی کی تلخیوں کو صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کریں اور اپنی منزلِ مقصود کی طرف گامزن رہیں۔ پھر یقیناً کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔
