| عنوان: | علامہ نعیم الدّین مراد آبادی (قسط: اوّل) |
|---|---|
| تحریر: | حضرت علامہ مفتی بہاء المصطفیٰ قادری مدظلہ العالی |
| پیش کش: | نازیہ فاطمہ |
سیدنا اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ”دبدبہ سکندری“ نام کا ہفتہ روزہ (ویکلی) اخبار رامپور، یوپی سے چھپتا تھا، ہر ہفتہ آتا۔ اس اخبار میں مولوی نعیم الدین مراد آبادی صاحب کا مضمون اکثر آتا رہتا جو مسلکِ اہلِ سنت کی حقانیت پر، کبھی حالاتِ حاضرہ پر بہت مفید و مستند ہوتا تھا، جو اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی نظر سے گزرتا، پڑھ کر بہت خوش ہوتے، مگر مولوی نعیم الدّین صاحب سے متعارف نہیں تھے۔
مراد آباد کے ایک عقیدت مند مرید حاجی صاحب اکثر دس پندرہ روز پر اعلیٰ حضرت کی زیارت کے لیے بریلی شریف آتے۔ ایک روز حاجی صاحب سے فرمایا: ”یہ مولوی نعیم الدّین مراد آبادی کون صاحب ہیں؟ ان کو مجھ سے ملوائیے، یہ بہت کام کے ہیں۔“ چند ملاقاتوں ہی میں اعلیٰ حضرت کے فیض سے مالا مال ہو کر اعلیٰ حضرت کے ہو کر رہ گئے اور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کی نظرِ کیمیا اثر نے آپ کو ”صدر الافاضل“ اور ”مفسرِ قرآن“ کے لقب سے مشہور و معروف کرا دیا۔
سیدنا اعلیٰ حضرت کی نظر میں بہت معتمد و مستند مانے جاتے تھے، مباحثہ یا اہم جلسے وغیرہ کے لیے آپ ہی کو روانہ کیا کرتے، آپ کی تحریر و تقریر بہت موثر ہوا کرتی۔ عرسِ رضوی میں قل شریف کے وقت آخری تقریر آپ کی یا صدر الشریعہ کی ہوا کرتی۔ حضرت صدر الشریعہ اور صدر الافاضل علیہما الرحمہ کے درمیان بہت الفت و محبت تھی، ہر سال جامعہ نعیمیہ کے سالانہ جلسہ میں صدر الشریعہ کو مدعو فرماتے، اس جلسہ میں صدر الشریعہ کی معرکۃ الآرا تقریر ہوا کرتی۔
حضرت محدثِ اعظم ہند فرماتے ہیں کہ حضرت صدر الافاضل فرماتے تھے کہ میں صدر الشریعہ کی ایک تقریر سے تین تقریریں تیار کر لیتا ہوں۔ اس پر محدثِ اعظم ہند نے فرمایا: ”اور میں صدر الافاضل کی ایک تقریر سے دس تقریریں تیار کرتا ہوں۔“ اللہ اکبر! ان بزرگوں کے بیان میں کتنا علمی ذخیرہ ہوا کرتا تھا۔ کاش! اس وقت ان تقریروں کو قلم بند کر لیا گیا ہوتا تو بہت بڑا علمی ذخیرہ ہم لوگوں کو حاصل ہوتا۔
عرسِ رضوی میں ہر سال صدر الشریعہ اور حضرت صدر الافاضل جلوہ افروز ہوا کرتے، حضور سرکار مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دولت خانہ پر قیام ہوتا، اور قیام گاہ پر حضور مفتیِ اعظم ہند رحمۃ اللّٰہ علیہ اکثر مزاج پرسی کے لیے تشریف لاتے۔
حضرت حاجی مولانا مبین الدین صاحب قبلہ شیخ الحدیث جامعہ مظہرِ اسلام بریلی شریف ذکر فرمایا کرتے کہ حضرت صدر الافاضل جب بریلی آتے ساتھ میں اسٹوو ضرور لاتے۔ سفر میں اسٹوو ساتھ میں رکھنا آپ کی عادت تھی تاکہ چائے وغیرہ کی پریشانی نہ ہو۔ ایک روز حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمہ مزاج پرسی کو تشریف لائے اس وقت صدر الشریعہ بھی تشریف فرما تھے، حضرت صدر الافاضل نے خادم سے فرمایا: ”چائے بنا لو۔“ خادم نے چائے بنانے کے لیے اسٹوو جلانا شروع کیا (اس وقت اسٹوو کا برنر اسپرٹ سے گرم کیا جاتا تھا) اس پر حضور مفتیِ اعظم ہند نے فرمایا: ”آپ اسپرٹ استعمال کرتے ہیں، جب کہ اسپرٹ کا استعمال حرام ہے۔“ اس پر صدر الافاضل نے فرمایا: ”استعمال کہاں کر رہا ہوں، میں تو ضائع کر رہا ہوں۔“
حضور مفتیِ اعظم اسپرٹ سے اسٹوو جلانے کو اسپرٹ کا استعمال فرماتے اور حضرت صدر الافاضل اسپرٹ جلانے کو ضائع کرنا فرماتے۔ بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی اور صدر الشریعہ دونوں صاحبان کی گفتگو سماعت فرماتے رہے اور مسکراتے رہے، مگر صدر الافاضل قائل نہیں ہوئے۔ اس پر کسی نے صدر الشریعہ سے کہا: ”صدر صاحب! آپ بھی کچھ فرمائیں۔“ اس پر صدر الشریعہ نے صدر الافاضل سے دریافت فرمایا: ”آپ اسپرٹ کیوں خریدتے ہیں؟“ جھٹ جواب دیا: ”اسٹوو جلانے کے لیے۔“ اس پر صدر الشریعہ نے فرمایا: ”یہی تو اس کا استعمال ہے۔“ حضرت صدر الافاضل مسکرا کر خاموش ہو گئے۔
حضرت حاجی مبین الدّین صاحب امروہوی شیخ الحدیث مظہرِ اسلام بریلی شریف فرماتے ہیں: یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ مدرسہ اسلامیہ اندرکوٹ، میرٹھ میں شیخ النحو حضرت سیّد غلام جیلانی میرٹھی (شارح بخاری شریف و قافیہ وغیرہما) کے ہمراہ درس دیتے تھے۔ ایک مولانا صاحب میرٹھی آئے۔ اور پوچھنے لگے: ”حضرت آپ نے دونوں بزرگوں کی شاگردی اختیار کی ہے، آپ کے دونوں استاذ ہیں، یہ تو بتائیں ان دونوں میں زیادہ ماہر اور افضل و اعلیٰ کون ہے؟“ اس پر آپ نے فرمایا: ”دونوں استاذ چندے آفتاب چندے ماہتاب ہیں۔“ اس پر وہ صاحب کہنے لگے: ”نہیں، آپ صاف صاف بتائیں آپ چھپا رہے ہیں۔“ اس پر آپ نے فرمایا: ”ہر گل را رنگ و بوئے دیگر است“ مگر وہ صاحب بضد رہے کہ ایک کو دوسرے پر ترجیح اور وجہ ترجیح بھی بتائیں۔ اب آپ کو جلال آ گیا۔ جلال میں فرمایا: ”میں ایک کو عالم و فاضل اور دوسرے کو جاہل کہوں تب تم خاموش ہوگے؟“
ماشاء اللہ! کیا ادب و احترام تھا اپنے اساتذہ کا کہ تقابل کرنا بھی ناروا جانتے تھے اور آج شاگردوں کا یہ حال ہو گیا ہے کہ اپنے استاذ اور علماء کی بدگوئی اور افترا پردازی اور فخریہ تقریر یا تحریر میں ذکر کرنا اپنا شیوہ بنا لیا ہے، دن و رات ہجو و الزام تراشی کو اپنا بڑا کارنامہ سمجھنا۔ الامان و الحفیظ!
اللّٰہ ہمیں علماء اور خاص طور سے اپنے اساتذہ کی بدگمانی اور ہجو کے مرض سے محفوظ و مامون رکھے۔ اور ان کے فیض و برکات سے ہر جگہ مستفیض و مستنیر فرمائے۔ آمین۔
اسی طرح کا ایک واقعہ کسی طالبِ علم کا، حضرت سیّدنا عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ”سبع سنابل شریف“ کے کسی سنبلہ میں تحریر فرمایا ہے، وہ آج کل کے شاگردوں کے لیے تازیانہ ہے، اگر موقع میسر آئے تو ضرور اس کا مطالعہ کریں۔
مراد آباد کے ایک بہت ہاکڑ مقرر صاحب جن سے میری کافی ملاقات رہی، بہت دنوں کے بعد شاہجہاں پور کے ایک علاقے میں ایک جلسہ میں ملاقات ہو گئی۔ سلام و مزاج پرسی کے بعد اِدھر اُدھر کی گفتگو ہونے لگی، درمیانِ گفتگو کہنے لگے: ”اعلیٰ حضرت نے کیا کمال کیا ہے؟ ان میں کیا خوبی تھی؟ یہ کہیے کہ اعلیٰ حضرت کو ایسے ایسے قابل ذی صلاحیت رفقاء مل گئے جیسے حجۃ الاسلام، مفتیِ اعظم، صدر الافاضل، صدر الشریعہ، ملک العلماء وغیرہم جنہوں نے اعلیٰ حضرت کی تعلیم و خدمات میں چار چاند لگا دیے اور مقبولیت کے آسمان پر پہنچا دیا، ورنہ اعلیٰ حضرت کو کون جانتا؟ یہ سب کامیابی کا سہرا ان کے رفقا کے سر جاتا ہے۔“
اس پر میں نے کہا: ”مولانا صاحب! اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اگر امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کو امام ابو یوسف، امام محمد شیبانی، امام زفر، امام حسن بن زیاد وغیرہم رضی اللہ عنہم جیسے اصحابِ بصیرت اور فضل و کمال اور دقیق نظر والے نہ ملتے تو امامِ اعظم نعمان بن ثابت، ابو حنیفہ ہی رہتے۔ دنیا میں امامِ اعظم کے نام سے ائمہ میں مشہور و معروف نہ ہوتے اور آپ کی خدماتِ دین اور مستخرجہ مسائل کی تقلید دنیا کے دو تہائی مسلمان ہرگز نہ کرتے۔ یہ تو امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کا علمی فیضان ہے کہ آپ نے اپنے اصحاب کی صحیح رہنمائی اور تخریجِ مسائل کا قرینہ خوب روشن و منور کر کے بتا دیا جس کے قائل خود اصحابِ امامِ اعظم ہیں، بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ اصحابِ امامِ اعظم کی شہرت کی وجہ ہی امامِ اعظم کی شاگردی ہے۔ مولانا! یہ اندازِ خیال اور نظریہ تو ابوالاعلیٰ مودودی کا ہے، جس نے اپنی کسی تصنیف غالباً ”تجدید احیائے دین“ میں لکھا ہے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کامیابی اور عروج، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ایسے ایسے اصحاب مل گئے جن کی کوششوں نے یہ دن دکھایا۔“
حضرت صدر الافاضل مراد آبادی ایک عبقری شخصیت کے مالک ہیں جن کی خدمات کا ایک زمانہ معترف ہے۔ سرکار اعلیٰ حضرت کے معتمد اصحاب میں شمار ہوتے ہیں۔ ہند و پاک میں مفسرِ قرآن سے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کی تصنیف اور متفرق مضامین جو سوادِ اعظم رسالہ میں چھپتا رہتا تھا، وہ سب دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں، مطالعہ کے بعد آپ کی عبقری شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے اور گردن خم ہو جاتی ہے۔
گرامی قدر مولانا نور الحسن گونڈوی صاحب نے حضرت صدر الافاضل علیہ الرحمہ کی خدمات و شخصیات پر قلم کی جولانی کا بیڑا اٹھایا، ”سیرت صدر الافاضل“ پر ایک گلدستہ ہے، جو نئی ترتیب و تہذیب سے بھر پور نئے نئے عنوانات کے ساتھ منظرِ عام پر عنقریب لا رہے ہیں، جس پر ہم ان کو ڈھیروں مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
عزیز گرامی مولانا نور الحسن صاحب کے بار بار کی فرمائش بصورتِ حکم نے تعمیل کرنے پر مجبور کر دیا، یہ چند کلمات سپردِ قرطاس کر دیے، پرانی یادداشت کی بنیاد پر۔
مولانا! یہ چند ٹوٹے پھوٹے کلمات اگر آپ کی شاہکار کے معیار پر اتریں تو شاملِ اشاعت کر لیں ورنہ تلف کر دیں، مجھے کوئی رنج نہ ہوگا۔
دعا ہے مولیٰ تعالیٰ مولانا کی تصنیفی خدمات کو خواص و عوام میں قبولیتِ عام و تام فرمائے اور ذریعۂ نجات بنائے۔ آمین۔
[سہ ماہی امجدیہ، جنوری تا مارچ 2023ء]
