دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

خیال خاطر

خیال خاطر
عنوان: خیال خاطر
تحریر: مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی

ممکن ہے میں ہی اپنے اندازِ فکر میں غلط ہوں لیکن جانے کیوں کچھ چیزیں شدت کے ساتھ ذہنی خلجان کا سبب بنی ہوئی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے مستقبل میں یہ بہت ستائیں گی:

  1. اسلام کی بنیاد جذبات نہیں مسلمات رہے ہیں اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عوام تو عوام، بزعمِ خویش کچھ خواص بھی اب مسلمات سے چھیڑ چھاڑ کرنا اپنا مزاج بنا چکے ہیں۔ جب جب ایسا ہوتا ہے، مسلمات و قطعیات کے مقابل بطورِ دلیل کچھ شاذ اور متروک روایتیں پیش کر دی جاتی ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے گویا یہ تحقیق ہے۔ جب کہ درحقیقت یہ ناکام کوششیں فتنہ انگیزی اور عملاً سلفِ صالحین سے بد گمانی کے سوا کچھ نہیں۔
  2. علماء اور سادات کے درمیان کی محبتوں کا ضعف کی حد تک کمزور ہو جانا، بلکہ کہیں نہ کہیں خاموش ذہنی خانہ جنگی کا سا ماحول بن جانا اور کچھ ملت کے بد خواہ ناہنجاروں کی وجہ سے اس سلسلے کا دراز سے دراز تر ہوتے جانا، وہ نازک فتنہ ہے جس سے امت کو زوال کا ایک اور دھچکا تو لگ سکتا ہے، خیر کی امید نہیں۔
  3. علماء اور سادات دونوں کا محض اپنے اپنے فضائل پر قانع رہنا اور کچے پکے ذہنوں کا فرق کیے بنا یا واقعی ذمہ داریوں کا احساس دلائے بنا ہر کسی کو محض احادیثِ فضائل پروسنا، جس کے نتیجے میں علماء، علم پر عمل سے اور سادات علم ہی سے کوتاہ دامن ہوتے جا رہے ہیں۔ نتیجتاً سجادگی سے شہزادگی اور اب دامادگی بھی قابلِ افتخار روایت بنتی جا رہی ہے۔ جب کہ اصل قابلِ ذکر و فخر ”علم و عمل“ اور ”دین و ملت کا درد و شعور“ تھے اور وہی ہونے چاہئیں۔
  4. سیدھی سادھی برسی کی بجائے ہر معروف عالم یا سید زادے کا بھی عرس ہو، کیا ضروری تھا؟ لیکن رونا تو یہ ہے کہ اب اس اضافے پر بھی قناعت نہیں بلکہ بزرگوں کے ایامِ عرس کے ساتھ اب ایامِ ولادت کا بھی چلن رواج پا رہا ہے۔ جس کے متعلق ڈر ہے کہ کہیں دیر سویر یہی ملت کی واجبی مصروفیت نہ بن جائے، جیسے ایک سے زائد دنوں کے عرس ایک مستقل سالانہ معمول بن چکے ہیں۔
  5. ہر چھوٹے بڑے ادارے میں ”تخصص فی الفقہ“ کا قیام اور فاضل طلبہ کا اپنا فطری ذوق جانے بنا ایسے اداروں میں داخلے لے کر ڈگریاں بٹورنا، بجائے خود ایک ایسے ازدہام کا باعث بننے جا رہا ہے جس کے نتائج مفید نظر نہیں آتے۔ اس لیے نہیں کہ فقہ و فقہیات کا فائدہ نہیں بلکہ اس لیے کہ تن آسان طبیعتیں خود کو رنگِ تفقہ میں ڈھالنے کے لیے درکار لازمی محنتوں کی قائل نہیں رہیں۔ خاکم بدہن! چھوٹے موٹے تو رہے دور، اب تو نامی گرامی اداروں میں بھی نہ وہ طلبہ کی مشاقی رہی اور نہ اساتذہ کی اس بابت غیر معمولی حساسیت۔ ظاہر ہے ایسے میں فقہ جیسے اہم ترین میدان کی باگ ڈور کچے ہاتھوں میں جاتی ہے، جس سے ماضیِ قریب کی طرح تنازعات کا طومار تو کھڑا ہو سکتا ہے، بالغ نظری کی کھیپ نہیں۔
  6. نہایت پریشان کن بات یہ ہے کہ نہ صرف نسواں اداروں کا غیر ضروری رجحان بڑھا ہے اور کچے پکے فارغینِ افتاء کی طرح جھنڈ کی جھنڈ بچیاں عالمہ بن رہی ہیں، بلکہ دوہری پریشانی یہ ہے کہ منصوص دلائل اور زمینی حقائق سے جس کی نزاکتیں دو دو چار کی طرح ثابت ہیں، اس نازک ترین میدان میں بھی کڑیل جوان بکثرت قسمت آزما رہے ہیں اور یہ سلسلہ دن دونا ہو رہا ہے۔ تہری دقت یہ کہ عموماً سندِ فراغ پانے والی یہ خواتین نت نئے حجابی فیشن سے تو آراستہ ہوتی ہیں لیکن نصاب سے مطلوب زیورِ علم سے کافی حد تک نہیں؛ یعنی غیر ضروری طور پر مارکیٹ سائز بڑا ہو رہا ہے اور وہ بھی کچے مال کے ذریعے جس سے خیر مغلوب نظر آتا ہے۔
  7. بارہا ایسا لگتا ہے جیسے سوشل میڈیا نے جلسوں سے جڑے ہوا پسندوں کے ساتھ خاصے علماء سمجھے جانے والوں کو بھی اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے اور غیر شعوری طور پر اب یہ مقدس جماعت کتابوں اور حقیقت کی دنیا سے بچ بچا کر گلیمر کے نقشِ قدم پر چل پڑی ہے۔
  8. گزشتہ کچھ وقت سے یہ دیکھ کر کڑھن محسوس ہونے لگی ہے کہ نہ صرف نوسیکھیے بلکہ کچھ بزرگ حضرات بھی دھڑا دھڑ کتابوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں اور ان کی ہر کتاب کی غیر ضروری ضخامت بھی بجائے خود تشویش کا سبب ہے۔ بلکہ اب تو یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ”مجددِ رواں صدی“ کی طرح رات دن تقریروں میں مست رہنے والے بھی ہر سال کتابوں کے انبار لگاتے جا رہے ہیں اور یہ بھول چکے ہیں کہ نسلِ نو کا ایڈوانس دماغ اگر اے آئی (AI) کا کتر بیونت پکڑنے لگا تو زندگی بھر کی کمائی عزت کوڑیوں کے بھاؤ سرِ بازار ہوگی۔ سرقہ بازی اور چال بازی سے اس لیے بھی دور رہنا چاہیے کہ جو سسٹم آپ کو ریڈی میڈ کتاب تیار کر کے دیتا ہے، وہی سسٹم اس بات کی نشان دہی بھی کرتا ہے کہ آپ کے نام سے منسوب تصنیف میں آپ کا اپنا کتنا فیصد شیئر ہے اور اے آئی کا کتنا۔ زیادہ پرانی بات نہیں جب ”اثبات“ کے ”سرقہ نمبر“ نے بڑے بڑے ادبی مہارتھیوں کے وہ چٹھے سامنے رکھے کہ اب تک منہ دکھاتے نہیں بنتی۔ اللہ نہ کرے کہ یہی روایت مذہبی دنیا کے مصنفین کے ساتھ بھی دہرائی جائے، اس لیے الحذر!

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!