دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

علم نحو کی اہمیت و ضرورت

علم نحو کی اہمیت و ضرورت
عنوان: علم نحو کی اہمیت و ضرورت
تحریر: محمد ریحان عطاری مدنی مرادآبادی
پیش کش: دار النعیم آن لائن اکیڈمی، مرادآباد

علم نحو تمام علوم عربیہ کا ایسا محکم ستون ہے جس پر پورے علوم عربیہ کی عمارت قائم ہے۔ یہ وہ اعلیٰ قانون ہے جس کے بغیر عربی علوم کے مقدمات حل نہیں ہو سکتے۔ عربی کے بڑے بڑے دقیق اور مشکل مسائل کو سلجھانے کے لیے اسی علم سے مدد لی جاتی ہے اور اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ کوئی بھی علم خواہ وہ کتنا ہی وسیع کیوں نہ ہو علم نحو کے بغیر مستقل حیثیت نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی اس کی رہنمائی کے بغیر علوم کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔

اگرچہ علوم نقلیہ اپنی جگہ عظیم الشان ہیں، لیکن ان کے حقائق و معانی تک رسائی اور ان کے اسرار و دقائق کا ادراک بھی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کلام الٰہی کی سمجھ، تفسیر کے نکتے، احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم، عقائد کے مباحث، فقہی مسائل اور شرعی احکام کا شعور سب کا دار و مدار علم نحو پر ہے۔ اس قدر گفتگو کے بعد علم نحو کی اہمیت خوب واضح ہو جاتی ہے، لیکن مزید اعتبار سے آئیے سلف صالحین کے اقوال سے اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں۔

ابو البرکات کمال الدین بن محمد انباری ”لمع الأدلۃ فی أصول النحو“ میں ذکر کرتے ہیں کہ تمام ائمہ سلف کا اس پر اجماع ہے کہ مرتبہ اجتہاد کے لیے علم نحو شرط ہے۔ کوئی شخص تمام علوم حاصل کر لے، مگر علم نحو میں مہارت نہ ہو تو وہ مرتبہ اجتہاد تک نہیں پہنچ سکتا۔ پس مرتبہ اجتہاد بھی علم نحو ہی پر موقوف ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

تَعَلَّمُوا النَّحْوَ كَمَا تَعَلَّمُونَ السُّنَنَ وَالْفَرَائِضَ

ترجمہ: ”نحو بھی ویسے ہی سیکھو جیسے سنن اور فرائض سیکھتے ہو۔“ یہ تنبیہ اس حقیقت پر ہے کہ نحو کا سیکھنا دین کا بنیادی تقاضا ہے، کوئی اضافی یا محض اختیاری علم نہیں۔

امام بیہقی رحمہ اللہ ”شعب الایمان“ میں امام شعبہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ: ”جب طالب علم حدیث نحو نہ جانے تو وہ ایسے گدھے کی مانند ہے جس پر تھیلا تو لدا ہو مگر اس میں آٹا نہ ہو۔“

اسی مفہوم کو امام صنعانی رحمہ اللہ ”توضیح الأفکار“ میں اشعار کی صورت میں لکھتے ہیں:

مَثَّلُوا طَالِبَ الْحَدِيثِ وَلَا يُحْسِنُ نَحْوًا وَلَا لَهُ آلَاتُ
كَحِمَارٍ قَدْ عُلِّقَتْ لَيْسَ فِيهَا مِنْ شَعِيرٍ بِرَأْسِهِ مِخْلَاةُ

امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”علم نحو حاصل کرو، کیوں کہ یہ ذلیل کے لیے عزت اور اسے چھوڑ دینا عزت والے کے لیے ذلت ہے۔“

واضع نحو

امام النحو، اول علمائے نحو ابو الاسود دؤلی رحمہ اللہ ہیں۔ آپ تابعین کے اکابر میں سے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اصحاب میں شمار ہوتے تھے۔ جب اہل علم نے دیکھا کہ لوگ عربی کو عجمی الفاظ کے ساتھ خلط ملط کر رہے ہیں اور لسان عرب کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابو الاسود دؤلی کو نحو مدون کرنے کا حکم دیا اور کچھ اصول لکھ کر دیے کہ انہی کی بنیاد پر دیگر اصول مرتب کر دیں یوں علم نحو کی تدوین کا آغاز ہوا۔

لیکن یہ ذہن نشیں رہے کہ علم نحو صرف عربی زبان تک محدود نہیں، جس کو اخلاط و تخلیط سے بچانے کے لیے علم نحو کو مدون کیا گیا بلکہ دنیا کی ہر زبان کے قواعد میں نحو کے اصول کسی نہ کسی درجے میں کارفرما ہوتے ہیں۔ کوئی بھی قوم اور کوئی بھی زبان قواعد کے نظام کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی، اگرچہ بعض قواعد میں اختلاف ضرور ہوتا ہے۔

ایک اہم فریضہ، کیوں ضروری؟

ہم مسلمانوں پر علم نحو کا حاصل کرنا فرض کفایہ ہے، کیوں کہ قرآن کریم بھی عربی میں نازل ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اپنی گفتگو میں اسی فصیح زبان کا استعمال فرمایا۔ لہٰذا احکام قرآنیہ، احادیث نبویہ، فقہی احکام اور دینی علوم کو سمجھنا انہی قواعد نحو و ادب پر موقوف ہے۔

اسی لیے ہر طالب علم پر ضروری ہے کہ علم نحو کی تحصیل میں پوری کوشش کرے، پوری محنت لگائے اور اس میدان میں ہرگز سستی نہ کرے۔ یہی علم اسے قرآن و سنت کے معانی تک صحیح معرفت کے ساتھ پہنچاتا ہے۔

علم نحو محض قاعدوں کا علم نہیں، بلکہ قرآن و حدیث کی فہم کی چابی ہے، علما کی میراث ہے، اجتہاد کا راستہ ہے اور اسلامی علوم کی روح ہے۔ جو اس علم میں مہارت حاصل کرتا ہے وہ دین کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے اور جو اس سے غفلت کرتا ہے وہ بنیادی فہم سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔

اللہ ہمیں علم نحو، اس کی قدر، حسن استعمال اور اس کے فیوضات سے حصہ عطا فرمائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔