Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
عنوان: اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
تحریر: سید محمد امان قادری، علی گڑھ
پیش کش: شیخ کنیز فاطمہ

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں 15 مارچ کی دوپہر پوری دنیا اور خاص طور سے مسلمانوں کے لیے دل دہلا دینے والی تھی۔ نیوزی لینڈ کی جدید تاریخ میں کھلے عام قتلِ عام کا ایسا بھیانک واقعہ کبھی پیش نہ آیا تھا۔

ایک سفید فام دہشت گرد نے عین نمازِ جمعہ کے وقت شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد ”النور“ اور ”لِن ووڈ اسلامک سینٹر“ میں گھس کر تابڑ توڑ گولیاں چلائیں اور ان مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے آئے امن پسند مسلمانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 51 لوگ شہید ہو گئے اور تقریباً اتنے ہی زخمی ہوئے، جس میں نوجوان، بوڑھے، عورتیں اور بچے سب شامل تھے۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اسے ایک سوچا سمجھا دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔

اس حملے کا بظاہر مجرم جو دنیا کے سامنے آیا وہ ایک 28 سالہ آسٹریلیائی جوان تھا، جس کے سر میں نفرت اور قتل و خون کا سودا سمایا ہوا تھا۔ وہ اتنا وحشی اور بے غیرت تھا کہ اس نے اپنا یہ جرم، ظلم اور ننگا ناچ پوری دنیا کو لائیو سوشل میڈیا پر دکھایا۔ اس نے اپنے ہیلمیٹ میں کیمرہ لگا کر انٹرنیٹ سے اس کا کنکشن جوڑا ہوا تھا تاکہ اس کی گندی ذہنیت، مجرمانہ اور ظالمانہ سوچ کے پیروکار پوری دنیا میں اس کے اس تماشے کو دیکھیں اور اسے اپنا ہیرو تسلیم کریں اور دنیا میں اس کے ہم نواؤں کو مزید ایسے دہشت گردانہ حملے کرنے کی ترغیب ملے۔ ساتھ ہی ساتھ دنیا کے امن پسند لوگوں اور خاص طور سے مسلمانوں بالخصوص یورپ کے مختلف ممالک میں بسنے والی مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی تعداد کے حوصلے پست کر سکے اور انہیں غیر محفوظ اور انجانا مہمان ہونا محسوس کرا سکے۔ لیکن وہ وحشی شاید یہ نہیں جانتا تھا کہ:

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اس دہشت گرد کا تعلق ”آلٹ رائٹ“ نامی تشدد پسند سفید فام گروپ سے ہے جس کی بنیاد امریکہ میں پڑی۔ یہ موومنٹ زیادہ تر انٹرنیٹ کے ذریعہ کام کرتا ہے۔ یہ ایک نسل پرست سفید فام موومنٹ ہے، جس کی بنیادی سوچ یہ ہے کہ سفید چمڑی والے لوگ پوری دنیا میں سب سے بہتر ہیں، لہٰذا ان کو پوری دنیا میں حکومت و اقتدار حاصل ہونا چاہیے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ سفید لوگوں کو دوسرے لوگوں سے الگ رہنا چاہیے، چاہے وہ دوسری قوموں اور نسلوں کو ہٹا کر یا برباد کر کے ہو یا پھر سفید فام لوگوں کی نئی بستیاں بسا کر。

اس گروپ میں مختلف طرح کے لوگ شامل ہیں جن کی بنیادی فکر ایک ہی محور کے ارد گرد گھومتی ہے وہ ہے ”سفید نسل کی برتری“۔

ان میں ایک گروپ نہایت ہی قابل، ذی علم نسل پرستوں کا ہے، جو اس موومنٹ کے قوانین اور منصوبے تیار کرتا ہے۔ ان کی منشا نوجوان سفید لوگوں کو متاثر کر کے اپنے مقصد کی طرف گامزن کرنا ہوتا ہے، جس کے لیے وہ سفید نسل کی علمی اور سماجی برتری کا پروپیگنڈا بطورِ ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ بہت سی انٹرنیٹ میگزین، بلاگز اور ویب سائٹس چلاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کتب خانے چلاتے ہیں، اس کے علاوہ ان کے کئی تھنک ٹینک (Think Tank) بھی ہیں۔

دوسرے اس گروپ میں وہ نوجوان ہوتے ہیں جو نسل پرست ہونے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے کام ”نسل پرستی“ کی بجائے تہذیب اور مغربی ثقافت جیسے خوبصورت الفاظ کا استعمال کر کے انجام دیتے ہیں۔

یہ انٹرنیٹ پر ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ان کا مقصد نارمل سفید لوگوں کو اپنی طرف کھینچنا ہے۔ جس کے لیے ’نسلی پریشانیاں‘، ’سفید شناخت‘ اور ’نسلی خدشات‘ کا سہارا لیتے ہیں۔

حالیہ امریکی اسمبلی انتخابات میں انہوں نے متنازع ڈونالڈ ٹرمپ کا کھل کر سپورٹ کیا تھا، جس کی وجہ ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ میں مسلمانوں سے لے کر امیگریشن جیسے عنوانات پر اختلافی بیانات تھے۔

اسلاموفوبیا

اس حملے کی اہم وجہ دنیا میں پھیلایا جا رہا اسلاموفوبیا ہے جسے آئے دن مختلف ملکوں اور تنظیموں سے جڑے ہوئے لیڈران اپنے اپنے مقاصد کو پورا کرنے اور اپنی اسلام دشمنی کی فکر کو عام کرنے کے لیے بیان کرتے ہیں۔ مسلمان لیڈران اور وزیر اعظم نے اسلاموفوبیا اور نسل پرستی کی جم کر مذمت کی۔ ایکٹیوسٹ، ماہرین اور مسلم علما و دانشوران نے کہا کہ قومِ مسلم کو مستقل طور پر میڈیا میں غلط طریقے سے پیش کیا جاتا ہے، اور مذہبِ اسلام اور اس کی رسومات سے لاعلمی بھی اسلاموفوبیا کی اہم وجوہات ہیں۔

سوشل میڈیا

اسلاموفوبیا کے پیچھے دنیا کے غلام ذہنیت اور بکے ہوئے افراد اور خود گمراہ میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ وہ پوری دنیا خاص طور سے امریکہ اور یورپ میں اسلام مخالف لٹریچر، تقاریر اور دیگر اشیاء کو عام کرنے میں شب و روز مصروف ہیں۔ سوشل میڈیا ہی کی دین ہے کہ اسلام مخالف ذہنیت آج پورے عالم میں عام ہو چکی ہے اور اس دہشت گرد جیسے ہزاروں نوجوان روز اس فتنے میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ اسی لیے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اور دیگر ممالک کے سربراہوں نے سوشل میڈیا پر قدغن لگانے کی مہم تیز کر دی ہے۔ دنیا کی پانچ بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں نے میٹنگ کر کے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد ہی وہ ایسے اقدامات کریں گے جس سے نفرت بھرے لیکچرز اور تقاریر اور دیگر مواد کو عام ہونے سے روکا جا سکے۔ غور طلب ہے کہ اس دہشت گرد نے ایک پورا 74 صفحات کا کتابچہ انٹرنیٹ پر حملے سے پہلے ڈالا تھا جو کہ نفرت اور اسلام مخالف ذہنیت سے بھرا ہوا تھا، تاکہ اپنی پلاننگ اور سوچ کو عام کر سکے۔ افسوس کہ سیکورٹی ایجنسیاں اس پر بروقت کچھ ردعمل نہ کر پائیں۔

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

اس دہشت گردانہ حملے کی یوں تو پوری دنیا میں شدید مذمت کی گئی، لیکن جس طرح سے نیوزی لینڈ کے لوگوں اور وہاں کی وزیر اعظم نے اس حملے کے بعد مسلم قوم کا ساتھ دیا اور ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوئے وہ اس دنیا کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔

حملے کے بعد ہی ہزاروں کی تعداد میں نیوزی لینڈ کی عوام نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے جگہ جگہ تعزیتی پروگرام منعقد کیے، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خلاف ریلیاں نکالیں، جس میں نیوزی لینڈ کے سفید فام لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان پروگراموں میں تقاریر ہوئیں، دعائیں کی گئیں اور خاموش رہ کر شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

حملے کے چار دن بعد 19 مارچ کو نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم محترمہ جیسنڈا آرڈرن نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اس حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز مسلمانوں کی تہنیت ’السلام علیکم‘ سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 28 سالہ انسان ایک دہشت گرد، مجرم اور تشدد پسند ہے، میں اس کا نام لینا گوارا نہیں کرتی، اسے بے نام ہی رہنے دینا چاہیے، ان لوگوں کے نام لیں جنہیں ہم نے کھو دیا، نہ کہ اس کا جو خود انہیں کھونے کا سبب بنا۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے وہ شخص بدنامی کا طلب گار ہو، لیکن اسے نیوزی لینڈ کچھ نہیں دے گا، یہاں تک کہ اس کا نام بھی نہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب کے دوران بہادر شخص عبد العزیز کا ذکر کیا جو کہ افغانی نژاد ہیں، جنہوں نے اس مسلح دہشت گرد کا مقابلہ کیا اور جو پہلی چیز ان کے ہاتھ میں آئی اسے دے ماری، جس کی وجہ سے دہشت گرد وہاں سے بھاگ گیا۔ اس طرح انہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کی جان بچا لی。

حملے کے وقت عبد العزیز وہاں موجود تھے، ان کے ہاتھ میں ایک کریڈٹ کارڈ مشین تھی، اسے پھینک کر حملہ آور کو مارا، وہ ڈر کر اپنی گاڑی کی طرف بھاگا، اور گولیوں سے بھری ہوئی دوسری بندوق نکالنے کی کوشش کرنے لگا، اتنے میں عبد العزیز نے لپک کر اس کی خالی بندوق جو زمین پر پڑی ہوئی تھی اسے اٹھا لی اور گاڑی کے شیشے پر زور سے ماری، جس سے گھبرا کر حملہ آور فرار ہو گیا۔

اگلے جمعہ کو مسجد النور کے سامنے ہیگلے پارک میں نمازِ جمعہ کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیر اعظم محترمہ جیسنڈا آرڈرن سمیت بیس ہزار افراد جمع ہوئے۔ اس موقع پر آرڈرن اسکارف پہنے ہوئے تھیں اور انہوں نے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ نمازِ جمعہ سے پہلے نیوزی لینڈ کے سرکاری چینلوں اور ریڈیو اسٹیشنوں سے اذان نشر کی گئی جسے نیوزی لینڈ سمیت پوری دنیا نے سماعت کیا۔ گلینڈا جوئے جو کہ اسکارف پہن کر اس محفل میں شامل تھیں انہوں نے اپنے جیسی دیگر عورتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اب نیوزی لینڈ کے لوگوں کو اسلامی تعلیمات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

النور مسجد کے امام جناب جمال فودا جو کہ دہشت گردانہ حملے میں ہلاک ہونے سے بال بال بچے تھے، انہوں نے نمازِ جمعہ کے خطاب میں کہا کہ اسلاموفوبیا قتل اور بربادی کی بڑی وجہ ہے۔ مساجد میں یہ حملہ راتوں رات کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ یہ کچھ تنگ نظر سیاسی لیڈران، میڈیا ایجنسیوں اور کچھ منفی ذہنیت کے حامل افراد کی اسلام مخالف محاذ آرائیوں اور تقریروں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کا نہ کوئی رنگ ہوتا ہے، نہ نسل ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی مذہب ہوتا ہے۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کی عوام، وہاں کی وزیر اعظم اور پوری دنیا کے امن پسند لوگوں کا اس غم کی گھڑی میں نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑے رہنے کے لیے شکریہ ادا کیا۔

22 مارچ کی شام کو کرائسٹ چرچ شہر میں ایک عظیم تاریخی، تعزیتی مجلس کا انعقاد ہوا جس میں شرکاء کی تعداد چالیس ہزار کے قریب تھی۔ ان شرکاء میں بڑے بڑے کالجز کی استانیاں، میڈیا رپورٹرز یہاں تک کہ پولیس وردی میں ملبوس خواتین بھی اسکارف سجائے ملک کی مسلم عوام کے ساتھ یکجہتی کا ثبوت دے رہی تھیں۔ خاص بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی صرف ایک فیصد آبادی مسلمان ہے، باقی ان ریلیوں کو نکالنے والے اور ان کے شرکاء سب سفید فام گوری چمڑی والے مختلف مذاہب کے ماننے والے امن پسند لوگ تھے۔ ان کے ہاتھوں میں بورڈ تھے جن میں محبت بھرے پیغامات تھے جیسے: "خوش آمدید، آئیے ان کے لیے دعا کریں جو عبادت کر رہے تھے، اسلاموفوبیا کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، محبت کی جیت ہوگی دہشت گردی ہار جائے گی، ہم مہاجرین کو خوش آمدید کہتے ہیں، مہاجرین کی زندگیاں اہمیت کی حامل ہیں، وہ ہم میں سے ہیں اور ہم ساتھ ہیں، نیوزی لینڈ ایک ساتھ کھڑا ہے، ہم اپنے مسلم پڑوسیوں کے ساتھ ہیں، ہمارے ملک میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں۔"

مساجد کے باہر نیوزی لینڈ کے لوگ نمازوں میں آ کر پہرے دینے لگے اور مسلمانوں کے گھر جا جا کر ان سے ملنے لگے، انہیں گلے لگانے لگے اور ان کے امن پسند مذہب کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔

ایک نیوز چینل کی وہ کلپ بہت مشہور ہوئی جس میں ایک مسلم خاتون، جن کے شوہر اور بیٹے کی چند دن پہلے ہی شہادت ہوئی تھی، ان کے صبر اور اللہ تعالیٰ پر یقین کو دیکھ کر خود ٹی وی رپورٹر رو پڑی اور اسٹوڈیو میں بیٹھے ماہرین کی آنکھیں چھلکائے بغیر نہ رہ سکیں۔ لوگ تعجب میں تھے کہ یہ مسلمان کس طرح اپنے بڑے بڑے غم جھیل کر بھی صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور اپنے رب کے تئیں ان کا اعتماد کتنا پختہ ہے۔

فرید احمد جنہوں نے اس حملے میں اپنی اہلیہ کو کھو دیا، انہوں نے گھر گھر جا کر اپنے پڑوسیوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب میرے پڑوسیوں کو میری اہلیہ کی شہادت کی خبر ملی تو وہ روتے اور دوڑتے ہوئے میرے پاس آئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں ان کے گھر جا کر ان کا شکریہ اس لیے ادا کر رہا ہوں تاکہ میں انہیں بتا سکوں کہ جس طرح وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اسی طرح میں بھی انہیں چاہتا ہوں۔

مساجد کے باہر ہزاروں خوبصورت گلدستے اور کارڈز سجے ہوئے تھے جو وہاں کے لوگ مہلوکین کی یاد میں لائے تھے۔

وہ دہشت گرد اور اس کے ہم فکر افراد نیوزی لینڈ میں اپنے مقصد میں ناکام ہو گئے۔ انہوں نے 51 لوگوں کو عین نماز میں شہید تو کر دیا، لیکن اپنی فکر کو پھیلانے، مسلمانوں میں خوف پیدا کرنے، نیوزی لینڈ کے سفید فام لوگوں میں نفرت ڈالنے اور اسلام سے دشمنی نبھانے کا ان کا منصوبہ بری طرح زمین پہ آ گرا۔

اس حادثے کا اثر یہ ہوا کہ ہزاروں لوگ اسلام کو جاننے کی کوشش کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں، اذان کیا ہے؟ نماز کیا ہے؟ مسلمان کیسے ہوتے ہیں؟ تعلیماتِ اسلام کیا ہیں؟ مساجد میں کیا ہوتا ہے؟ ان سب سوالات کے جوابات تلاش کرنے لگے اور اسلامی تعلیمات کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کوشش کرنے لگے، جس کا اہم فائدہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگوں کے دلوں سے اسلام کے تعلق سے پیدا ہونے والی بدگمانیاں ختم ہوئیں اور بہت سے لوگ اسلام سے قریب آنے لگے۔

حملے کے بعد سے مستقل خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ نیوزی لینڈ کے لوگ بڑی تعداد میں اسلام کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ یورپ میں مذہب ایک نہایت ہی نجی مسئلہ ہے، اس لیے اسلام قبول کرنے والوں کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ البتہ جن مشہور لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں، ان میں نیوزی لینڈ کے مشہور رگبی کھلاڑی اوفاتو نافاسی (Ofatuunafasi) اور دوسرے مشہور رگبی کھلاڑی سونی ولیمز جو کہ پہلے مسلمان ہو چکے ہیں، ان کی والدہ نے اسلام قبول کیا۔ ایک خاتون میگان لوئیڈی کے بارے میں خبر آئی کہ انہوں نے 37 لوگوں کے ساتھ کرائسٹ چرچ کی مسجد میں جا کر اسلام قبول کیا۔ یہ چوبیس سالہ خاتون ایک کیفے میں کام کرتی ہیں جو کہ بچپن میں اپنی فیملی کے ساتھ امریکہ سے یہاں منتقل ہوئی تھیں۔ اب وہ پورا حجاب کرتی ہیں اور اپنا عربی نام استعمال کرتی ہیں اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ پانچ وقتہ نماز ادا کرتی ہیں۔

”النور“ اور ”لن ووڈ“ کے مسلمانوں کی شہادت نیوزی لینڈ اور یورپ کے لاکھوں لوگوں کو دین کی دعوت دے گئی اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کا ہمدرد بنا گئی۔ جس کے مثبت نتائج جلد ہی برآمد ہوں گے۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ)

[حوالہ: پیغامِ شریعت اگست 2019ء، ص: 15-18]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!