دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
مضمون نگار
موضوعات
کل مضامین
بولتے مضامین

فنِ خطاطی

عنوان: فنِ خطاطی
تحریر: آفرین لاکھانی
پیش کش: نوائے قلم رضویہ اکیڈمی للبنات، مبارک پور

فقط قلم سے حسین و جمال انداز میں لکھ کر نمائش کرنے کا نام خطاطی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک فن ہے جس میں ایک خطاط اپنے تصورات، تخیلات، افکار و نظریات کو خوب صورت انداز بذریعہ قلم کاغذ پر منتقل کرتا ہے۔ قلم کے ذریعے کاغذ پر کھینچے گئے نقوش کا ہر ایک نقطہ مبصر کہ قلب کو موثر کرتا۔ خطاطی میں لکھی ہوئی ایک عبارت یا آیت کے لفظوں میں بظاہر تو سیاحی نظر آتی ہیں۔

لیکن ان لفظوں کے حروف کی ہر لکیروں اور نقطوں میں خطاط کے احساس و جذبات پوشیدہ ہوتے ہیں اور نفسیات کے توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔ خطاط کیے ہوئے لفظوں کی سیاحی حروف کی خوب صورتی کو حسین و جمیل انداز میں نمایاں کرتی ہے جس طرح سے شبنم کی شفاف قطرے ممتاز پھولوں اور غنچوں پر عیاں ہوتے ہیں۔

خطاطی کی تاریخ

فن خطاطی کی تعلیم مسلمانوں میں ایک خاص اہمیت کی حامل ہے۔ عربی میں فنِ خطاطی کے آغاز کے بارے میں عام طو رپر ماہرین کا اختلاف ہے لیکن یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا عروج اس وقت ہوا جب عربی قرآن کریم کی زبان بن گئی، اور اس کے رسم الخط میں اس صحیفہ آسمانی کو رقم کیا جانے لگا، پہلی وحی الٰہی یعنی قرآن کی ابتدائی آیات کو لکھنے کا شرف خالد بن سعد بن العاص کو حاصل ہوا۔

مکی زندگی میں چاروں خلفائے راشدین کو بھی یہ سعادت نصیب ہوئی، مدنی زندگی میں کاتبانِ وحی کی تعداد چالیس تک پہونچتی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں نام حضرت ابی بن کعب کا ہے جنہیں آخری وحی لکھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

مسجدِ نبوی کے مبارک در و دیوار کے خطاط کون ہیں

خطاطی کا یہ فن پہلے جانوروں کی خال اور چمڑوں پر کیا جاتا تھا، پھر تختیوں اور اینٹوں پر کیا جانے لگا، جس کا مقصد فقط آسان فہم اور لوگوں تک اپنی باتیں پہنچانا ہوتا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ جدید دور میں اس روایت کو ایک مخصوص فن کے طور پر سیکھا جانے لگا، اور خطاطی میں حسین و جمیل انداز میں مسجدوں کی دیواروں پر فن خطاطی کے نقوش میں دعائیں وغیرہ لکھی جانے لگیں۔

مسجد نبوی کے مبارک دیواروں پر، حضورﷺ کے روضہ مبارک کے مختلف جگہوں میں، مسجد نبوی کے محراب پر، درود پاک لکھنے کی سعادت حضرت شفیق الزمان کو حاصل ہوئی ہے، جنہوں نے مسجد نبوی کی مبارک دیواروں پر فن خطاطی میں درود و آیات لکھنے کی خدمتیں پیش کی ہیں۔ انہوں نے مسجد نبوی کی کافی جگہوں پر سنہرے رنگ سے خط ثلث میں نہایت عمدہ انداز میں درودِ پاک تحریر فرمایا ہے۔

خطوط العربی رسم الخط

خط ثلث عربی زبان کا ایک مشہور اور قدیم خط ہے جسے ابن مقلہ شیرازی نے فروغ دیا۔ خط ثلث تمام اسلامی خطوط میں خوبصورت ترین خط سمجھا جاتا ہے، جسے تاج الخطوط العربیہ بھی کہا جاتا ہے۔

خط رقعہ اس کو تمام خطوط میں سب سے سھل خط سمجھا جاتا ہے۔ عثمانی دور میں خط رقعہ کو ممتاز بک نے ایجاد کیا، جو سلطان عبدالمجید اول کے عہد میں ایک مشہور استاد تھے۔ اور انہوں نے خط رقعہ کو ایک الگ اور منفرد شکل دی۔ عرب کے لوگ عموماً اپنے خطوط کی تحریر میں اسی خط کا استعمال کرتے تھے چوں کہ یہ سب سے آسان اور تیز رفتار خط تھا۔

خط نستعلیق شہنشاہ بابر کے ذریعہ ہندوستان آیا، اور وہ اردو کا وہ خط ہے جس رسم الخط میں جدید دور کی اردو درسی کتابیں شائع ہو رہیں ہیں۔

خط نسخ عربی کا مشہور ترین خط ہے، جو طویل عرصے تک اسلامی دنیا میں رائج رہا۔ خطِ نسخ کتابت قرآن مجید کے لیے بھی مستعمل ہے۔ خط نسخ کے موجد عباسی وزیر ابن مقلہ شیرازی تھے جنہوں نے نبطی خط کی مدد سے عباسی خلیفہ المقتدر باللہ کے عہدِ حکومت میں یہ بے نظیر خط ایجاد کیا۔

اسی طرح عربی خطاطی میں کئی سارے خطوط شامل ہے، جن میں کچھ کے نام یہ ہیں: خط ریحان، خط محقق، خط توقیع، خط دیوانی، خط کوفی وغیرہ۔ ہر خط کے ہر حروف کے لکھنے کا انداز جداگانہ ہے، ہر خط کا طریقہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ تمام خطوط العربیہ میں منفرد زیبائش و دلکشی پوشیدہ ہے۔ یہ وہ فن ہے جو ایک عام عبارت کو حسین و جمیل اور موثر بناتے ہیں۔

لوگوں کے دلوں میں اس فن کا ذوق و شوق

ایرانیوں کے ذوقِ جمال کی بدولت فنِ خطاطی میں وہ ترقی ہوئی جو پہلے نہیں ہوسکی تھی۔ یوں تو اس فن میں کمال حاصل کرنے والے ہردور میں پیدا ہوتے رہے ہیں، لیکن جب سے خطاطی اور کتابت کا فن جدید دور کی ٹیکنالوجی میں الجھ کر کمپیوٹر کے قالب میں ڈھلا ہے، تب سے اس فن کے ساتھ لوگوں کی دلچسپی کم ہوگئی ہے۔

اس فن سے لوگوں کی واقفیت اختتام کی حدود کے قریب ہے، لیکن اس کے باوجود کچھ ماہرین آج بھی موجود ہیں جنہوں نے ماضی کی روایات کو زندہ رکھا ہے، اور اس فن کو فروغ دینے میں، لوگوں کے دلوں میں فنِ خطاطی کا ذوق شوق بیدار کرنے کی کاوشوں میں مسلسل کوشاں ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!