| عنوان: | در مصطفیٰ کو چھوڑ کر خدا تک پہنچنے والے ذرا اب ہوش میں آئیں! |
|---|---|
| تحریر: | فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
| پیش کش: | جامعۃ المدینہ فیضان مفتی اعظم، شاہ جہان پور |
گستاخان رسول کا عقیدہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چھوڑ کر، نعوذ باللہ خدا تک پہنچنا ممکن ہے، تو ایسے لوگ بارگاہ الٰہی سے مردود ہیں، کیوں کہ خدا تک پہنچنے کا راستہ در مصطفیٰ سے ہی ہو کر جاتا ہے، یہی عقیدہ اہل سنت و جماعت کا ہے کہ جس نے نبی پاک کو پا لیا اس نے خدا کو پا لیا۔
در مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چھوڑ کر اللہ تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتباع ہی درحقیقت اللہ کی رضا حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے اور آپ کی سیرت پر عمل پیرا ہو کر ہی بندہ اللہ کے قریب ہو سکتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
اللہ رب العزت سورہ اخلاص کی پہلی آیت مبارکہ میں ارشاد فرما رہا ہے:
قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ
ترجمہ: (اے محبوب!) آپ فرما دو کہ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے۔ [الاخلاص: 1]
اب اس آیت کریمہ کو مدنظر رکھتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر ذرا غور فرمائیں کہ اللہ عزوجل نے بذات خود یہ اعلان نہیں فرمایا کہ میں کہتا ہوں کہ اللہ ایک ہے بلکہ اپنے محبوب سے کہلوایا کہ اے محبوب تم فرما دو کہ اللہ ایک ہے، تو اللہ عزوجل کا اپنے محبوب سے کہلوانا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اللہ نے اپنی وحدانیت کا اعلان بھی اپنے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان اقدس سے کروایا۔
سبحان اللہ: کیا ہی شان ہے میرے آقا کی کہ خدائے پاک نے اپنا ”خدا ہونا“ بھی مصطفیٰ سے کہلوایا۔
تو اے لوگو: جب خدا کو اپنے ”خدا ہونے“ کا اعلان بھی نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کروانا منظور ہے، تو اب یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چھوڑ کر خدا تک پہنچ جائے؟ ناممکن اور محال ہے کہ کوئی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو چھوڑ کر خدا کو پالے!
از: حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی
