دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

یوم صدیق اکبر اور ماڈل جامعۃ المدینہ

یوم صدیق اکبر اور ماڈل جامعۃ المدینہ
عنوان: یوم صدیق اکبر اور ماڈل جامعۃ المدینہ
تحریر: یوسف رضا بن قاسم عطاری
پیش کش: ماڈل جامعۃ المدینہ، ناگ پور، دعوت اسلامی

عِنْدَ ذِكْرِ الصَّالِحِينَ تَنـزِلُ الرَّحْمَةُ (نیک لوگوں کا ذکر کرتے وقت رحمت نازل ہوتی ہے)۔

آج ہم بات کرتے ہیں ”ماڈل جامعۃ المدینہ“ کی جو کہ دعوت اسلامی ہند کے شعبہ جات میں سے ایک شعبہ ”جامعۃ المدینہ“ کی ایک شاخ ہے، جس میں ہند کے مختلف شہروں سے علمی پیاس بجھانے کے لیے طلبہ کرام آئے ہوئے ہیں اور جو ان کی پیاس بجھا رہے ہیں وہ سب مفتیان کرام ہیں اور یہ اس جامعۃ المدینہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے۔

اب ہم یہاں اس جامعۃ المدینہ کے نورانی و روحانی ماحول کا ذکر کرتے ہیں جس میں تمام طلبہ اور اساتذہ کرام شامل ہوتے ہیں، وہ یہ ہے کہ بزرگان دین کو ایصال ثواب کرنے کے لیے محفل سجانا، بزرگان دین کے عرس منانا، ان کی سیرت پر بیان کرنا اور ان کی تعلیمات کو طلبہ کرام کے اندر لانے کی کوشش کرنا ہے۔

انہیں محافل میں سے ایک محفل آنے والی تھی، ماہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اپنی برکتیں لٹا رہا تھا اور یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو تقریباً 10 یا 12 دن کی دیری تھی، ہم درجات میں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور یہ اعلان ہوا کہ مدنی مشورہ ہے سب طلبہ کرام مدنی چینل ہال میں تشریف لے چلیے۔

جب ہم وہاں پہنچے تو وہ مشورہ آن لائن ہو رہا تھا جس میں تقریباً ہند کے تمام جامعۃ المدینہ شامل تھے اور مفتی معراج صاحب دامت برکاتہم العالیہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت کا بیان فرما رہے تھے جس کو جاننا سب مسلمانوں کے لیے ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ: ”افضلیت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ“

  1. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تمام انبیائے کرام و رسل علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد عالم میں سب سے افضل ہیں، یہ بات ضروریات اہل سنت میں سے ہے اس کا انکار کرنا گمراہی ہے۔
  2. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا صحابی ہونا ضروریات دین میں سے ہے، اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔

جب مفتی معراج صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا بیان مکمل ہوا اس کے بعد شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عطا المصطفیٰ مصباحی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تمام جامعۃ المدینہ کو یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو منانے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ فرمایا کہ ہر ایک جامعۃ المدینہ میں یہ ہونا چاہیے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی شان و شوکت بیان کی جائے، ان کی سیرت مبارکہ پر مقالات لکھے جائیں، ان کے مناقب پڑھے جائیں اور ایک محفل کر کے ان کو ایصال ثواب نذر کیا جائے۔

جب یہ آن لائن مشورہ ختم ہوا تب میرے استاد محترم مفتی کیف مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تمام طلبہ کرام کو یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے موقع پر ایصال ثواب کی ترغیب دلائی جس میں طے پایا کہ ماڈل جامعۃ المدینہ ناگپور کی طرف سے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں 22 قرآن پاک، تقریباً ایک لاکھ 22 ہزار درود پاک اور ہر ایک طالب علم کی طرف سے دو (2) دلائل الخیرات شریف پڑھ کر نذر کرنا ہے۔ اس کے بعد میرے استاد محترم مفتی سمیر مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تمام طلبہ کرام سے فرمایا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سیرت پر ایک مقالہ لکھنے کی کوشش کریں، پھر ہم سب اپنے درجات میں پھر سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے چلے گئے۔

اس مشورے کے تھوڑے دنوں بعد عرس صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو تقریباً ایک ہفتہ باقی تھا اور ہمارے جامعۃ المدینہ کا نورانی ماحول یہ تھا کہ طلبہ کرام نماز کے بعد اور خالی وقت میں قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگ جاتے کیوں کہ 22 قرآن پاک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں پیش کرنے تھے اور تقریباً طلبہ کرام کے ورد زبان درود پاک کی کثرت ہو گئی کہ زیادہ سے زیادہ درود پاک پڑھے جائیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں پیش کیے جائیں۔ یہ نورانی گھڑیاں کٹتی جا رہی تھیں اور دن ختم ہوتے جا رہے تھے، بالاخر وہ وقت آ گیا کہ آخری دن تھا اور مغرب کے بعد یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ داخل ہونے والا تھا اور ہمارے جامعۃ المدینہ میں دو خاص شخصیات آئی ہوئی تھیں، ایک شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عطاء المصطفیٰ صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور دوسرے حضرت علامہ مولانا شان الہی صاحب دامت برکاتہم العالیہ۔ اب شام ڈھل گئی اور دن ختم ہو گیا، ہم اللہ عزوجل کے فضل و کرم سے یوم صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے جا ملے۔

بعد نماز عشاء مفتی عطاء المصطفیٰ صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی افضلیت پر بیان فرمایا اس کا لب لباب آپ کی بارگاہ میں پیش ہے: ”جب بغیر کسی وصف کے بیان کرتے ہوئے جب افضلیت کی بات ہو تو اس میں تمام انبیائے کرام اور رسل علیہم الصلاۃ والسلام کے علاوہ تمام عالم سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افضل ہیں۔ اور اگر کسی وصف کے تحت بات کی جائے تو دوسرے صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل ہو سکتے ہیں، مثال کے طور پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی گواہی دو کے برابر تھی اگر ہم گواہی دینے کے وصف کے تحت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تقابل حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کریں تو اس میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ افضل ہیں۔ اور یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ بغیر وصف کے بیان کیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو افضل کہنا جائز نہیں۔“

اس بیان کے بعد حضرت علامہ مولانا شان الہی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے ”طالب علم کو کیسا ہونا چاہیے“ اس پر بیان فرمایا پھر یہ نورانی محفل ختم ہوئی۔

اب آئیے ان کی سیرت پر ایک نظر ڈالتے ہیں

جن کے عرس کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ آپ کا نام نامی اسم گرامی عبد اللہ رضی اللہ عنہ ہے، آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوبکر ہے اور صدیق و عتیق آپ کے القاب ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ وہ صحابی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے تاجدار رسالت شہنشاہ نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی اور آزاد مردوں میں آپ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دو سال سات ماہ مسند خلافت پر رونق افروز رہ کر 22 جمادی الاخریٰ 13ھ پیر شریف کا دن گزار کر وفات پائی اور آپ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور روضہ منورہ زادہا اللہ شرفا و تعظیما میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پہلوئے مقدس میں دفن فرمایا۔

اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین یا رب العالمین۔

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ جب کسی اللہ عزوجل کے نیک بندے کا عرس آئے تو محفل کی جائے جس میں ان کے مناقب پڑھے جائیں اور ان کی سیرت مبارکہ بیان کی جائے تاکہ ہم سب کو ان کی سیرت پر عمل کرنے کی ترغیب ملے۔
صلوا علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔