Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت مولانا جلال الدین رومی اور حضرت شمس تبریزی علیہما الرحمہ (قسط: دوم) پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر گلبرگہ یونیورسٹی

حضرت مولانا جلال الدین رومی اور حضرت شمس تبریزی علیہما الرحمہ (قسط: دوم)
عنوان: حضرت مولانا جلال الدین رومی اور حضرت شمس تبریزی علیہما الرحمہ (قسط: دوم)
تحریر: پروفیسر محمد عبدالحمید اکبر گلبرگہ یونیورسٹی
پیش کش: رابعہ خاتون بنت عمران احمد شیخ

بہر حال یہ واضح ہے کہ شمس تبریز سے تعلق اور جدائی کی بناء پر مولانا کے دل میں جذبات کی آگ بھڑک اُٹھی۔ چنانچہ اسی جذبے نے ان کے دل میں شاعری کا ولولہ بھی پیدا کیا۔ شمس تبریز کی جدائی کا انہیں جو صدمہ ہوا اس کی کچھ تلافی صلاح الدین زرکوب کی رفاقت سے ہوگئی اور ان کی وفات کے بعد حسام الدین چلپی کی صحبت سے ہوئی۔ انہی حسام الدین چلپی کی ایماء سے مولانا کو مثنوی لکھنے کی تحریک ہوئی۔

شمس تبریز کی جدائی کے بعد مولانا رومی پر سُکر کی کیفیت رہنے لگی۔ ایک دن صلاح الدین زرکوب کی دُکان کے سامنے سے گزر رہے تھے جبکہ وہ چاندی کے ورق کوٹ رہے تھے۔ مولانا پر اُن کے چاندی کوٹنے کی آواز نے سماع کا اثر پیدا کر دیا۔ وہیں کھڑے ہوگئے اور اُن پر وجد کی حالت طاری ہوگئی، تھوڑی دیر بعد صلاح الدین بھی زرکوبی کا شغل چھوڑ کر بغل گیر ہو گئے۔ مولانا یہ شعر پڑھ رہے تھے:

یکے گنجے پدید آمد ازیں دکانِ زرکوبی
زہے صورت زہے معنی زہے خوبی زہے خوبی

اس زرکوبی کی دکان سے ایک خزانہ مل گیا، عجب صورت عجب معنی عجب خوبی عجب خوبی۔ دونوں بزرگ کیف و سرور کی حالت میں ظہر سے عصر تک اسی وجد میں مبتلا رہے۔ اس کے بعد صلاح الدین زرکوبی نے اپنی ساری دکان لٹادی اور مولانا کے ساتھ ہو گئے۔ اب مولانا کو صلاح الدین زرکوبی کی صحبت میں سکون میسر آنے لگا۔ 622ھ میں جب صلاح الدین کا انتقال ہو گیا تو مولانا نے اپنے مریدِ خاص حضرت حسام الدین چلپی کو اپنا ہمدم اور ہمراز بنا لیا اور اپنے مرشد کی طرح احترام سے ان کا ذکر کرتے تھے۔ مولانا کو نماز میں اس درجہ استغراق ہوتا کہ بقول سپہ سالار اکثر عشاء کے بعد دو رکعت نفل کی نیت باندھتے تھے اور اسی دو رکعتوں میں صبح کر دیتے تھے۔ خود مولانا رومی نے اپنی ایک غزل کے مقطع میں اپنی نماز کی استغراقی کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

بخدا خبر ندارم چو نماز می گزارم
کہ تمام شد رکوعے اما شد ملانے

جب میں نماز پڑھتا ہوں خدا کی قسم مجھے یہ نہیں معلوم رہتا کہ رکوع پورا ہو گیا ہے، امام کون ہے؟

بسا اوقات مولانا پر سُکر کی کیفیت طاری ہوتی تب انہیں شریعت کے ظاہری احکام کا کچھ ہوش نہ ہوتا، بیٹھے بیٹھے اچانک اُٹھ کھڑے ہوتے اور رقص کرنے لگ جاتے۔ کبھی خاموشی سے کسی ویرانے کی طرف نکل کھڑے ہوتے اور ہفتوں کی تلاش کے بعد مریدوں کو ملتے۔ سماع کی مجلس میں کئی کئی دن مدہوشی کی حالت میں گزر جاتے۔ راستہ چلتے وقت کوئی آواز سنائی دیتی تو وہیں وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی، سماع کی مجلسوں میں اکثر اپنے زائد کپڑے اتار کر قوالوں کی نذر کر دیتے تھے۔ [13]

حضرت شمس تبریز کے غائب ہو جانے کے بعد مولانا رومی نے دو ایک روز ہر طرف آپ کی تلاش کی مگر جب کسی طرح آپ کا کچھ پتہ نہ چلا تو مولانا کی حالت متغیر ہونا شروع ہوئی، طریقِ سماع تو آپ پہلے ہی اختیار کر چکے تھے اب یہ حالت ہوئی کہ ایک لمحہ بھی سماع کے بغیر نہیں گزرتا تھا۔ قوال ایک ایک کر کے عاجز ہو گئے مگر مولانا کو سیری نہیں ہوتی تھی۔ مدرسہ میں ٹہلا کرتے تھے اور آشکارا و نہاں شور و فریاد کرتے تھے۔ تمام شہر میں غلغلہ پڑ گیا کہ ایسا عالم دین و مفتیِ اسلام اس طرح سماع و رقص میں دیوانہ و سرگرداں ہو رہا ہے۔ ہر طرف ایک شورش برپا ہوگئی۔ لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ مولانا اور مولانا کے اصحاب نے سب کچھ چھوڑ کر صرف عشق اختیار کیا ہے، بس جو کچھ ہیں تو شمس ہی ہیں۔ سپہ سالار کے الفاظ یہ ہیں کہ: ”روز و شب در فراقِ آنحضرت (شمس تبریز) غزلیات می آورند۔“ [14]

بیا اے شمس تبریزی مکن سنگین دل بامن
کہ بے لعل و لؤلؤ رانمی دانم نمی دانم

یعنی اے میرے مرشد حضرت شمس تبریزی، میرے ساتھ عنایت کا معاملہ فرمائیے اس لیے کہ آپ کے بغیر ہیرے اور موتی بھی مجھے بے قدر معلوم ہوتے ہیں۔

مولانا روم کے کلام کا سب سے زیادہ شور انگیز اور ولولہ خیز حصہ وہی ہے جو اُس زمانے میں کہا گیا ہے۔ آپ کی درد انگیز فراقیہ غزلیں زیادہ تر اسی جدائی کے زمانے کی ہیں۔ اس قسم کی غزلوں سے سارا دیوان بھرا پڑا ہے۔ نمونتہً ایک غزل کے چند شعر پیش کیے جاتے ہیں جن سے مولانا کے ہیجان اور اضطرابی کیفیت کا کسی قدر اندازہ کیا جا سکتا ہے:

اے یوسف آخر سوائے ایں یعقوب نا بینا بیا
اے عیسیٰ پنہاں شدہ در طارمِ بینا بیا
از ہجر روزم قیر شدُ دل چوں کماں تن تیر شد
یعقوب مسکین پیر شد، اے یوسف بر نا بیا
رخ زعراں رنگ آمدَم خم دادہ چوں چنگ آمدم
در گورتن تنگ آمدَم اے جانِ ما پنہا بیا
ای قاب قوسین مقدمت دائے دولت با مکرمت
کس نیست جاناں محرمت در قربِ اَداولیٰ بیا
اے خسرو مہوش بیا، اے خوشتر از صد خوش بیا
اے آب وائے آتش بیا اے دُرد وائے دریا بیا
مخدوم جانم شمس دیں، از جاہت اے روحِ لا میں
تبریز شد عرشِ کیں، از مسجدِ اقصیٰ بیا

[15]

حضرت شمس تبریز سے ملاقات کے بعد مولانا رومی نے درس و تدریس اور وعظ گوئی وغیرہ سب کچھ ترک کر دیا۔ افلاکی نے ”مناقب العارفین“ میں لکھا ہے کہ حضرت شمس تبریز کی ملاقات کا مولانا رومی پر ایسا کچھ اثر پڑا کہ اس ملاقات کے بعد سے مولانا نے درس و تذکیر بالکل ترک کر دی تھی اور کبھی وعظ نہیں کیا تھا، صرف ایک مرتبہ اپنے محبانِ خاص اور شیخ صلاح الدین کے اشارے سے وعظ فرمایا: ”و تذکیر آخر خود ہماں بود، و دیگر بر بالائے منبر نرفت۔“ لیکن یہ معاملہ صرف ترک تک ہی نہیں رہا بلکہ ”اخذ“ کو بھی دخل ہو گیا۔ یعنی حضرت شمس تبریز کی ترغیب و تشویق سے مولانا رومی سماع کی طرف متوجہ ہو گئے اور اس میں مولانا کا انہماک بڑھتا گیا۔ [16]

مولانا روم کا یہ بھی قول تھا کہ علمائے ظاہر واقفِ اخبارِ رسول ہیں جبکہ حضرت شمس تبریز واقفِ اسرارِ رسول تھے:

شمس تبریزی توئی واقفِ اسرارِ رسول
نامِ شیریں تو ہر دل شدہ را درماں باد

مثنوی شریف کی تصنیف حضرت شمس تبریز کے غائب ہو جانے کے تیرہ چودہ برس بعد شروع ہوئی ہے، مگر مولانا کے دل میں حضرت شمس الدین کا خیال اس طرح جاگزیں تھا کہ ”شمس“ کا اشارہ بھی کہیں آ جاتا ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ بے تاب ہو گئے ہیں۔ پہلے دفتر کے ابتدا میں یہ شعر آیا ہے:

آفتاب آمد دلیلِ آفتاب
گر دلیلت باید ازوے رُوم تاب

ایک لفظ آفتاب کی وجہ سے 32 شعر ”شمس“ کی مدح میں لکھ دیے اور آخر میں اس طرح ختم کیا جیسے مجبور ہو کر دل کی بات دل ہی میں رہ گئی ہو:

فتنہ و آشوب و خونریزی مجو
بیش ازیں از شمس تبریزی مگو

دفتر دوم غیبتِ حضرت شمس سے 17 سال بعد شروع ہوا ہے، اس میں بادشاہ کے دو غلاموں کی حکایت کے ضمن میں یہ شعر آیا ہے:

چوں نمی آیند ایں جا کہ منم
کاند ایں غرا آفتابِ روشنم

[17]

مولانا رومی کا وصال 5 جمادی الآخرٰی 672ھ / 12 دسمبر 1273ء قونیہ میں ہوا، جہاں آپ کا مزار آج بھی مرجعِ خاص و عام ہے۔ ”مناقب العارفین“ مصنفہ افلاکی کے بموجب مولانا کے سلسلہ طریقت کو جلالیہ اور مولویہ کہا جاتا ہے۔ اس فرقے کی خصوصیت، سماع اور رقص کا ایک خاص انداز ہے۔ سلسلہ مولویہ کا آغاز دراصل سلطان ولد (مولانا رومی کے بڑے بیٹے) سے ہوتا ہے، انہوں نے اس سلسلے کی اولین شاخیں قائم کیں اور انہی کی کوششوں سے اس سلسلے کی عزت و توقیر زیادہ ہوئی۔ [18]

مولانا رومی کی تصنیفات:

  1. فیہ ما فیہ: یہ ان خطوط اور اقوال کا مجموعہ ہے جو مولانائے روم نے وقتاً فوقتاً معین الدین پروانہ کے نام لکھے ہیں، ان کو مولانا رومی سے والہانہ عقیدت تھی۔

  2. دیوانِ شمس تبریز: اس میں مولانا رومی کے تقریباً پچاس ہزار اشعار ہیں، مولانا روم نے اپنے پیر و مرشد کی عقیدت میں اس پورے دیوان کو اپنے مرشدِ روحانی کے نام سے موسوم کیا ہے۔

  3. مجالسِ سبعہ

  4. مکتوبات

  5. مثنوی شریف: تصوف کے موضوع پر چھ جلدوں میں ہے، اشعار کی مجموعی تعداد ”کشف الظنون“ کے حوالے سے 26,660 ہے۔ [19]

شمس تبریزی بہ مولانا بگو
واقفِ اسرارِ یزدانت کنم

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلامِ شمس تبریزی نہ شد

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے
وہی آب و گل وہی تبریز ہے ساقی

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!