کیا آپ کا مضمون ابھی تک شائع نہیں ہوا؟ نیچے واٹس ایپ بٹن سے میسج کرکے اطلاع فرمائیں!
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

افقِ بریلی کا تابندہ اختر: ایک عہد، ایک داستان

افقِ بریلی کا تابندہ اختر: ایک عہد، ایک داستان
عنوان: افقِ بریلی کا تابندہ اختر: ایک عہد، ایک داستان
تحریر: محمد احمد قادری امجدی
پیش کش: جامعہ امجدیہ رضویہ،گھوسی

بریلی کی قدیم اور پراسرار گلیوں میں، جہاں علم و عرفان کی شمعیں صدیوں سے روشن تھیں، وقت نے اپنی تاریخ کے ایک سنہرے باب کو رقم کرنے کی تیاری کر لی تھی۔ امام اہلِ سنت کا یہ وہ گھرانہ تھا جہاں کی خاک بھی کیمیا کا اثر رکھتی تھی اور جہاں کی ہوائیں درود و سلام کی خوشبو سے معطر رہتی تھیں۔ اسی روحانی فضا میں، فروری کی ایک روشن صبح، ایک ایسا ستارہ طلوع ہوا جس کی پیشانی پر عظمتوں کی تحریر پہلے دن سے کندہ تھی۔

نومولود کا نام ”محمد اسماعیل رضا“ رکھا گیا جب کہ عرفیت ”اختر رضا“ ہے۔ آپ ”اختر“ تخلص استعمال فرماتے ہیں، مگر تقدیر اسے ”تاج الشریعہ“ کے نام سے پکارنے کے لیے بے چین تھی۔ یہ محض ایک بچے کی ولادت نہیں تھی، بلکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کے علم و فضل کے وارث کی آمد تھی۔ بچپن ہی سے اس ”اختر“ کی چمک عام ستاروں سے جدا تھی۔ آنکھوں میں بلا کی ذہانت اور چہرے پر وہ متانت تھی جو بڑے بڑے شیوخ کا خاصہ ہوتی ہے۔ لیکن اس ہیرے کو تراشنے اور اسے کندن بنانے کا سہرا جس ہستی کے سر جاتا ہے، وہ زمانے کے قطب اور ولیِ کامل، حضور مفتیِ اعظم ہند مصطفیٰ رضا خان، شہزادۂ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ تھے۔

منظر کچھ یوں ابھرتا ہے کہ نانہال کی محبتوں اور شفقتوں کے سائے میں پروان چڑھتے ہوئے اختر رضا پر مفتیِ اعظم ہند کی نگاہِ کیمیا اثر پڑتی ہے۔ یہ نگاہ محض ایک نانہ کی اپنے نواسے پر شفقت نہیں تھی، بلکہ ایک صاحبِ بصیرت کی نگاہ تھی جو جانتی تھی کہ یہ بچہ مستقبل میں سنیت کا پاسبان بنے گا۔ مفتیِ اعظم نے اپنی پوری روحانی اور علمی کائنات اس نوجوان کے سینے میں منتقل کرنا شروع کر دی۔ وہ گھنٹوں انہیں اپنے پاس بٹھاتے، فقہ کی باریکیاں سمجھاتے اور تقویٰ کے وہ اسرار سکھاتے جو کتابوں میں نہیں ملتے۔

جیسے سورج اپنی کرنوں سے چاند کو منور کرتا ہے، ویسے ہی مفتیِ اعظم ہند نے اپنے فیضان سے اختر رضا کو چمکا دیا۔ یہ وہ ”نظرِ خاص“ تھی جس نے انہیں زمین سے اٹھا کر اوجِ ثریا تک پہنچا دیا۔ اس فیضان کا ادراک خود حضور تاج الشریعہ کو بھی تھا، اور کیوں نہ ہوتا؟ جب وہ آئینہ دیکھتے تو انہیں اپنا آپ نہیں، بلکہ اپنے مرشد اور نانا کا جلوہ نظر آتا۔ اسی کیفیتِ جذب و مستی اور اعترافِ حقیقت میں ان کے قلم سے وہ لازوال شعر نکلا جو آج بھی عقیدت مندوں کے دلوں کی دھڑکن ہے:

نگاہِ مفتیِ اعظم کی ہے یہ جلوہ گری
چمک رہا ہے جو اختر ہزار آنکھوں میں

اس شعر میں صرف شاعری نہیں، بلکہ ایک پوری تاریخِ ارادت پوشیدہ ہے۔ یہ اعتراف ہے کہ میری یہ رفعت، یہ شہرت اور یہ علمی دبدبہ میرا اپنا کمال نہیں، بلکہ یہ اس مردِ درویش کی نگاہِ کیمیا کا اثر ہے۔

پھر وقت نے ایک نئی کروٹ لی۔ بریلی کی خانقاہی فضا سے نکل کر یہ شاہین علم کی دنیا کی سب سے بڑی درس گاہ، جامعہ ازہر مصر کی طرف پرواز کر گیا۔ قاہرہ کی وہ تاریخی گلیاں، دریائے نیل کا بہتا پانی اور جامعہ ازہر کے بلند و بالا مینار، سب اس نوجوان ہندوستانی طالب علم کے منتظر تھے۔ وہاں کی فضا اجنبی تھی، زبان و بیان کا معیار الگ تھا، مگر جس کے سینے میں رضوی علوم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہو، اسے کون روک سکتا تھا؟

جامعہ ازہر میں، جہاں دنیا بھر کے ذہین ترین طلباء موجود تھے، بریلی کا یہ نوجوان سب پر بازی لے گیا۔ عربی ادب ہو یا اصولِ فقہ، حدیث کی تشریح ہو یا تفسیر کے نکات، اختر رضا خان کا طوطی وہاں بھی بولنے لگا۔ جب وہ ”جامعہ ازہر ایوارڈ“ لے کر نکلے تو دنیا نے دیکھا کہ وہ صرف ایک سند یافتہ عالم نہیں تھے، بلکہ ”ازہری“ بن کر ایک نئی شان کے ساتھ ابھرے تھے۔ مصر کے بڑے بڑے شیوخ بھی اس نوجوان کی عربی دانی اور فقہی بصیرت پر انگشت بدنداں رہ گئے۔

واپسی پر، وہ اختر رضا جو بریلی سے گیا تھا، اب ایک تناور درخت بن چکا تھا۔ مفتیِ اعظم کی آنکھوں میں اطمینان کی چمک تھی۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کیسے یہ شخص ”تاج الشریعہ“ بن کر کروڑوں مسلمانوں کے دلوں پر راج کرنے لگا۔ ان کے فتاویٰ میں اعلیٰ حضرت کا لہجہ اور مفتیِ اعظم کی احتیاط جھلکتی تھی۔

دنیا گواہ ہے کہ ان کے ہاتھوں میں وہ تاثیر تھی کہ جدھر سے گزر جاتے، ہجوم امڈ آتا۔ وہ لاکھوں گناہ گار، جن کی روحیں معصیت کی سیاہی سے داغدار ہو چکی تھیں، جب تاج الشریعہ کے نورانی چہرے کی زیارت کرتے تو ان کے دل پگھل جاتے۔ ان کی ایک نگاہِ کرم سے انقلاب برپا ہو جاتا۔ لاکھوں لوگوں نے ان کے دستِ حق پرست پر گناہوں سے توبہ کی اور نیکی کی راہ لی۔ وہ جو کل تک شراب خانوں اور گناہوں کی دلدل میں تھے، تاج الشریعہ کے دامن سے وابستہ ہو کر ولی صفت بن گئے۔

اور فیضان کا یہ دریا صرف اپنوں تک محدود نہ تھا، بلکہ غیروں کی بنجر زمینوں کو بھی سیراب کر گیا۔ نہ جانے کتنے ہی بھٹکے ہوئے آہو، جو کفر اور شرک کے اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے، اس آفتابِ علم و عمل کی روشنی دیکھ کر کھنچے چلے آئے۔ ان کے کردار کی پاکیزگی اور حق کی سچائی نے لاتعداد غیر مسلموں کے دلوں کی دنیا بدل دی۔ وہ آئے تو تاریکی میں تھے، مگر جب تاج الشریعہ کے ہاتھ پر کلمہ پڑھ کر اٹھے، تو ان کے سینے ایمان کے نور سے جگمگا رہے تھے۔ یہ وہ زندہ کرامات ہیں جو تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں۔

حریمِ کعبہ کی میزبانی اور رفاقت کا کوہِ گراں

عظمتوں کا یہ سفر صرف بندوں کی عقیدت تک محدود نہ تھا، بلکہ زمین کے سب سے مقدس ٹکڑے نے بھی اس ”اختر“ کی پذیرائی کی۔ دنیا نے وہ روح پرور منظر بھی دیکھا جب حرمِ پاک کی فضائیں ایک عجیب سکون میں ڈھل گئیں اور اللہ کے گھر کے دروازے اس مردِ حق کے لیے وا کر دیے گئے۔ وہ ”مہمانِ کعبہ“ بنے۔ جب وہ کعبہ مشرفہ کے اندر داخل ہوئے تو وہ منظر تاریخِ عشق و مستی کا ایک ایسا باب بن گیا جس پر سنیت آج بھی ناز کرتی ہے۔ اللہ کے گھر کی میزبانی کا شرف ملنا اس بات کی دلیل تھی کہ ان کی قبولیت کا پروانہ عرشِ بریں پر بھی مہرِ تصدیق پا چکا ہے۔

اس داستانِ عظمت میں ایک اور باب ایسا ہے جس کے ذکر کے بغیر یہ بیان ادھورا رہے گا، اور وہ باب ہے ”رفاقت اور اعتمادِ کامل“ کا۔ اگر آسمانِ سنیت پر تاج الشریعہ ”ماہِ کامل“ بن کر چمکے، تو ان کے شانہ بشانہ ایک اور کوہِ وقار ہستی، حضور محدثِ کبیر بھی ایستادہ رہی۔ ان کے درمیان اعتماد کا رشتہ اتنا گہرا اور شفاف تھا کہ مثال دی جاتی تھی۔

یہ وہ تعلق تھا جہاں الفاظ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی، دل گواہی دیتے تھے۔ تاج الشریعہ کو اگر کسی فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کرنی ہوتی تو ان کی نگاہیں محدثِ کبیر کو ڈھونڈتیں، اور محدثِ کبیر کے لیے تاج الشریعہ کا ہر لفظ ”حرفِ آخر“ کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ اعتمادِ باہمی اس درجے پر فائز تھا کہ گویا دونوں ایک دوسرے کا آئینہ ہوں۔ تاج الشریعہ کا بھروسہ محدثِ کبیر پر ایسا تھا کہ جیسے کوئی اپنی ہی ذات پر یقین رکھتا ہو، اور محدثِ کبیر کی عقیدت و محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ تاج الشریعہ کے ہر اشارے کو حکم کا درجہ دیتے۔ زمانے نے دیکھا کہ جب بھی دین پر کوئی کڑا وقت آیا، یہ دونوں شیر ایک ساتھ گرجے۔ ایک ”علم کا سمندر“ تھا تو دوسرا ”استقامت کا پہاڑ“۔ تاج الشریعہ نے اپنی زندگی کے کئی اہم موڑ پر یہ ثابت کیا کہ محدثِ کبیر ان کے نزدیک کس قدر معتبر ہیں، اور محدثِ کبیر نے اپنی پوری زندگی تاج الشریعہ کی عظمت کے پہرے میں گزار دی۔ مسلکِ اعلیٰ حضرت کی تاریخ میں یہ جوڑی یاد رکھی جائے گی، جن کا اعتماد ایک دوسرے پر اٹل تھا اور جن کی مشترکہ جدوجہد نے باطل کے ایوانوں میں زلزلہ طاری کیے رکھا۔

آج، جب ہم ان کا یومِ ولادت منا رہے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی کتابیں، ان کے چھوڑے ہوئے لاکھوں شاگرد اور ان کا وہ روحانی فیضان جو آج بھی جاری ہے، یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ستارے کبھی ڈوبتے نہیں، وہ بس آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں تاکہ آسمانِ ولایت پر اور زیادہ آب و تاب سے چمک سکیں۔ یہ داستان ہے اس ”اختر“ کی، جسے مفتیِ اعظم کی نگاہ نے سورج بنا دیا، اور جس کی روشنی رہتی دنیا تک علم کے ایوانوں کو منور کرتی رہے گی۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!