دنیا اور آخرت کا امتحان

آمدِ امتحان۔۔۔ ایک لمحۂ فکریہ
عنوان: آمدِ امتحان۔۔۔ ایک لمحۂ فکریہ
تحریر: محمدثاقب نظامی

امتحانات کی آمد اور وقت کی اہمیت

امتحانات کی آمد آمد ہے۔ ان دنوں پورے ہندوستان میں امتحان کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ کوئی علی الصبح ہی امتحان کی تیاری شروع کر دیتا ہے، تو کوئی پوری رات جاگ کر "مَنْ طَلَبَ الْعُلَا سَهِرَ اللَّيَالِي" کا مصداق بنتا نظر آ رہا ہے۔ الغرض، اس وقت ہر طالب علم نفسیاتی دباؤ میں مبتلا ہے۔

جیسے جیسے امتحان کا وقت قریب ہوتا جا رہا ہے، طلبہ کو وقت کی اہمیت بھی سمجھ میں آتی جا رہی ہے۔ عربی کا ایک بہت ہی مشہور مقولہ ہے:
"الوقت أثمن من الذهب"
یعنی وقت سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ اس مقولے کا صحیح مفہوم اب طلبہ کو سمجھ میں آ رہا ہے۔ ہر طالب علم اب تک ضائع ہو جانے والے اپنے اوقات کی تلافی میں کوشاں ہے۔

دنیاوی امتحان اور اخروی امتحان کا موازنہ

لیکن یہ ہم طلبہ کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ جب ہم دنیاوی امتحان کے لیے اتنی محنت کرتے ہیں، جس کا نتیجہ صرف ایک کاغذ (سند) اور چند واہ واہیاں ہوتی ہیں، تو ہمیں اس امتحان کے لیے کتنی محنت کی ضرورت ہے جس کا نتیجہ جنت یا جہنم ہے۔

یہ دنیا ہمارے لیے ایک امتحان گاہ ہے۔ دنیا فانی ہے اور آخرت کی زندگی ہمیشہ رہنے والی ہے۔ حقیقی خوش نصیب وہ ہے جس نے دنیا میں رہتے ہوئے اچھے اعمال کے ذریعے اپنی آخرت سنوار لی۔

دنیاوی لذتوں کا فریب اور مقصدِ حیات

اللہ تعالیٰ کے احکامات اور نبی اکرم ﷺ کی سنتوں سے غفلت ہمیں گمراہی کے گہرے گڑھوں میں دھکیل رہی ہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کوئی ذی روح بچ نہیں سکتا، اور اگلے لمحے کا کسی کو کوئی علم نہیں۔ اس کے باوجود ہم اخروی زندگی کی تیاری کے بجائے ہر وقت دنیا کی دولت اور لذتیں جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر دنیا کے چند دن ہم نے عیش و عشرت میں گزار کر آخرت کے عذاب کو خرید لیا، تو ہم نے بہت بڑا خسارہ مول لیا۔

اگر کسی بچے سے کہا جائے کہ ہم تمہیں ایک لالی پاپ دیتے ہیں، اسے کھا لو، لیکن اس کے بعد تمہیں چند تھپڑ ماریں گے، تو ایک چھوٹا سا بچہ بھی اس پر راضی نہیں ہوگا۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم دنیا کے اس لالی پاپ پر اتنے فریفتہ ہو گئے ہیں کہ اسے حاصل کرنے میں مشغول ہیں، اور اس حقیقت کو بھول گئے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو آخرت میں عذاب کے فرشتے ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔

دعائیہ کلمات اور حاصلِ کلام

دنیا کی رونقوں میں گم ہو کر ہم اپنی تخلیق کا مقصد ہی بھول گئے ہیں۔ ہمیں یہ بھی یاد نہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں جنت سے دنیا میں بھیجا تھا تو یہ ہدایت دی تھی کہ نیک اعمال کے ذریعے دوبارہ جنت کے مستحق بننا ہے۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر من و عن عمل کر کے جنت کے حصول کی جدوجہد کے لیے دنیا میں آئے ہیں۔ ہمارا اصل گھر تو جنت ہے، جہاں اعلیٰ سے اعلیٰ مقامات ہیں، جنہیں ہمیں بہترین اعمال کے ذریعے حاصل کرنا ہے۔

مگر بدنصیبی کا عالم یہ ہے کہ ہم اپنے مقصدِ حیات کو بھول کر دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں، اور یہاں اپنے دل کو اس قدر لگا لیا ہے کہ ہماری تمام سوچ اور ساری کوششیں اسی دنیا تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!