| عنوان: | وہ مجھے ایک خالی گھر میں لے گیا |
|---|---|
| پیش کش: | محمد شعبان وارثی، کشن گنج، بہار |
نوجوان بیٹیو! اپنی عزت کی حفاظت خود کرو! کچھ عرصہ قبل کا واقعہ ہے کہ میں ایک ریفریشمنٹ پوائنٹ کے قریب سے گزر رہا تھا۔ ہجوم دیکھ کر میں رک گیا۔ اندر ایک لڑکی سر پکڑے زار و قطار رو رہی تھی۔ سب پریشان تھے، کوئی کچھ سمجھ نہ پایا۔ نہ ہی لڑکی کسی کو کچھ بتا پا رہی تھی، فقط پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
میں لڑکی کے قریب گیا، سر پر ہاتھ رکھا اور انتہائی نرم لہجے میں کہا: ”بیٹا! جو بھی مسئلہ ہے، آپ مجھے سچ سچ بتائیں، ان شاء اللہ آپ کی پوری مدد کروں گا۔“ بہت زیادہ منت سماجت اور دلاسہ دینے کے بعد لڑکی نے لب کشائی کی۔ لڑکی روتے روتے بولی: ”انکل جی! میری نیٹ پر پنڈی کے ایک لڑکے سے دوستی ہوئی۔ وہ شادی کا وعدہ کرتا رہا۔ میں نے کالج ٹرپ کا بہانہ بنا کر گھر سے نکلنے کی غلطی کر دی۔ وہ مجھے ایک خالی گھر میں لے گیا، رات رکنے پر مجبور کیا اور آج کھانے کے بہانے یہاں چھوڑ کر میسج کر دیا کہ میں نے جو کرنا تھا کر لیا، اب گھر جاؤ اور میرا نمبر ڈیلیٹ کر دو۔“
یہ سن کر میرا دل دہل گیا، لیکن میں نے اس لڑکی کے کیس کو ہینڈل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے کہا: ”بیٹا! جو ہونا تھا ہو چکا، آپ کو سبق مل چکا۔ میں آپ کو صرف اتنا سمجھانا چاہوں گا کہ اس واقعے کو ایک بھیانک خواب سمجھ کر بھول جانا۔ اس کا کسی سے ذکر نہیں کرنا، یہی آپ کے لیے بہتر ہوگا۔ میں آپ کے ابو سے بات کرتا ہوں اور ان شاء اللہ آپ کو گھر تک بحفاظت پہنچانے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ آپ مجھے اپنے والد کا نمبر دیں۔“
میں نے اس لڑکی کے والد صاحب کا نمبر لیا اور انہیں کال ملا دی: ”حضورِ والا! آپ کی بیٹی اس وقت فلاں جگہ پر موجود ہے اور بالکل محفوظ ہے۔ وہ بیچاری کالج فیلوز کے ساتھ ٹرپ پر آئی تھی، لیکن بدقسمتی سے گاڑی سے رہ گئی۔ اب وہ بہت پریشان ہو رہی ہے اور کافی ڈری ہوئی بھی ہے کہ اب گھر کیسے جاؤں گی اور گھر والے پتہ نہیں کیسا سلوک کریں گے۔ آپ کی بیٹی کو آپ تک پہنچانے کے لیے آپ سے رابطہ کیا ہے۔ ساتھ آپ سے ایک گزارش بھی کرنا چاہوں گا کہ آپ نے اس واقعے کو کالج انتظامیہ کے سامنے نہیں اٹھانا۔“
اس پر وہ صاحب بولے: ”جناب! کیسی بات کر رہے ہیں؟ کالج والے میری بیٹی کو میلوں دور چھوڑ کر آ گئے اور میں ان کے خلاف کوئی ایکشن بھی نہ لوں؟ یہ کیسی بات کر رہے ہیں؟“
میں نے کہا: ”محترم! جب آپ کالج تک یہ بات لے کر جائیں گے تو بات کھل جائے گی۔ بے شک آپ کی بیٹی بے قصور ہے، مگر جب یہ واقعہ آپ کے قریبی رشتہ دار و عزیز سنیں گے تو طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔ آپ کی بیٹی پر انگلیاں اٹھنی شروع ہو جائیں گی اور پھر کل کو آپ نے اس کی شادی بھی کرانی ہے۔ لہٰذا میرا آپ سے مشورہ ہے کہ آپ کی بیٹی کا بہتر مستقبل آپ کے چپ رہنے میں ہی ہے۔“
میری بات سننے کے بعد لڑکی کے والد صاحب نے بھی میری رائے سے اتفاق کیا اور ایک ہی سانس میں بہت سی دعاؤں سے نوازا اور وعدہ کر لیا کہ نہ ہی بیٹی کو ڈانٹیں گے اور نہ ہی اس واقعے سے متعلق کسی سے بات کریں گے۔
اس کال کے بعد میں نے دوبارہ اس سہمی ہوئی لڑکی کو مخاطب کیا: ”دیکھو بیٹا! اس غلطی سے آپ زندگی کا بھیانک ترین سبق سیکھ چکی ہو۔ اگر یہ کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو میں آپ کو لڑکے کے خلاف قانونی کارروائی کا مشورہ دیتا، لیکن بیٹا ہم لوگ انسانوں کے جنگل میں زندگیاں بسر کر رہے ہیں۔ یہاں پر لڑکے کو سزا دلواتے دلواتے آپ کا مستقبل مکمل تاریک ہو جائے گا۔ لہٰذا جو کچھ ہو چکا، اسے بھلا کر اپنی زندگی کا دوبارہ آغاز کرو۔ اور ہاں، ایک کام کرو: اس لڑکے کا ایڈریس اور رابطہ نمبر مجھے دے دو، اس کو ہم اپنے طریقے سے سبق ضرور سکھائیں گے۔“
اس پر لڑکی نے رندھی ہوئی آواز میں کہا: ”اللہ آپ کو خوش رکھے انکل جی! میں پوری زندگی آپ کے لیے دعائیں کرتی رہوں گی۔ آپ نے مجھے ذلت و رسوائی سے بچایا ہے۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں۔“ ہم نے اس بیٹی کو باعزت طریقے سے بس میں بٹھایا، والد کو بس نمبر اور وقت بتایا اور مسلسل رابطے میں رہے یہاں تک کہ وہ لڑکی گھر پہنچ گئی۔ تب جا کر سکون کا سانس لیا۔
یہ واقعہ لکھنے کا مقصد کوئی اپنی تعریف کروانا ہرگز نہیں، بلکہ اس واقعے کے تناظر میں آپ تمام احباب سے چند اہم گزارشات ہیں:
- میری پہلی گزارش بیٹیوں سے: انجان لڑکوں کے جھوٹے وعدوں پر کبھی اعتبار نہ کریں۔ یہ وقتی لذت کے بعد عزت لوٹ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اگر کوئی لڑکا پسند ہے تو والدین کو اعتماد میں لیں۔ والدین کی رضامندی کے بعد اپنی پسند سے نکاح کریں۔ نکاح کے بغیر کسی لڑکے سے دوستی کرنا، اس سے تنہائی میں ملنا، اس کی میٹھی میٹھی باتیں سننا، یہ ایک ایسا گڑھا ہے کہ اس میں گرنے والی کوئی بھی خاتون آج تک باعزت واپس نہیں لوٹی۔
- دوسری التجا والدین سے: اپنی بیٹیوں پر اعتماد کریں۔ ان کی پسند کا احترام کریں۔ آپ کی بیٹی نے جو لڑکا پسند کیا ہے، اگر اس میں بظاہر کوئی خرابی نہیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔ برادری، رنگ روپ نہ دیکھیں؛ یہ محض غیروں کا کلچر ہے۔ اچھے لوگ ہر برادری میں پائے جاتے ہیں۔ کئی لوگ محض اس وجہ سے اچھے اچھے لڑکوں سے بیٹیوں کا رشتہ طے نہیں کرتے کہ لڑکے کا تعلق کسی دوسری ذات یا برادری سے ہوتا ہے، اور اگر یہ رشتہ کر دیا تو لوگ کیا کہیں گے؟ لوگوں کی پرواہ نہ کریں، آپ اپنی بیٹی کی پرواہ کریں۔ زندگیاں لوگوں کی رائے پر بسر کرنے کا زمانہ بیت چکا۔ آپ لوگوں کی باتوں سے زیادہ اپنی اولاد کی رائے اور مرضی کو مقدم رکھیں۔ اس احمقانہ اور ہندوانہ سوچ نے اب تک معاشرے میں بگاڑ ہی پیدا کیا ہے۔
لڑکا آپ کی بیٹی کے ہم پلہ ہے، اس کی ضروریات و خواہشات پوری کر سکتا ہے تو بسم اللہ کریں، بیٹی کا اس سے نکاح کر دیں۔ جہیز اکٹھا کرنے میں وقت ضائع نہ کریں۔ یہ بات پلے باندھ لیں کہ اگر لڑکا یا اس کا خاندان واقعی آپ کی بیٹی کو اپنانا چاہتے ہیں تو جہیز کا مطالبہ نہیں کریں گے، اور اگر کوئی جہیز کا مطالبہ کرتا ہے تو پھر سمجھ جائیں اسے آپ کی بیٹی سے کوئی دلچسپی نہیں۔
قارئینِ ذی وقار! نکاح کو آسان بنائیں، یہی سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے۔ جب بیٹی آپ سے کچھ چھپانے پر مجبور ہوگی تو پھر بڑے بڑے سانحات جنم لیں گے۔ عزت و غیرت نمود و نمائش میں نہیں، بلکہ سکون و اطمینان اولاد کی خوشی میں ہے۔ دانشمندی بیٹی کی اور اپنی عزت بچانے میں ہے۔
اللہ پاک ہم سب کی بیٹیوں کو محفوظ رکھے۔ آمین۔ (منقول)
