| عنوان: | فن نحوایک تعارف (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | سعدیہ سلطانہ عطاریہ |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
عربی زبان و ادب سے بارہ علوم کا تعلق ہے۔ چوں کہ علمِ نحو و صرف اور علمِ بلاغت وغیرہ بھی ان بارہ علوم میں شامل و داخل ہیں، اس لیے ان بارہ علوم کا اجمالی تذکرہ سپردِ قرطاس کیا جاتا ہے۔ شیخ محمد علی بن علی بن محمد تھانوی (م 1158ھ) لکھتے ہیں:
علمِ ادب: شرح مفتاح میں ہے۔ جان لو کہ علمِ عربی جس کا نام علمِ ادب ہے، ایسا علم ہے جس سے عربی کلام میں لفظی و تحریری خلل سے بچا جاتا ہے، اور یہ بارہ قسم کی طرف منقسم ہوتا ہے جیسا کہ علما نے اس کی صراحت کی۔ ان بارہ علوم میں سے چند اصول ہیں جو اس احتراز (غلطی سے محفوظ رہنے) کے باب میں اصل ہیں لیکن اصول تو بحث اس میں یا تو مفردات کے جواہر اور ان کے مادے سے ہوگی تو یہ علمِ لغت ہے، یا ان مفردات کی صورت اور شکل سے بحث ہوگی تو یہ علمِ صرف ہے، یا ان میں سے بعض کے بعض کی طرف اصلیت اور فرعیت کی حیثیت سے انتساب سے بحث ہوگی تو یہ علمِ اشتقاق ہے، یا تو مطلقاً مرکبات سے بحث ہوگی، پس یا تو اس کی صورتِ ترکیبیہ اور اس کے معانی اصلیہ کی ادائیگی کے اعتبار سے بحث ہوگی تو یہ علمِ نحو ہے، یا اس کے زائد معانی کو بتانے کے اعتبار سے بحث ہوگی تو یہ علمِ بیان ہے، یا مرکباتِ موزونہ سے بحث ہوگی، پس یا تو اس کے وزن کے اعتبار سے بحث ہوگی تو یہ علمِ عروض ہے، یا اشعار کے آخری حصے سے بحث ہوگی تو یہ علمِ قافیہ ہے، اور لیکن فروع، پس بحث اس میں یا تو نقوشِ کتابت سے متعلق ہوگی تو وہ علمِ رسم الخط ہے، یا بحث منظوم کے ساتھ خاص ہوگی تو یہ شعرا کا علمِ عروض ہے، یا نثر سے بحث ہوگی تو علمِ انشائے نثر ہے رسائل یا خطبات میں سے، یا بحث رسائل و خطبات کے ساتھ خاص نہ ہوگی تو علمِ محاضرات ہے، اور اسی (علمِ محاضرات) میں سے علمِ تواریخ ہے، اور لیکن علمِ بدیع تو اہلِ علم نے اسے علمِ بلاغت کی دونوں قسم (علمِ معانی و علمِ بیان) کے ماتحت کر دیا ہے اور اسے ایک مسندِ مستقل قسم نہ بنایا۔ [مترجما کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، ج: 1، ص: 3، مطبوعہ: مکتبہ لبنان ناشرون: بیروت]
علمِ نحو کی تعریف، غرض و غایت و موضوع
شیخ محمد علی بن علی بن محمد تھانوی (م 1158ھ) نے تحریر فرمایا:
علم النحو: ويسمى علم الاعراب ايضا على ما مر في شرح اللب وهو علم يعرف به كيفية التركيب العربي صحة وسقما وكيفية ما يتعلق بالالفاظ من حيث وقوعها فيه من حيث هو هو او لا وقوعها فيه [کشاف اصطلاحات الفنون والعلوم، ج: 1، ص: 82، مطبوعہ: مکتبہ لبنان ناشرون: بیروت]
ترجمہ علمِ نحو: اس کا نام علمِ اعراب بھی رکھا جاتا ہے جیسا کہ شرحِ لب میں گزرا۔ یہ ایسا علم ہے کہ اس سے صحیح اور فاسد ہونے کے اعتبار سے عربی ترکیب کی کیفیت معلوم ہوتی ہے، اور اس کی کیفیت سے بحث ہوتی ہے جو الفاظ سے متعلق ہو، ان الفاظ کے عربی ترکیب میں اپنی حیثیت سے واقع ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے ہے۔
آئینۂ ہند حضرت اخی سراج، عثمان چشتی اودھی (656ھ - 758ھ) نے علمِ نحو کی تعریف، غرض و غایت اور موضوع کو بیان کرتے ہوئے رقم فرمایا:
النحو علم باصول يعرف بها احوال اواخر الكلم الثلث من حيث الاعراب والبناء وكيفية تركيب بعضها من بعض والغرض منه صيانة الذهن عن الخطاء اللفظي في كلام العرب وموضوعه الكلمة والكلام [هداية النحو، مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارکپور]
ترجمہ: علمِ نحو ایسے اصول کا جاننا ہے جن کے ذریعے معرب و مبنی ہونے کی حیثیت سے تینوں کلموں (اسم، فعل و حرف) کے آخر کے احوال اور بعض کلموں کو بعض سے مرکب کرنے کی کیفیت معلوم ہو، اور علمِ نحو کی غرض و غایت ذہن کو کلامِ عرب میں لفظی خطا سے محفوظ کرنا ہے، اور اس کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔
علمِ نحو کی اہمیت و فضیلت
علمِ نحو و علمِ صرف کی تعلیم واجب ہے، کیوں کہ قرآن و حدیث سمجھنے کے لیے نحو و صرف کا جاننا لازم ہے۔ امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا:
واجبات و محرمات ہماری شریعت میں دو قسم ہیں، ایک لعینہ یعنی جس کی نفسِ ذات میں مقتضی ایجاب و تحریم موجود ہے، جیسے عبادتِ خدا کی فرضیت اور بت پرستی کی حرمت۔ دوسرے لغیرہ یعنی وہ کہ امورِ خارجہ کا لحاظ ان کی ایجاب و تحریم کا تقاضا کرتا ہے، اگرچہ نفسِ ذات میں کوئی معنی اس کو مقتضی نہیں، جیسے تعلیمِ صرف و نحو کا وجوب کہ ہمارے رب تعالیٰ کی کتاب اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام زبانِ عربی میں ہے اور اس کی فہم بغیر اس علم کے متعذر ہے، لہٰذا واجب کیا گیا۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 552، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]
قال في مدينة العلوم: علم النحو من فروض الكفايات، اذ يحتاج اليه للاستدلال بالكتاب والسنة [ابجد العلوم، ج: 2، ص: 560، دار الکتب العلمیہ بیروت]
ترجمہ: مدینۃ العلوم میں فرمایا: علمِ نحو فرضِ کفایہ میں سے ہے، کیوں کہ قرآن و حدیث سے استدلال کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
علمِ نحو کا آغاز و فروغ
جب مذہبِ اسلام، عرب سے باہر دنیا کے دوسرے ملکوں تک پہنچا اور قرآنِ مجید کی آیاتِ مقدسہ اور احادیثِ مبارکہ و دیگر عربی کلام میں لفظی خطائیں نظر آنے لگیں تو شیرِ خدا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے حکم سے ابو الاسود دولی رضی اللہ عنہ نے عربی کلام کے قوانین کو تحریر فرمایا۔ رفتہ رفتہ یہ فن خلیل بن احمد فراہیدی تک پہنچا۔ انہوں نے فنِ نحو کو مرتب کیا اور اس کے ابواب کو مکمل فرمایا۔ خلیل فراہیدی سے ان کے مشہور شاگرد سیبویہ نے اس فن کو سیکھا اور انہوں نے فنِ نحو پر انتہائی کامل کتاب تحریر فرمائی۔ ان کے بعد ابوعلی فارسی اور ابوالقاسم زجاج نے طالبِ علموں کے لیے مختصر کتابیں تحریر فرمائیں، پھر فنِ نحو کے جزئی مسائل میں اہلِ بصرہ اور اہلِ کوفہ کے درمیان بہت سے اختلاف ہوئے۔
ما بعد کے علما میں سے بعض نے نحوی مسائل اور علمائے نحو کے اختلافات کو اختصار کے ساتھ بیان کیا، جیسے ابنِ مالک نے کتاب 'التسہیل' (تسہیل الفوائد) میں کی، اور بہت سے علما نے صرف مسائلِ نحویہ کو طالبِ علموں کے لیے کتابوں میں جمع فرما دیا۔ انہوں نے اختلافات کو بیان نہ کیا، بلکہ نحو کے مسائل پر اکتفا کیا، جیسے جار اللہ زمخشری نے 'مفصل' میں اور علامہ ابنِ حاجب نے 'کافیہ' میں کیا۔ رفتہ رفتہ فنِ نحو میں بے شمار کتابیں ہو گئیں۔ [ابجد العلوم: از نواب صدیق حسن خاں بھوپالی، ج: 2، ص: 562، دار الکتب العلمیہ بیروت، ملخصاً و مترجماً]
سابق ناظمِ ندوہ، عبدالحی رائے بریلوی (1286ھ - 1341ھ / 1869ء - 1923ء) نے لکھا: جب اسلام کا فروغ عجمی ممالک تک ہوا اور عربی زبان میں خطاؤں کا احتمال ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابوالاسود دولی کو بلا کر عربی زبان کے قوانین لکھوائے اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عربی زبان کے جو کچھ قوانین بنائے تھے، وہ حضرت ابوالاسود دولی کو عطا فرما کر ارشاد فرمایا: "انح هذا النحو" (اس طریقے پر لکھ لیں)۔ ('نحو' کا لفظ استعمال فرمانے کے سبب) اس فن کا نام 'نحو' رکھ دیا گیا۔ حضرت ابوالاسود دولی رضی اللہ عنہ نے فنِ نحو کے بہت سے قوانین تحریر فرمائے، پھر ان کے تلامذہ اس فن کی جانب متوجہ ہوئے اور انہوں نے اس فن کو فروغ دیا اور اس کے ابواب کو مکمل کیا۔ حضرت ابوالاسود دولی رضی اللہ عنہ کے مشہور تلامذہ یہ ہیں: (1) عنبسہ معروف بہ عنبسۃ الفیل (2) یحییٰ بن یعمر عدوانی (3) عطا بن اسود (4) ابوالحارث (5) عیسیٰ بن عمر ثقفی (6) ابو عمرو بن علاء (7) خلیل بن احمد فراہیدی۔
ہارون رشید کے زمانے میں سیبویہ: عمرو بن عثمان بن قنبر شیرازی بصری ابو بشر (م 180ھ) نے علمِ نحو کے تمام مسائل و جزئیات کو اپنی تصنیف 'الکتاب' میں جمع کر دیا، پھر ابوعلی فارسی اور ابوالقاسم زجاج نے متعلمین کے لیے علمِ نحو کی مختصر کتابیں تحریر فرمائیں۔ [معارف العوارف في انواع العلوم والمعارف: از عبد الحي رائے بریلوی، ص: 19 - 20، دمشق، ملخصاً و مترجماً]
فنِ نحو کی کتابوں میں علامہ ابنِ حاجب کی کتاب 'کافیہ' کو بہت زیادہ شہرت و قبولیت حاصل ہوئی۔ بے شمار علما نے اس کے شروح و حواشی تحریر فرمائے۔ کافیہ کی مشہورِ زمانہ شرحوں میں شیخ عبدالرحمن جامی کی شرح ہے جو 'شرح جامی' کے لقب سے متعارف ہے۔
فنِ نحو کے متقدمین و مشاہیر
-
خلیفۂ چہارم شیرِ خدا حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ
-
حضرت ابوالاسود دولی: ظالم بن عمرو بن سفیان بن جندل دولی کنانی (16ق ھ - 69ھ / 605ء - 688ء)
-
خلیل فراہیدی: خلیل بن احمد بن عمرو بن تمیم ازدی محمدی، ابو عبدالرحمن (100ھ - 170ھ / 718ء - 786ء)
-
سیبویہ: عمرو بن عثمان بن قنبر فارسی بصری، ابو بشر (م 180ھ)
-
فراء کوفی: یحییٰ بن زیاد بن عبداللہ بن منظور دیلمی، ابوزکریا (144ھ - 207ھ / 761ء - 822ء)
-
مبرد بصری: محمد بن یزید بن عبدالاکبر ثمالی ازدی، ابوالعباس (210ھ - 285ھ / 826ء - 898ء)
-
زجاج: ابراہیم بن سری بن سہل، ابواسحاق (241ھ - 311ھ / 855ء - 923ء)
-
اخفش اصغر بغدادی نحوی: علی بن سلیمان بن فضل، ابوالمحاسن (م 315ھ / 927ء)
-
ابوعلی فارسی: حسن بن احمد بن عبدالغفار فارسی (288ھ - 377ھ / 900ء - 987ء)
علمِ نحو کی کتابیں
حاجی خلیفہ مصطفیٰ بن عبداللہ کاتب چلپی حنفی قسطنطینی (1017ھ - 1067ھ) کی کتاب 'کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون' انتہائی معتبر و متداول اور مشہور و معروف ہے۔ یہ 'علم قوائم الکتب والفنون' اور فنِ 'تقاسیم العلوم' کی ایک عظیم کتاب ہے۔ حاجی خلیفہ کاتب چلپی نے فنِ نحو کی بہت سی کتابوں کا تذکرہ حروفِ ابجد کی ترتیب پر کیا ہے۔ انہوں نے درج ذیل کتابوں کے نام تحریر فرمائے: (1) الابنیہ (2) الفیۃ ابن مالک (3) الفیۃ ابن معطی (4) الاشارات (5) الافتتاح (6) اوضح المسالک (7) الانموذج (8) الاصباح (9) الاقلید (10) اسرار العربیہ (11) الارشاد (12) اصول النحو (13) الازہیہ (14) اوثق الاسباب (15) ارشاد السالک (16) شرح الالفیہ (17) ارتشاف الضرب (18) البرہان شرح الایضاح (19) بسیط الاعراب (20) الخبیر شرح المفصل (21) توضیح اوضح المسالک (22) تہذیب الفصول (23) تسہیل الفوائد (24) تحفۃ الطلاب (25) تصریح خالد الازہری (26) التحفۃ الشافیۃ شرح الکافیہ (27) تمرین الطلاب (28) التحفۃ الوافیہ (29) جمل عبدالقادر (30) الجمل الہادیہ (31) جمل الزجاج (32) خصائص النحو (33) خزانۃ اللطائف شرح المصباح (34) رفع الستور والارائک (35) ربط الشوارد (36) شذور الذہب (37) شرح الدیباجہ (38) شرح الشواہد (39) الضوء شرح المصباح (40) العوامل (41) عمدۃ الحافظ (42) عنوان الافادہ (43) العنقود (44) عقود اللمع (45) الغرۃ المخفیۃ شرح درۃ الالفیہ (46) فصولِ فاخر (47) قواعد الاعراب (48) قطر الندیٰ (49) الکفایہ (50) کفایۃ المحرر (51) کفایۃ الغلام (52) اللباب (53) لب الالباب (54) اللب مختصر الکافیہ (55) اللمع (56) مغنی اللبیب (57) المتوسط (58) المفصل (59) الملحہ (60) الملخص (61) مقدمۃ الجزولی (62) مقدمۃ علی بن عیسیٰ (63) المقرب (64) مغنی الصغریٰ (65) موصل الطلاب (66) مرشدۃ الطلاب (67) المحصول (68) المصباح (69) المستشہد (70) مقدمۃ ابن بابشاذ (71) المنحہ (72) مقصد المسالک (73) المرتجل (74) المقالید شرح مصباح (75) المشکاۃ شرح المصباح (76) معرفۃ الاعراب (77) المحتسب (78) معانی الحروف (79) الوافیہ (80) الہدایہ۔ [کشف الظنون عن الاسامی والفنون، ج: 2، ص: 1934، المکتبۃ الشاملہ]
ہند و پاک میں فنِ نحو کی اہم درسی کتابیں
-
نحو میر: میر سید شریف علی بن محمد جرجانی حنفی (740ھ - 816ھ)
-
ہدایۃ النحو: آئینۂ ہند حضرت اخی سراج، عثمان چشتی اودھی (656ھ - 758ھ)
-
کافیہ: جمال الدین ابنِ حاجب مالکی: عثمان بن عمر بن ابوبکر بن یونس (570ھ - 646ھ / 1174ء - 1249ء)
-
شرح جامی: عبدالرحمن بن احمد بن محمد جامی (817ھ - 898ھ / 1414ء - 1492ء)
کیرلا کے مدارس میں 'الالفیہ' (ابنِ مالک: محمد بن عبداللہ، ابنِ مالک طائی جیانی، ابو عبداللہ، جمال الدین: 600ھ - 672ھ / 1203ء - 1274ء) اور 'قطر الندیٰ' (از: ابنِ ہشام: عبداللہ بن یوسف بن احمد بن عبداللہ ابنِ یوسف، ابو محمد جمال الدین: 708ھ - 761ھ / 1309ء - 1360ء) داخلِ نصاب ہے۔
امام احمد رضا قادری اور علمِ نحو
نحوی مسائل سے متعلق امام احمد رضا قادری کی تحقیقات 'فتاویٰ رضویہ' اور ان کی دیگر تصانیف میں جا بجا موجود ہیں۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کے تمام نحوی افادات کا استیعاب کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ بطورِ تمثیل اس مضمون میں چند اہم اقتباسات نقل کیے جائیں گے، تاکہ فنِ نحو میں آپ کا تبحرِ علمی ظاہر ہو سکے۔ اسی طرح اصولِ فقہ کی طرح قوانینِ نحو سے مسائلِ شرعیہ کی تفہیم و تحقیق کا طریقہ بھی واضح ہو سکے۔
امامِ اہلِ سنت قدس سرہ العزیز کے اقتباسات کے درمیان عربی عبارتوں کے تراجم مرقوم ہیں۔ ان میں سے بہت سے تراجم خود امامِ ممدوح کے تحریر کردہ ہیں۔ اگر میں نے اقتباس کے درمیانی حصوں میں ترجمہ لکھا ہے تو اسے قوسین کے مابین رکھا ہے، تاکہ فرق ہو جائے۔
علمِ نحو میں امام احمد رضا کی مستقل تصنیف
(1) شرح ہدایۃ النحو (عربی)
فنِ نحو کی مشہور کتاب 'ہدایۃ النحو' کی شرح آپ نے عہدِ طالبِ علمی میں تحریر فرمائی تھی، جب کہ آپ کی عمر صرف آٹھ برس تھی۔ ظنِ غالب یہی ہے کہ یہ آپ کی پہلی تصنیف ہے۔ اس سے قبل آپ کی کسی تصنیف کا ذکر نہیں ملتا。
علامہ مفتی بدرالدین احمد رضوی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا: "آپ نے آٹھ برس کی عمر میں فنِ نحو کی مشہور کتاب 'ہدایۃ النحو' پڑھی، اور خداداد علم کے زور کا یہ عالم تھا کہ اسی طفلی کی عمر میں 'ہدایۃ النحو' کی شرح عربی زبان میں لکھ ڈالی۔" [سوانح اعلیٰ حضرت، ص: 102، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر پاکستان]
معرفہ ہونے کے وقت خبر کی تقدیم قاعدۂ اکثری ہے، قاعدۂ کلی نہیں
امام احمد رضا قادری نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے متعلق وارد ہونے والی آیتِ کریمہ: {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} کی انتہائی نفیس تشریح اپنے رسالے: 'الزلال الانقی من بحر سبقت الاتقی' میں فرمائی۔ یہاں ایک شبہہ ہوتا ہے کہ فنِ نحو کا قانون ہے کہ جب مبتدا و خبر دونوں معرفہ ہوں تو مبتدا کو مقدم کرنا واجب ہے۔ ایسی صورت میں آیتِ کریمہ کا یہ مفہوم ہوتا ہے کہ تم میں جو زیادہ معظم و مکرم ہے، وہی بارگاہِ الٰہی میں زیادہ تقویٰ والا ہے۔ جب کہ مفسرین نے یہ معنی بتایا ہے کہ جو زیادہ تقویٰ والا ہے، وہی دربارِ الٰہی میں زیادہ معظم و مکرم ہے۔ یہ مفہوم نحوی قانون سے موافقت نہیں رکھتا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے امام احمد رضا قادری نے تحریر فرمایا:
و من ههنا بان لك ان ما قالت النحاة من وجوب تقديم المبتدا على الخبر اذا كانا معرفتين او متساويين امر اکثری، لا كلى وانما المعنى على اللبس واذ ليس فليس بذلك صرح الشراح ولا يغرنك اطلاق المتون فانها ربما تمشى على الاطلاق في مقام التقييد في علم الفقه فكيف بغيره من الفنون [رسالہ: الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی: فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 649، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]
ترجمہ: یہاں سے تمہیں ظاہر ہو گیا کہ نحویوں نے جو یہ کہا کہ مبتدا کو خبر پر مقدم کرنا ضروری ہے، جب دونوں معرفہ ہوں یا تنکیر و تعریف میں دونوں برابر ہوں، یہ اکثری قاعدہ ہے، کلی قاعدہ نہیں اور معنی یہی ہے کہ مبتدا کی تقدیم ایسی صورت میں اس وقت واجب ہے جب کہ التباس کا اندیشہ نہ ہو تو واجب نہیں۔ شارحین نے اس کی تصریح کی تو ہرگز تمہیں متون کا اس مسئلے کو مطلق رکھنا دھوکے میں نہ ڈالے، اس لیے کہ متون تو بسا اوقات اطلاق کی راہ چلتے ہیں مسئلے کو مقید رکھنے کے مقام میں، علمِ فقہ میں تو تمہارا کیا گمان ہے، فقہ کے سوا دوسرے فنون میں۔
جب مبتدا و خبر دونوں معرفہ ہوں یا دونوں مساوی ہوں تو مبتدا کو مقدم کرنا ضروری ہے۔ یہ قاعدہ علمِ نحو کی کتابوں میں مرقوم و مشہور ہے، لیکن یہ قاعدۂ اکثری ہے یا قاعدۂ کلی ہے، اس کی وضاحت نہیں ملتی۔ امام احمد رضا قادری نے شروح کے حوالے سے یہ وضاحت فرمائی کہ یہ قاعدۂ کلی نہیں، بلکہ اکثری ہے۔ اس سے فنِ نحو میں امام احمد رضا کے وسیع الادراک ہونے کا پتا چلتا ہے۔ مذکورہ بالا مفہوم کی تقویت کے لیے امامِ ممدوح نے حدیثِ نبوی اور قولِ محدثین سے بھی استدلال فرمایا۔ آپ نے رقم فرمایا:
اخرج البخاري في التاريخ والترمذي وابن حبان بسند صحيح عن عبد الله بن مسعود رضی الله تعالى عنه عن النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: ان اولى الناس بي يوم القيمة اكثرهم عَلَى صلوة
قال الفاضل الشارح: اى اقربهم مني في القيامة وأحقهم بشفاعتي اكثرهم على صلاة في الدنيا لان كثرة الصلوة عليه صلى الله تعالى عليه وسلم تدل على صدق المحبة وكمال الوصلة فتكون منازلهم في الآخرة منه صلى الله تعالى عليه وسلم بحسب تفاوتهم فی ذلک اهـ [فتاویٰ رضویہ، ج: 28، ص: 246، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور]
ترجمہ: امام بخاری نے تاریخ میں اور ترمذی اور ابن حبان بہ سندِ صحیح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے راوی، وہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ مجھ سے قریب وہ ہوگا، جو سب لوگوں سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہے۔
فاضل شارح امام عبدالرؤف مناوی شافعی (952ھ - 1031ھ) نے فرمایا: یعنی قیامت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ میری شفاعت کا حق دار وہ شخص ہوگا، جو دنیا میں مجھ پر سب سے زیادہ درود پڑھتا تھا، اس لیے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت سچی محبت اور کمالِ ربط پر دلالت کرتی ہے تو ان لوگوں کے مدارجِ آخرت میں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں اس امر میں ان لوگوں کے تفاوت کے اعتبار سے ہوں گے۔ [حوالہ: مصنفِ اعظم، ص: 718 تا 723]
جاری ہے...
