Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

موبائل فون اور ہمارے معاشرتی تعلقات

موبائل فون اور ہمارے معاشرتی تعلقات
عنوان: موبائل فون اور ہمارے معاشرتی تعلقات
تحریر: افضل رضا قادری عطاری
پیش کش: جامعۃ المدینہ فیضان مخدوم لاھوری، موڈاسا، گجرات

آج ہمارے معاشرے میں موبائل فون کی وبا عام ہو چکی ہے۔ اس فوائد سے انکار نہیں لیکن اس کے نقصانات بھی ایسے شدید اور خطرناک ہیں کہ اہل دانش ان سے حفاظت کی حتمی تدابیر کے بارے میں حیران و پریشاں نظر آتے ہیں۔ چند انچ کے اس چھوٹے سے آلے کے نقصانات اتنے بڑے ہیں کہ ان کے بیان کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ اس مضمون میں ہم موبائل فون کے ایک نہایت ہی المناک اور بے حد تشویشناک منفی اور مضر اثر کے متعلق گفتگو کریں گے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جو محبت، اپنائیت اور خلوص پہلے لوگوں کے درمیان پایا جاتا تھا، وہ آج ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ اگر آج بھی کبھی کبھار میل ملاقات یا کسی نشست و مجلس کا اہتمام ہو جاتا ہے تو اس محفل کی اصل روح یعنی باہمی محبت ہم نے فون کے سپرد کر دی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایسی مجالس میں فون کی کشش کو پسِ پشت ڈال دیتے، لیکن افسوس کہ فون کی محبت ہی ہمارے دلوں پر غالب آ چکی ہے۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ہم آمنے سامنے بیٹھ کر گفت و شنید کریں، ایک دوسرے کے مسائل سنیں اور مل جل کر ان کا حل تلاش کریں، مگر اس آلے نے اس خوب صورت روایت کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔

یہ منظر اب عام ہو چکا ہے کہ کوئی شخص ملاقات کے لیے آئے تو سلام و دعا کے چند لمحوں بعد ہی سب اپنے اپنے فون میں گم ہو جاتے ہیں، جو اس وقت ”أوقع في القلب“ بن چکا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب فون کے سمندر میں غرق ہو گئے ہوں اور اس سے نکلنے کا انہیں کوئی ہوش ہی نہ ہو۔

یہ صورتِ حال ہماری باہمی محبت ساتھ ساتھ ہماری انسانیت کو بھی نگلتی جا رہی ہے۔ آج نہ ہمارے پاس دوست و احباب کے لیے وقت ہے، نہ بزرگوں کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی فرصت، تاکہ ہم اپنی زندگی کو بہتر انداز میں سنوار سکیں۔ فون سے ہماری وابستگی اس قدر شدید ہو چکی ہے کہ اپنوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ہم گویا معدوم ہو گئے ہیں۔ نہ والدین کے پاس بیٹھنے کا وقت ہے، نہ خانۂ خدا میں دل لگانے کی فرصت، اور نہ ہی کسی مخلص، نیک اور پرہیزگار دوست کی صحبت میسر آتی ہے۔

قارئین محترم! آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ موبائل کے کثیر منفی اثرات کے درمیان ذکر کردہ منفی اثر نا قابل انکار حقیقت ہے۔ ہمیں ایک اچھا معاشرہ بنانے کے لیے اس سے نجات کی سخت حاجت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھر، سوسائٹی، محلے اور علاقے میں ایسا ماحول بنائیں کہ اس آفت سے نجات مل سکے۔ روزانہ ہی کچھ ایسا وقت مقرر کرلیا جائے جس میں موبائل فون کا بالکل استعمال نہ ہو۔ اگر ایسا وقت اپنے گھر والوں، دوست و احباب سبھی کے لیے نکال لیا جائے تو یہ موبائل فون کے استعمال کے کثیر برے نتائج سے خلاصی میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔

اور اخیر میں تمام قارئین کو بالجملہ موبائل فون کے مثبت استعمال کی دعوت پیش کرتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں کیوں کہ وہ طبقہ جو فون کو اچھے اور درست استعمال میں لاتا ہے وہ اپنی دنیا و آخرت دونوں سنوار سکتا ہے۔ اور جو طبقہ فون کو غلط اور ناپسندیدہ طریقے سے استعمال کرتا ہے، وہ اپنی دنیا ہی نہیں بلکہ اپنی آخرت کو بھی تباہی کے دہانے پر پہنچا رہا ہے۔ وجہ بالکل واضح ہے کہ جو شخص اس کا حسنِ استعمال جانتا ہے، اس کے لیے فون ذریعۂ فائدہ بنتا ہے، اور جو اسے قبیح انداز میں استعمال کرتا ہے، اس کے لیے یہی چیز نہایت بلکہ اشد درجہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!