| عنوان: | اسلام اور ردِ الحاد |
|---|---|
| تحریر: | بنتِ اصغر علی |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اسلام ایک مکمل دین ہے جو انسان کی عقلی، روحانی اور عملی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا فرمایا اور اس کے ذرّے ذرّے میں اپنی ذات و صفات کی روشن نشانیاں رکھ دیں۔ آسمانوں کی وسعت، زمین کی مضبوطی، سورج اور چاند کا مقررہ نظام، دن اور رات کی مسلسل گردش—یہ سب اس بات کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ یہ کائنات کا منظم نظام کسی اندھے اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عظیم، اور قادر ہستی کی تخلیق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف آنکھ، کان اور دل ہی عطا نہیں کیے بلکہ عقل کا وہ نور بھی بخشا جس کے ذریعے وہ کائنات کی نشانیوں سے خالقِ کائنات تک پہنچ سکتا ہے۔ نبوت و رسالتﷺ کے ذریعے وحی کی صورت میں رہنمائی عطا فرمائی گئی کہ انسان غور و فکر کے ذریعے حق کو پہچان سکے اور گمراہی کے اندھیروں سے محفوظ رہے۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس عالم میں ہر چیز اپنے وجود کے لیے کسی نہ کسی علت اور سبب کی محتاج ہے۔ مٹی، پانی، ہوا اور آگ—سب اسباب کے تابع ہیں۔ جب عقل ان اسباب کے سلسلے پر غور کرتی ہے تو یہ لازماً کسی ایسی ذات پر جا کر ختم ہوتا ہے جو خود کسی سبب کی محتاج نہ ہو، جو ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہو۔ وہ ذات واجب الوجود ہے، یعنی جس کا ہونا لازم، ازلی اور ابدی ہے، اور وہی اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔
انسان اپنی عقل سے سوچتا ہے اور اپنی فطرت سے محسوس کرتا ہے کہ جس نے زمین کو بچھایا، آسمانوں کو بلند کیا، پہاڑوں کو جما دیا، درختوں کو اگایا اور پوری کائنات کے نظام کو کامل طریقے سے چلایا—آخر وہ کوئی تو ہے۔ اسلام واضح طور پر بتاتا ہے کہ وہ ذات اللہ تعالیٰ ہے، جو اس کائنات کا خالق بھی ہے اور مالک بھی۔ اسی کے حکم سے دنیا قائم ہے اور اسی کے چلانے سے نظامِ عالم رواں دواں ہے۔
اس کے برخلاف الحاد ایک ایسا نظریہ ہے جو خدا کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ ملحدین کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ کائنات خود بخود وجود میں آ گئی، اس کا کوئی خالق نہیں، یہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی، نہ قیامت آئے گی، نہ حساب و کتاب ہوگا اور نہ جزا و سزا کا کوئی تصور باقی رہے گا۔ یہ نظریہ نہ عقل کے میزان پر پورا اترتا ہے اور نہ ہی فطرتِ انسانی اسے قبول کرتی ہے۔
قرآنِ مجید الحاد کے اس باطل نظریے کو نہایت سادہ مگر فیصلہ کن انداز میں رد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ (الطور: 35)
ترجمہ کنزالعرفان: کیا وہ کسی شے کے بغیر ہی پیدا کر دیے گئے ہیں یا وہ خود ہی اپنے خالق ہیں؟
یہ آیت انسان کو جھنجھوڑ کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیا کوئی مخلوق خود کو خود پیدا کر سکتی ہے؟ یا کیا بغیر کسی خالق کے وجود میں آنا ممکن ہے؟ عقلِ سلیم صاف فیصلہ کرتی ہے کہ یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔ لہٰذا ماننا ہی پڑتا ہے کہ ایک خالق ضرور موجود ہے، اور وہ خالق صرف اور صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہے۔
کائنات کا منظم نظام خود اپنے خالق کی شہادت دے رہا ہے۔ دن اور رات کا اپنے مقررہ وقت پر آنا جانا، سورج کا طلوع ہونا اور چاند کا غروب ہونا، زمین سے سبزہ اگنا، آسمان سے بارش کا نازل ہونا، اور ماں کے شکم میں ایک بے جان نطفے کو زندہ انسان میں تبدیل کر دینا—یہ سب اس حقیقت کی روشن دلیلیں ہیں کہ کوئی عظیم و حکیم ذات اس نظام کو چلا رہی ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَاب (آلِ عمران: 190)
ترجمہ کنز العرفان: بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلی میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔
یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے منظم نظام میں عقل رکھنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیت کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں۔ آج انسان سائنس کے ذریعے اپنی عقل کو پرکھ رہا ہے اور بعض اوقات خالق کے وجود کا انکار کر بیٹھتا ہے، حالانکہ اگر وہ ذرا ٹھہر کر غور کرے کہ اسے کس نے پیدا کیا، تو خود اس کا وجود اسے اس سوال کا جواب دے دے گا کہ یقینا کوئی ایسی ذات ہے جس نے اس سارے عالم کو وجود بخشا، اور وہ ذات صرف ربِّ قدیر ہے۔
اسلام عقل اور وحی دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ وہ انسان کو اندھی تقلید سے بچاتا ہے اور مضبوط اور کامل ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ الحاد کا نظریہ نہ عقل کو حقیقی اطمینان دے سکتا ہے اور نہ ہی انسان کے پیدا کردہ سوالات کا جواب دے سکتا ہے، جبکہ اسلام اور قرآن کائنات، انسان اور زندگی کے ہر سادہ سوال کا بھی اطمینان بخش جواب دیتا ہے۔
اس مضمون کا لبِ لباب یہی ہے کہ کائنات کا ایک خالق ہے، وہی اس کا چلانے والا ہے، اور وہ ذات اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ اسی پر ایمان انسان کو حقیقی مقصدِ حیات عطا کرتا ہے اور اسی کی معرفت انسان کو اپنے رب حقیقی تک پہنچاتی ہے۔
اللہ رب العزت ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
