دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سوچوں کا سفر

سوچوں کا سفر
عنوان: سوچوں کا سفر
تحریر: عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی

کتنا حسین ہوتا ہے نہ؟ یہ سوچوں کا سفر۔ انسان سوچوں کے سفر میں سوچتے سوچتے ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ باتیں بھی جنم لیتی ہیں جو حقیقت میں ممکن نہیں ہوتیں۔ یعنی ایسا زندگی میں کبھی ہو تو نہیں سکتا، لیکن جب وہ خیالات دل و دماغ میں اترتے ہیں تو کیفیت بالکل بدل جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس خیالی سفر کی ہر ایک منزل دوسری سے زیادہ خوبصورت ہے۔

یہ سفر لفظ ”کاش“ سے شروع ہوتا ہے، آگے بڑھتا ہے، چلتے چلتے آخر کار دوبارہ لفظ ”کاش“ پر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ اس دوران انسان اپنے ارد گرد کی دنیا بھول جاتا ہے، بس اپنے دل و دماغ کے ساتھ ایک انوکھی راہ پر چلتا رہتا ہے اور اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ اور اپنی خوبصورت سوچوں کو جوڑتے جوڑتے اچھی کہانیاں بنایا کرتا ہے۔

جب ایک کہانی مکمل ہوتی ہے اور یہ سفر اختتام کو پہنچتا ہے تو پھر اس کا دل کہتا ہے: کتنا اچھا ہوتا نہ اگر ایسا ہو جاتا۔۔۔ مگر پھر کاش!

پس بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ، جو اپنے خوابوں کی دنیا اور اپنی سوچوں کے اس سفر میں چلتے چلتے اس کو حقیقی زندگی میں ڈھال لیتے ہیں اور حقیقت میں وہ سب کر دکھاتے ہیں جو انہوں نے سوچا ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ بہترین سوچ رکھنی چاہیے۔

یہ وہ سوچ ہے جو مستقبل کی طرف اشارہ کرتی ہے، کیوں کہ مستقبل ہی کی سوچ تو اصل خوشیوں کا سرچشمہ ہے۔ ورنہ ماضی کی سوچ میں تو غم، خوشیاں، مشکلات، آسانیاں، سب کچھ ہوتا ہے۔

اکثر ان سوچوں کے سفر میں جب کوئی خوبصورت سا خیال دل میں آتا ہے تو چہرے پر انجان سی مسکان پھیل جاتی ہے اور یہ چھپی چھپی مسکراہٹ اس لیے تاکہ دیکھنے والا پاگل نہ کہہ دے؛ کیوں کہ یہ ہر شخص نہیں محسوس کرتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پاگل پن ہے اور پاگل ہی شخص کی لکھی ہوئی کوئی کہانی ہے مگر۔۔۔ پوائنٹ سمجھیں!

یہ صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اپنی سوچوں کے سفر میں چل رہا ہے، یہ اسے محسوس ہوگا جو تنہائیوں میں رہتا ہے اپنی تنہائی کو پسند بھی کرتا ہے۔

یہ سوچ ایک بہترین ہنر ہے۔ ایسا، جو انسان کو زندگی کے سفر میں تنہائی کے باوجود جینے کا ذوق عطا کرتا ہے۔ ساتھ ہی زندگی کی بڑی بڑی مشکلات میں بھی لذت محسوس کرنے سے نہیں روکتا۔

تو اسی لیے سوچیں مگر اچھے سے اچھا سوچیں۔ کیوں کہ یہی سوچ انسان کے اندر کے خالی پن کو معنی دیتی ہے، سوچ ہی زندگی کا رخ بدلتی ہے، سوچ ہی خوابوں کو حقیقت کا رنگ دیتی ہے، سوچ ہی انسان کو اس کے مقدر تک پہنچاتی ہے اور وہ بناتی ہے جو وہ بننا چاہتا ہے۔ پس اپنی سوچ کو خوبصورت بنائیں، امید اور روشنی سے بھرپور رکھیں۔

Think positive, be positive.

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔