| عنوان: | عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخ کا قتل |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
عہد رسالت مآب علیہ التحیۃ والثنا میں ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی باندی کو توہینِ رسالت کے سبب قتل کر دیا۔ حضور اقدس سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باندی کے خون کو بلا قصاص اور رائیگاں قرار دیا۔
حدیث نبوی درج ذیل ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَعُ فِيْهِ فَيَنْهَاهُ فَلَا تَنْتَهِيْ وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ — قَالَ: فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشْتِمُهُ فَأَخَذَ الْمِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِيْ بَطْنِهَا وَاتَّكَأَ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلٌ فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ — فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذٰلِكَ لِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللهِ رَجُلًا — فَعَلَ مَا فَعَلَ — لِيْ عَلَيْهِ حَقٌّ — إِلَّا قَامَ — فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ — فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! أَنَا صَاحِبُهَا — كَانَتْ تَشْتِمُكَ وَتَقَعُ فِيْكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِيْ وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ — وَلِيْ مِنْهَا اِبْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ وَكَانَتْ بِيْ رَفِيْقَةً فَلَمَّا كَانَتِ الْبَارِحَةُ جَعَلَتْ تَشْتِمُكَ وَتَقَعُ فِيْكَ فَأَخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِيْ بَطْنِهَا وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا — فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا اِشْهَدُوْا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ [سنن ابی داؤد، باب الحکم فیمن سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم]
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی کی ایک ام ولد باندی تھی۔ وہ حضور اقدس شفیع محشر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے ادبی کرتی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھی۔ وہ اسے روکتے تو وہ نہیں مانتی اور اسے ڈانٹتے تو وہ نہیں ڈرتی تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا: پس جب ایک بار رات ہوئی، وہ حضور اقدس سرورِ دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے لگی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے ادبی کرنے لگی تو وہ نابینا صحابی نے چھوٹی تلوار لی، پھر اس تلوار کو اس کے پیٹ پر رکھ کر دبایا، پس اسے ہلاک کر دیا، پس اس باندی کے دونوں پاؤں کے درمیان ایک بچہ آپڑا، پس وہ اسے خون سے آلودہ کر ڈالی۔ پھر جب صبح ہوئی تو حضور اقدس حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا گیا، پس حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا:
میں رب تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں اس کو کہ اس نے جو کیا، سو کیا۔ میرا اس پر کچھ حق ہے، پس وہ شخص کھڑا ہو جائے تو نابینا صحابی کھڑے ہو کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے اور کانپتے ہوئے حضور اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے، پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) میں اس کا مالک ہوں۔ وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے ادبی کرتی تھی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتی تھی۔
پس میں اسے منع کرتا تو وہ نہیں مانتی اور میں اسے ڈانٹتا تو وہ نہیں باز آتی اور مجھے اس سے موتی کی طرح دو بیٹے ہیں اور میرے ساتھ وہ مہربان تھی، پس جب گزشتہ رات ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بے ادبی کرنے لگی اور برا بھلا کہنے لگی، پس میں نے تلوار لے کر اس کے پیٹ پر رکھا اور اسے دبایا، یہاں تک کہ میں نے اسے ہلاک کر دیا، پس حضور اقدس نورِ مجسم حبیبِ کبریا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
آگاہ ہو جاؤ! تم لوگ گواہ رہو کہ میں نے اس کا خون بلا قصاص قرار دیا۔
لازم ہے دل کے پاس رہے پاسبانِ عقل
ورنہ کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
