| عنوان: | کچھ اہلِ خانقاہ اعلیٰ حضرت سے متنفر کیوں؟ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عمران رضا منظری |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
مندرجہ بالا عنوان ہر گلے سے اتر جائے، یہ ضروری تو نہیں مگر موضوع بہر اعتبار لائقِ ذکر ہے۔ آپ سنجیدگی سے اولاً اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کتب و تصنیفات کو پڑھیں اور اگر اتنی صلاحیت نہیں تو پھر کسی منصف مزاج علامۃ الدہر سے سماعت کریں، اعلیٰ حضرت اپنے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حق گوئی و بے باکی کے سبب عالمِ اسلام میں کسی بھی طرح محتاجِ تعارف نہیں، ان کی ذات عام و خاص کے نزدیک اشہر و اعرف ہے۔
نہ صرف امام احمد رضا خان کو شہر بریلی کے مدارس و جامعات یا وہاں کی خانقاہوں یا آستانوں میں یاد کیا جاتا ہے بلکہ بیرونی یونیورسٹیز خصوصاً جامعہ ازہر، مصر اور عالمی دینی اداروں اور لائبریریوں میں ان کے علمی و فکری، فقہی اور دینی نکات پر تحقیقی کام بڑی تیزی سے آج بھی کیا جا رہا ہے اور کل بھی خاطر خواہ ہو چکا ہے۔
آپ اتنا تو بخوبی جانتے ہی ہیں کہ بیرونی جامعات میں صرف ایک مسلک کے متبعین علما و فضلا یا اسلامک اسکالرز تو نہیں پڑھتے پڑھاتے بلکہ مختلف المسالک محققین اور علومِ عصریہ کے ماہر شیوخ و اساتذہ بھی موجود ہیں، آج تک ہر عدل پرست اور معتدل محققینِ زمانہ نے جب امام احمد رضا خان کی تصنیفات کو دیکھا، آپ کے دلائل و براہین سے مبرہن تحریرات کو ملاحظہ کیا تو آخر میں جہاں آپ کو مختلف علومِ شریعت کا بحرِ ناپیدا کنار پایا تو وہیں طریقت و معرفت کا بھی غزالئ زماں کہا، رازئ زماں کہا، تصوفِ حقیقی کے زیور سے آراستہ حق گو باعمل صوفی کہا، راز دارِ حقیقت و معرفت کہا، اسرارِ ولایت کا تاج دار کہا، صاحبانِ کشف کا سپہ سالار کہا! پڑھیں اعلیٰ حضرت کے صوفیانہ نظریات کو پڑھیں! پڑھیں آپ اعلیٰ حضرت کے تصوف کے فروغ کے سلسلے میں تحریر کردہ فتاویٰ کو۔
آج کچھ آستانوں میں بیٹھے ہوئے کم علم و نادان سجادگان و مشائخ اور گدی نشین عوام کو یہ کہہ کر امام اہلِ سنت سے متنفر کر رہے ہیں کہ وہ فقط مولوی یا عالم تھے۔ وہ کوئی ولی یا صوفی یا صاحبِ طریقت نہیں تھے۔ کتنے مضحکہ خیز ہیں یہ جملے! انھیں یہ معلوم نہیں کہ جو ایک سچا متبعِ عالمِ شریعت ہو، جس عالم کا دل محبتِ خدا و مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے منور و مجلیٰ ہو، جس کی ہر بات شریعتِ مصطفوی کی آئینہ دار ہو، جو حفظِ ناموسِ رسالت کا پہرہ دار ہو، اس سے بڑھ کر ولایت کا تاج دار اور کون ہو سکتا ہے، اس سے بڑھ کر تصوف کا شاہکار کون ہو سکتا ہے، اور جہاں شریعت نہیں، وہاں طریقت کا کیا تصور! شریعتِ مصطفوی کا خون کرنے والے تو ولایت کے علم بردار ہو جائیں اور قرآن و احادیثِ نبوی کے اسباق سے مردہ قلوب جلا دینے والے مسیحا رازِ طریقت سے محروم رہ جائیں!
رہے اعلیٰ حضرت کی کرامت دیکھنے کے شوقین! تو وہ اس فقیر قادری کا یہ فقرہ پڑھیں کہ آج سوادِ اعظم اہلِ سنت کی علامت و شناخت لفظ بریلوی اور مسلکِ اعلیٰ حضرت سے ہی ہونا ان کی ایک عظیم کرامت ہے۔ فی زمانہ ہند و پاک میں اہلِ سنت کا تعارف لفظ بریلویت اور مسلکِ اعلیٰ حضرت سے ہی ہے نہ کہ کسی سلسلۂ طریقت سے۔ راقم السطور کی مندرجہ بالا تحریر سمجھنے کے لیے امام اشعری کے زمانے میں درپیش مذہبی و مسلکی نشیب و فراز کو اگر سمجھ لیا جائے تو پھر ہماری تحریر بہر اعتبار سے تعصب سے محفوظ و مامون رہ سکتی ہے۔
اعلیٰ حضرت ہی وہ شخصیت ہیں کہ جس نے خانقاہوں کی عظمت و رفعت کا تحفظ کیا۔ آپ نے نہیں دیکھا کہ ان کے دور میں جہاں ناموسِ رسالت پر حملے کیے گئے تھے، وہیں اولیا کی عظمت و محبت ملتِ اسلامیہ کے دلوں سے نکالنے کے لیے ایک فتنہ یہ بھی اٹھا کہ کسی صاحبِ مزار کا عرس منانا بدعت و ناجائز اور حرام ہے، کسی صاحبِ مزار سے مدد طلب کرنا شرک ہے، کسی مزار پر برکت کی نیت سے جانا جائز نہیں۔
یہ سب کیا تھا؟ امتِ محمدیہ کو اولیا سے دور کرنا نہیں تھا تو پھر کیا تھا؟ ایسے پرفتن اور گمراہی بھرے دور میں اعلیٰ حضرت ہی کی ذات تھی جس نے عند الشرع عرس و اعراس کی محافل و مجالس کے جواز اور صاحبِ مزار سے نصرت و اعانت طلب کرنے اور ان کے آستانوں میں بطورِ برکت آنے جانے کو واضح طور پر ثابت فرما کر فرقہائے باطلہ کو دندان شکن جواب دے کر خانقاہوں کے تقدس کی حفاظت بھی کر رہی تھی اور صاحبِ مزار کی والہانہ محبت و الفت کو امتِ مسلمانِ عالم کے دلوں میں موجزن بھی کر رہی تھی۔
پڑھیں آپ اعلیٰ حضرت کے نظریات کو پڑھیں، آپ اعلیٰ حضرت کے افکار و خیالات کو! اس کے بعد معلوم ہو جائے گا کہ بدعت و خرافات کے تاریک ماحول میں اگر ایمان و عقیدہ کی قندیلوں کو روشن کرکے افرادِ زمانہ کے قلوب پر اولیا کی عقیدت کے سکے جمائے ہیں تو وہ کوئی اور نہیں یہ وہی اعلیٰ حضرت ہیں جن کو دنیا امام احمد رضا، عاشقِ رسول، حسان الہند، امامِ عشق و محبت کہا کرتی ہے۔ بحمد للہ آج خانقاہوں میں بہاریں، آستانوں میں عرس و اعراس کی محافل کا انعقاد اور سجادگی کو قوم و ملت سے حاصل ہونے والے نذرانے، شکرانے یہ سب اعلیٰ حضرت مجددِ اعظم کی دینی خدمات کی ضرور رہینِ منت ہیں۔
لہٰذا ہمیں اس محسن کو کہیں بھی کسی بھی صورت نگاہِ تعصب سے دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی سچی عقیدت و عزت اور احترام و اکرام کو اپنے اور خانقاہوں میں آنے والے زائرین کے قلوب و اذہان میں جذب کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کی دینی خدمات صرف کسی ایک موضوع تک محدود نہیں بلکہ انھوں نے شریعتِ اسلامیہ کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنے کا بر وقت جواب دے کر اپنا مجددانہ حق ادا کیا، شرعی و دینی فریضہ ادا کیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
تمہیں جانا تمہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
آپ چودہویں صدی کے مجددِ اعظم، صوفیِ کامل، ولیِ اکمل ہیں، آپ کو عرب و عجم کے اکابر علما و مشائخ نے اپنا رہبرِ شریعت و طریقت مانا اور جانا ہے، میرا یہی کہنا ہے کہ موجودہ آستانوں میں گدی نشین حضرات کو اعلیٰ حضرت سے دور ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ قریب سے قریب تر ہونے کی ضرورت ہے۔ [ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، ص: 23، دسمبر 2023ء / جمادی الثانی 1445ھ]
