| عنوان: | شارحِ بخاری اور خطابت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی بدر عالم مصباحی پرنسپل الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور |
تبلیغ اور پیامِ رشد و ہدایت کو عام سے عام تر کرنے کے لیے تقریر و تحریر مضبوط اور آسان وسیلے ہیں۔ لیکن تحریر کی افادیت ایک مخصوص طبقے ہی تک محدود البتہ پائیدار رہتی ہے اور تقریر کی افادیت کا دائرہ بہ نسبت تحریر کے کچھ زیادہ وسیع ہے کہ پڑھی لکھی اور ان پڑھ عوام دونوں مستفیض ہوتی ہیں۔
حضرت شارحِ بخاری مدظلہ العالی پر پروردگارِ عالم کا خصوصی کرم ہے کہ تقریر و تحریر دونوں میدانوں میں اللہ عزوجل نے آپ کو یدِ طولیٰ عطا فرمایا ہے۔ جس طرح حضرت شارحِ بخاری کے قرطاس و قلم کا سکہ اپنوں اور غیروں کے ذہن و فکر پر بیٹھا ہوا ہے اسی طرح خطباتِ شارحِ بخاری کی دھمک بھی سب نے محسوس کی۔ حضرت شارحِ بخاری کا رنگِ خطابت خصوصیت سے فرقِ باطلہ کی تردید میں کچھ زیادہ ہی نمایاں نظر آتا ہے۔
ہند و بیرونِ ہند جہاں کہیں اور جب کبھی بھی باطل نے سر اٹھایا، باطل کا سر کچلنے کے لیے لوگوں کو حضرت شارحِ بخاری کی ضرورت ضرور محسوس ہوئی ہے اور ایسے سنگین و خطرناک حالات میں شارحِ بخاری بھی اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر باطل کی سرکوبی کے لیے شیرِ ببر بن کر سفر کی صعوبتوں کی پرواہ کیے بغیر پہنچ جاتے ہیں۔ گویا بزبانِ حال کہتے ہیں:
دار ہو سولی ہو پہاڑوں کی فصیل
نغمہ ہر بلندی سے سنا سکتے ہیں ہم
پھر اپنی تحقیقی تنقیحی خطابت سے باطل کو ایسا زخم خوردہ چھوڑتے ہیں کہ برسوں کے لیے ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر حضرت شارحِ بخاری پیرانہ سالی میں بھی جوان نظر آتے ہیں، پرجوش انداز میں یہ شعر بھی پڑھتے ہیں:
سگ ہوں میں شریف رضوی غوث و رضا کا
ہیں بھاگتے آگے سے میرے شیرِ ببر بھی
آپ کی تقریر میں بے موقع و بے محل اہلِ باطل کو طعن و تشنیع نہیں ہوتی بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ان کے باطل عقائد و فاسد خیالات کی بیخ کنی اور پھر انہی کی کتابوں سے ان پر ایسا زبردست حملہ ہوتا ہے کہ ان کے بڑے بڑوں کے ہوش و حواس گم ہو جاتے ہیں۔ خطابت کے چند اعلیٰ نمونے ہدیۂ ناظرین ہیں۔
ایک حدیث کے مقتضیات کا عقلی استخراج:
ممبئی کی مجالسِ محرم میں بارہا آپ کے خطابِ نایاب سے فیضیاب ہونے کا اتفاق ہوا۔ اس موقع پر اکثر روافضِ زمانہ کی حقیقت اور ان کے باطل مذہب کے خرافات و واہیات کی نشاندہی ضرور فرماتے۔
ایک مرتبہ دورانِ تقریر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان فرماتے ہوئے زبانِ مبارک پر یہ حدیث آ گئی:
أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا. [المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب معرفة الصحابة، باب: ذكر إسلام أمير المؤمنين علي رضي الله عنه، ص: 138، ج: 1، رقم الحديث: 237/4639، دار الكتب العلمية]
جولانیِ دماغ جوش میں آتی ہے۔ فرماتے ہیں: رافضیوں نے کتر بیونت کر اس حدیث کو اتنا عام کر دیا کہ بھولے بھالے سنی بھائی بھی حدیث اتنی ہی سمجھتے ہیں جبکہ حدیثِ مذکورہ کا آخری جملہ “وَعَلِيٌّ بَابُهَا” اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حدیث اتنی نہیں بلکہ لمبی ہے، بیچ کا حصہ حذف کر دیا گیا۔
پھر زور دار انداز میں بیان فرماتے ہیں: سامعین غور فرمائیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم کے شہر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس شہرِ علم کے دروازہ ہیں۔ بلند آواز میں کہتے ہیں: میں پوچھنا چاہتا ہوں، دروازہ کہاں نصب ہوگا؟ ظاہر ہے دروازہ دیواروں کے درمیان میں نصب ہوگا۔ اس لیے ثابت ہوا کہ اس شہرِ علم کی دیواریں بھی ہوں گی۔ پھر دیواروں کے لیے بنیاد بھی ضروری ہے۔ پھر ایسا شہر کہ اس کی دیواریں ہوں، بنیاد ہو اور دروازہ بھی ہو لیکن چھت نہ ہو تو شہر میں ایک کمی رہ جائے گی تو چھت بھی ثابت۔۔۔ تقیہ باز رافضی بہت طمطراقی سے حدیث کا آخری حصہ پڑھتے ہیں حالانکہ اس آخری حصے نے سب کو بتا دیا کہ بیچ سے کیا کیا حذف کیا گیا۔ سندِ حدیث سے قطع نظر معنی پر غور کیا جائے تو یہ بالکل متقضی کے مطابق ہے۔ پوری حدیث یوں ہونی چاہیے:
أَنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ، وَأَبُو بَكْرٍ أَسَاسُهَا، وَعُمَرُ حِيطَانُهَا، وَعُثْمَانُ سَقْفُهَا، وَعَلِيٌّ بَابُهَا.
ترجمہ: میں علم کا شہر ہوں، ابوبکر اس کی بنیاد ہیں، عمر اس کی دیواریں ہیں، عثمان اس کی چھت ہیں، علی اس کے دروازہ ہیں۔
عوامِ اہلِ سنت کی غفلت:
مجالسِ محرم میں حضرت شارحِ بخاری کی تقریریں عام خطبائے محرم سے الگ تھلگ رہتی ہیں، عوام اور خطبا دونوں کا عام مزاج یہ ہے کہ اس موقع پر صرف اہلِ بیتِ کرام کے تذکرے اور واقعاتِ کربلا کے خونی مناظر پر بیانات ہوں۔۔۔ حضرت شارحِ بخاری اس کے مخالف ہیں، بلکہ اس خیال کو بھی روافض کی دین مانتے ہیں اور عوام نیز نئی نسل کے خطبا کو بھی یہ نصیحت کرتے ہیں کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم شہدائے کربلا کی شہادتوں کو تواریخ و ایام کی تصریح کے ساتھ یاد رکھتے ہیں لیکن دیگر صحابہ کرام کی شہادتوں کے واقعات یا تو ہمیں یاد نہیں یا یاد ہیں تو اپنی عوام کو ان سے روشناس نہیں کراتے۔
اس موقع پر حضرت شارحِ بخاری شہدائے بدر و احد وغیرہم کا تذکرہ تفصیل سے بیان فرماتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ شہدائے بدر کی عظمتوں سے آپ لوگ غافل ہیں۔ شہدائے بدر جملہ مشاہدِ اسلام کے شہدا سے افضل ہیں، شہدائے کربلا سے بھی افضل ہیں۔۔۔ افسوس کہ ہم ان کی تاریخ سے ناواقف یا غافل ہیں۔ اجلۂ صحابہ کرام کی شہادتوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت یاد کر کے اشکبار ہو جاتے ہیں۔۔۔ اور عوامِ اہلِ سنت کو بتاتے ہیں کہ تم لوگوں کو صرف امامِ عالی مقام کی شہادت یاد ہے۔ حضرت عثمان غنی کی شہادت بھی کم اہمیت کی حامل نہیں۔ شہدائے کربلا پر تو مسلسل تین دن تک کھانا پانی بند رکھا گیا وہ بھی دیارِ غیر میں، لیکن حضرت عثمان غنی پر مسلسل چالیس دن پانی بند رکھا گیا، ان کے دورِ حکومت میں ان کے درِ دولت پر، پھر اس کے بعد انہیں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔
مقررین کو تنبیہ:
نئی نسل کے خطبا و واعظین کو تنبیہ فرماتے ہوئے مخاطب کرتے ہیں کہ آپ لوگ عوام کو یہ تو بتاتے ہیں کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر مرحب کے مقابل حضرت علی شیرِ خدا نے وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو شیرِ خدا کا ہی کارنامہ ہو سکتا ہے۔ مگر آپ لوگ یہ کیوں نہیں بیان کرتے کہ جنگِ بدر میں ابوذات الکرش لوہے میں منڈھا ہوا مقابلے پر آیا تو حواریِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے پر گئے۔ اس کا پورا جسم لوہے سے منڈھا ہوا تھا صرف آنکھ کی جگہ کھلی ہوئی تھی۔ حضرت زبیر بن عوام نے پہنچتے ہی نشانہ لگا کر اس کی آنکھوں پر ایسا وار کیا کہ آپ کی برچھی آنکھ میں گھس گئی، جب زمین پر گرا تو اس کے چہرے پر پاؤں رکھ کر برچھی نکالی تو برچھی کی نوک مڑ گئی تھی۔
حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ مبارکہ میں حاضر ہو کر پورا واقعہ سنایا تو حضور نے فرمایا: زبیر! یہ برچھی مجھے دے دو۔ حضرت زبیر نے حضور کو نذر کر دی۔ وہ برچھی بطورِ یادگار حضور کے پاس رہی پھر خلفائے راشدین کے پاس رہی۔
ہمارے مقررین جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ فضل بیان کرتے ہیں کہ انہیں حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذوالفقار عطا فرمائی تھی وہیں یہ کم فضل کی بات نہیں کہ حضرت زبیر بن عوام کی برچھی حضور نے مانگی اور بطورِ یادگار اپنے پاس رکھی پھر خلفائے راشدین نے بھی اسے بطورِ یادگار رکھا۔
بہتر زخم:
امامِ عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں بہتر زخم لگے۔ خطبا و مقررین بڑے رنگین انداز میں اسے بیان کرتے ہیں۔ حضرت شارحِ بخاری جہاں یہ بیان فرماتے ہیں وہیں حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کا ذکرِ شہادت ضرور چھیڑتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ لوگوں کو یہ تو معلوم ہے کہ امامِ عالی مقام کو بہت زخم لگے لیکن کسی کو یہ کیوں نہیں یاد ہے کہ حضرت جعفر طیار کو بھی جنگِ موتہ میں بہتر سے زائد زخم لگے اور وہ بھی سب سامنے۔ پیٹھ پر ایک زخم بھی نہیں لگا، ان کے دونوں بازو کاٹ لیے گئے۔۔۔ لوگوں کو سید الشہداء حضرت حمزہ کا پیٹ چاک کیا جانا، ان کا کلیجہ چبایا جانا، چہرے کے ایک ایک عضو کا کاٹا جانا کیوں یاد نہیں؟
ہمارے خطبا پر لازم ہے کہ لوگوں کو جہاں یہ بتاتے ہیں کہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پشتِ اقدس پر حالتِ سجدہ میں سوار ہو جاتے تو حضور ان کے لیے سجدہ لمبا فرما دیتے۔ اس وقت تک آپ سجدے میں رہتے جب تک وہ پشتِ مبارک سے نہ اترتے۔۔۔ وہیں یہ بھی بیان کرنا چاہیے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی حضرت سیدہ زینب کی ننھی منی بچی امامہ کو حضور گود میں لے کر نماز پڑھتے، رکوع و سجدہ کی حالت میں انہیں اتار دیتے پھر گود میں اٹھا لیتے۔ (جاری)
