| عنوان: | شکر گزاری کی اہمیت اور ہماری غفلت |
|---|---|
| تحریر: | عالیہ فاطمہ انیسی |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
زندگی نعمتوں کی طویل فہرست ہے، مگر افسوس! افسوس کہ ہماری نگاہ ہمیشہ اُن کمیوں پر ٹھہرتی ہے جو ہمیں میسر نہیں، اور اُن عطاؤں سے بے خبر رہتے ہیں جو ہر لمحہ ہمارے ساتھ ہیں۔
سانس جو بلا توقف رواں ہے، صحت جو خاموشی سے ساتھ نبھا رہی ہے، امن جو دل و گھر کو تحفظ دیتا ہے—یہ سب ہماری نگاہ میں اس قدر معمولی ہو چکا ہے کہ ہم نے انہیں نعمتموں میں شمار کرنا ہی چھوڑ دیا۔
ہم یہ مان بیٹھے ہیں کہ آنکھوں کا دیکھنا، کانوں کا سننا، پاؤں کا چلنا، عقل کا سوچنا اور زبان کا بولنا کوئی عطیہ نہیں؛ یہ تو فطری بات ہے، ہر ایک کو میسر ہے۔ لیکن ہم بھول بیٹھے کہ جو چیز ہمیں مسلسل حاصل ہو، وہی سب سے بڑی آزمائش بن جاتی ہے (قدر کھو دینے کی آزمائش)۔
اگر والدین کا سایہ سر پر ہے تو ہم عدم توجہی سے کہہ دیتے ہیں: سب کے والدین ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں سکون اور دو وقت کی روٹی میسر ہے تو ہم اسے اپنی محنت کا صلہ سمجھ لیتے ہیں۔ اگر ایمان کی دولت نصیب ہے تو ہم خود کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتے ہیں کہ بہت سے لوگ مسلمان ہیں۔ اور اگر علم حاصل ہو جائے تو ہم اسے اپنی ذہانت، کاوش اور جدوجہد کا نتیجہ قرار دے کر رب کی عطا کو پس منظر کردیتے ہیں، اور یوں گمان کرلیتے ہیں گویا یہ سب کچھ ہمارا حق تھا، ہمیں مل گیا۔ ہم یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ دنیا میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو چلنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر پاؤں انکار کر دیتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں مگر آواز ساتھ نہیں دیتی، دیکھنا چاہتے ہیں مگر آنکھیں اندھیرے کی قیدی ہیں۔ کتنے ہی ایسے ہیں جنہیں ظاہری حسن تو ملا، مگر عقل کی نعمت سے محرومی نے اُن کی زندگی کو مستقل امتحان بنا دیا۔
کبھی اُن سے پوچھو نعمت کی تعریف، جو ماں باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ ان سے پوچھو نعمت کا مفہوم، جو ایک ایک لقمے کے لیے آنکھیں دروازوں پر جمائے بیٹھے ہیں۔ اور ان لوگوں سے بھی پوچھو جو علم کی جستجو میں اپنی نیندیں، راحتیں اور اہل و عیال قربان کر دیتے ہیں، پھر بھی وہ مقام حاصل نہیں کر پاتے جس کی آرزو اُن کے دل میں سلگتی رہتی ہے۔ یہی لوگ جانتے ہیں کہ نعمت کیا ہوتی ہے اور محرومی کس کو کہتے ہیں۔
مگر ہم نے نعمت کے مفہوم کو اپنے نفس کی خواہشات کے پورا ہو جانے تک محدود کر دیا ہے۔ ہماری نظر میں نعمت وہی ہے جو ہماری چاہت بن جائے، اور محرومی وہی ہے جو ہمیں نہ مل سکے۔ اور جب وہ چیز ہمیں مل جاتی ہے جس کے لیے ہم مدتوں دعائیں مانگتے رہے ہوتے ہیں، تو شکر کی جگہ یہ خیال جنم لیتا ہے کہ یہ ہماری محنت، ہماری تدبیر اور ہماری قابلیت کا ثمر ہے۔
حالانکہ قرآنِ کریم ہمیں جھنجھوڑ کر یاد دلاتا ہے:
وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ (سورۃ النحل: 53)
ترجمہ کنز الایمان: اور تمہارے پاس جو نعمت ہے، سب اللہ کی طرف سے ہے۔
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! تمہارے بدنوں میں جو عافیت، صحت اور سلامتی ہے، اور تمہارے مالوں میں جو نَشوونُما ہو رہی ہیں، تمہارے پاس یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، کسی اور کی طرف سے نہیں۔ کیونکہ ساری نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کے دستِ قدرت میں ہیں۔ اور جب تمہارے بدن کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں، اور انہیں کوئی عارضہ لاحق ہوتا ہے، اور تمہاری عیش و عشرت میں کمی واقع ہوتی ہے، تو تم صرف اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے ہو اور اسی سے مدد طلب کرتے ہو تاکہ وہ تم سے یہ مصیبت دور کر دے۔ (تفسیرِ طبری، النحل، تحت الآیۃ: ۵۳، ۷/۵۹۷)
سچ یہ ہے کہ ہماری محرومیوں کی جڑ ہماری بے شکری ہے۔ ہم نعمتوں کے زوال پر تو آہیں بھرتے ہیں، مگر اُن کے وجود پر کبھی سجدۂ شکر ادا نہیں کرتے۔ اسی لیے ربِّ کریم نے صاف اعلان فرما دیا:
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (سورۃ ابراہیم: 7)
ترجمہ کنز الایمان: اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔
مگر ہماری غفلت کا عالم یہ ہے کہ دعا مانگتے وقت الفاظ ختم نہیں ہوتے، اور شکر ادا کرتے وقت زبان ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔ ہم مانگنے کے ہنر سے واقف ہیں، مگر پانے کے بعد پلٹ کر دیکھنے کی عادت کھو چکے ہیں۔ کاش! ہم شکایت سے پہلے شکر کرنا سیکھ لیں، کیونکہ شکر وہ چراغ ہے جو دل کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیتا ہے۔ اور شکر گزار دل ہی نعمت کی اصل قدر پہچانتا ہے، اور جو نعمت کی قدر جان لے، وہ کبھی محروم نہیں رہتا۔
کبھی ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں… اگر یہ رواں سانس اچانک تھم جائے، اگر صحت کا ساتھ چھن جائے، اگر والدین کی شفقت صرف یاد بن کر رہ جائے، تو کیا اُس وقت ہمیں احساس نہیں ہوگا کہ ہم کن نعمتوں کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کرتے رہے؟
اصل محرومی نعمت کے نہ ہونے کا نام نہیں، بلکہ نعمت کے ہوتے ہوئے غافل ہو جانا ہے۔ جو دل شکر کی روشنی سے خالی ہو جائے، وہ ہاتھ پھیلا کر بھی کچھ حاصل نہیں کر پاتا۔ ہم رات دن رب سے مانگتے ہیں، مگر روز اُس کی عطاؤں کو گنتے نہیں۔ ہمیں جو کچھ ملا ہے، وہ ہماری قابلیت سے زیادہ اُس کے کرم کا نتیجہ ہے۔ اگر وہ پل بھر کو اپنی نعمتیں واپس لے لے، تو انسان اپنی بے بسی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اللہ پاک کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا تو بہت دور کی بات، اب بندوں کے احسانات کو بھی اپنی یادداشت سے محو کر بیٹھے ہیں، گویا ہر عطا ہمارا حق تھی اور ہر بھلائی ہماری مستحق۔
اگر ہم اپنی اس غفلت سے جاگ جائیں، اور یہ محسوس کر لیں کہ اللہ پاک کی نعمتیں ہر وقت ہم پر بارش کی بوندوں کی مانند برس رہیں ہیں، اور نعمتوں پر شکر کرنے لگیں تو اللہ پاک اپنے فرمان کے مطابق ہر اُس چیز سے نوازے گا جو ہمارے حق میں بہتر ہوگی۔
اللہ پاک ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر کرنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین
