Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضور حافظ ملت علامہ عبد العزیز (بانی الجامعۃ الاشرفیہ)

حضور حافظ ملت علامہ عبد العزیز بانی الجامعۃ الاشرفیہ
عنوان: حضور حافظ ملت علامہ عبد العزیز بانی الجامعۃ الاشرفیہ
تحریر: محمد ابو ہریرہ
پیش کش: محمد توصیف رضا عطاری

حضور حافظ ملت علامہ عبد العزیز محدث مراد آبادی بانی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور (متوفی 1976ء) بیسویں صدی عیسوی کی یگانہ روزگار اور جامع صفات شخصیت کا نام ہے۔ آپ نے مومنانہ فکر و بصیرت اور خلوص و للہیت کے ساتھ ملت کی صلاح و فلاح، اسلام و سنیت کے تحفظ و بقا اور دینی علم و تہذیب کے فروغ و ارتقا کے جو تاریخ ساز اور گراں قدر کارنامے انجام دیے ہیں وہ اہل سنن کے افق قلب پر ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں آپ کی انقلابی شخصیت وہ ہے جس نے افکار کے زاویے بدلے، صحیح رخ پر سوچنے سمجھنے پر آمادہ کیا، تنظیمی شعور عطا کیا، مثبت اور سنجیدہ فکر بخشی اور ملت اسلامیہ کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ عطا کیا۔

حافظ ملت، ملت کے اس پاسبان کا نام ہے جس کی زندگی کا ہر لمحہ ملت کی حفاظت میں گزرا، جس نے ملت کی حفاظت فرمائی: تقریر سے، تحریر سے، تدریس سے، مناظرہ کے ذریعے، احقاق حق و ابطال باطل سے، اپنی زندگی کو اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈھال کر اپنی درس گاہ علم و ادب سے جلیل القدر علماء، اساتذہ، خطباء، اصحاب قلم، مناظرین، متکلمین، مفسرین، محدثین اور اصحاب افتا پر مشتمل ایک خدائی گروہ بنا کر، خانقاہوں میں بیٹھ کر، جامعہ اشرفیہ کی بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے لیے زندگی وقف کر کے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ ملت کے حافظ نے ملت کی حفاظت ہر ان مؤثر ذرائع کو استعمال فرما کر کی جو ملت کی حفاظت کے لیے لازمی وسائل تھے۔

یوں تو حضور حافظ ملت نے کئی جہتوں سے چمنِ اسلام کی آبیاری فرمائی ہے اور ہر جہت اتنی روشن و تابندہ ہے کہ اس پر ہزاروں صفحات تحریر کیے جا سکتے ہیں مگر ان سب سے قطع نظر اگر صرف شخصیت سازی اور جامعہ اشرفیہ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اس زاویۂ نظر میں بھی آپ کا مقام بالکل منفرد اور یکتا نظر آئے گا۔ سنی دنیا میں آپ کا کیا مقام ہے اور مذہب حق اہل سنت، مسلک اعلیٰ حضرت کے فروغ میں آپ کا کیا رول رہا ہے ان ساری باتوں کا جواب اگر ایک لفظ میں دینا ہو تو فقط 'الجامعۃ الاشرفیہ' کہہ دینا کافی ہوگا۔ آئیے درج ذیل سطور میں ان کے کارناموں کی ایک مختصر سی جھلک دیکھتے چلیں جو سنی دنیا میں آپ کی ناقابل فراموش قربانیوں کی منظر کشی کرتی ہے۔

اشرفیہ: ایک انقلابی تحریک

برصغیر ہند و پاک میں یوں تو ہزاروں مدارس قائم ہیں مگر ان میں امتیاز، اعتبار، اہمیت اور معنویت اس وقت جامعہ اشرفیہ مبارک پور کو حاصل ہے وہ (بہ استثنائے چند مدارس) کسی اور کو حاصل نہیں۔ حافظ ملت نے مبارکپور میں قدم رنجہ فرما کر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا پورے اخلاص و للہیت، استقلال و پامردی کے ساتھ استعمال کیا اور اہل سنت کی تعلیمی صورتِ حال میں ایک خوشگوار، پائیدار اور تاریخی انقلاب پیدا فرمایا، جو اہل سنت کے تحفظ و بقا، سلامتی و دفاع اور تعمیر و ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ بنا، اگر حافظِ ملت نے یہ تعلیمی انقلاب برپا نہ کیا ہوتا تو آج اہل سنت کی حالت کچھ اور ہی ہوتی حافظِ ملت نے اپنی آنکھوں میں جو خواب سجا کر اشرفیہ کا پودا لگایا تھا آج وہ تناور درخت بن کر پھل دینے لگا ہے۔ اور اس پھل کے بیج سے اور بھی درخت وجود میں آکر پھل پھول دینے لگے ہیں۔ جن سے سارا عالم معطر اور مشکبار ہو رہا ہے۔ یہ حافظِ ملت کی نگاہِ کیمیا ہی کا اثر ہے کہ آج فاضلانِ اشرفیہ تقریباً ہر شعبۂ حیات میں بازی مارنے کے درپے ہیں، گزشتہ پندرہ سالوں میں جس تیزی سے مصباحی حضرات عصری اداروں کا رخ کر رہے ہیں اس نے ہمارے حریفوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، جسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ آئندہ پچیس سالوں میں یہ علما یونیورسٹیوں اور کالجوں کے علاوہ ملک کے دیگر اہم عہدوں پر فائز نظر آئیں گے، مختلف محاذ پر فرزندانِ اشرفیہ کے فخریہ کارنامے کسی بڑے انقلابی دھمک کا پتہ دے رہے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ حافظِ ملت نے قوم کو ’اشرفیہ‘ عطا کر کے جس طرح سے قوم کی ضرورت کو پورا کیا ہے وہ قیامت تک نہ بھلایا جا سکے گا۔

سنی دنیا میں حافظِ ملت کی مربیانہ شان و عظمت (شخصیت سازی کے تناظر میں)

حافظِ ملت کی زندگی کا سب سے نمایاں جوہر اپنے تلامذہ کی پُرسوز تربیت اور ان کی شخصیتوں کی تعمیر ہے۔ آپ اپنے اس وصفِ خاص میں اتنے منفرد ہیں کہ دور دور تک کوئی آپ کا شریکِ نظر نہیں آتا۔ شخصیت سازی سے میری مراد اپنے تلامذہ کو ان اوصاف کا حامل بنانا ہے جو ایک مردِ مومن کی زندگی کا لازمہ ہوا کرتی ہیں۔

شخصیت سازی کا فن کس قدر دشوار کن ہے وہ اہلِ نظر سے مخفی نہیں۔ مگر حضور حافظِ ملت کردار سازی اور شخصیت نوازی میں اپنی مثال آپ نظر آتے ہیں۔ تاج محل کی تعمیر آسان ہے، مگر شخصیتوں کی تعمیر بہت ہی مشکل کام ہے۔ مگر حافظِ ملت کو اس کام سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا اس لیے مشکل ہونے کے باوجود نہایت ہی حسن و خوبی سے انجام دیا اور آج ان کے بنائے ہوئے کردار اور سنواری ہوئی شخصیتیں دوسروں کو بنا سنوار کر انھیں مستقبل کے لیے تیار کر رہی ہیں اور صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی حافظِ ملت کے خوشہ چیں میرِ کارواں بن کر اپنے مربی اور مشفق باپ کی تحریک کو اوجِ ثریا تک پہنچانے میں کوشاں ہیں۔ شخصیت سازی کے آنگن میں جو پھول کھلے ہیں ان میں اگر صرف ناموں کی ایک فہرست مرتب کرنے بیٹھا جائے تو ایک ضخیم دفتر درکار ہوگا۔

شخصیت سازی کے لیے کسی معلم و مصلح میں درج ذیل پانچ اوصاف ہونا ضروری ہے:

  1. شفقت
  2. ذہانت
  3. تدبر
  4. علم
  5. تقویٰ

اور حقائق و شواہد بتاتے ہیں کہ یہ پانچوں اوصاف حافظِ ملت کی زندگی میں ابھرے ہوئے نقوش کی طرح نمایاں تھے۔ آپ اپنی شخصیت سازی سے اس قدر مطمئن تھے کہ بارہا فخریہ انداز میں اپنے خوشہ چینوں کا تذکرہ فرماتے ہوئے شکرِ خداوندی بجالاتے، چنانچہ ایک مرتبہ جشنِ تاسیس الجامعۃ الاشرفیہ کے زریں موقع پر ابنائے اشرفیہ قدیم سے خطاب فرماتے ہوئے رقت انگیز لہجہ میں یوں گویا ہوئے: ”میں نے آج تک کوئی کاغذی اخبار و اشتہار تو نہیں شائع کیا مگر ہاں (مفتی شریف الحق امجدی، بحر العلوم مفتی عبد المنان اعظمی، علامہ ارشد القادری، علامہ بدر القادری، علامہ قمر الزماں خاں اعظمی اور دیگر موجود ممتاز شاگرد علما کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا) یہ ہیں اشرفیہ کے وہ زندہ جاوید اخبارات و اشتہارات جنہیں ہم نے بڑے اہتمام کے ساتھ خونِ جگر کی سرخیوں سے شائع کیا ہے“۔ [ملفوطات حافظِ ملت، ص: 133-134]

سنی دنیا میں حافظِ ملت کی معلمانہ حیثیت (تفسیر، حدیث اور فقہ کے تناظر میں)

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ ایک عظیم مفسرِ قرآن تھے، انہیں اس مبارک علم میں مراحلِ کمال تک ایسی رسائی نصیب تھی کہ بہت ہی قلیل مدت میں اپنے باصلاحیت طلبہ میں منتقل فرما دیا کرتے تھے۔ دورانِ درسِ تفسیر و فقہ وہ ایسے ایسے نکات بیان فرماتے کہ طلبہ عش عش کر اٹھتے۔ صاحبانِ علم و فن حضراتِ مفسرینِ قرآن سے یہ تقاضائے بشریت لغزشیں بھی ہو جایا کرتی ہیں۔ آپ صرف طلبہ کو کتبِ تفسیر کا سبق ہی نہیں پڑھاتے تھے بلکہ روحِ تفسیر سے آشنا فرما دیتے تھے۔ ان کی نگاہیں مفسرین کی لغزشوں کو بھی گرفت میں رکھتی تھیں چنانچہ جہاں جہاں مفسرینِ کرام سے تسامح کا صدور ہوا ہے وہاں بطورِ خاص تنبیہ فرما دیتے تھے۔

علمِ حدیث حافظِ ملت کا خاص میدان تھا، درسِ حدیث بالخصوص درسِ بخاری شریف کے دوران عشقِ نبوی اور محبتِ مصطفوی کے پیمانے چھلکا کرتے تھے، جہاں حدیث کے رموز سے آشنائی اس حد تک تھی کہ طلبہ سن سن کر گرویدہ ہو جاتے تھے۔ خطیبِ مشرق علامہ مشتاق احمد نظامی علیہ الرحمہ کے ایما پر ماہنامہ ”پاسبان“ میں منتخب احادیث کی توضیح و تشریح لکھنا شروع کیا تو اہلِ نظر نے خوب خوب سراہا اور ”پاسبان“ کی مقبولیت میں چار چاند لگ گئے، چنانچہ بعد میں احباب کی خواہش کے پیشِ نظر چند شائع شدہ حدیثی توضیحات ”معارف الحدیث“ کے نام سے منظرِ عام پر آئیں جسے علمی طبقہ نے کافی پسند کیا۔

حافظِ ملت کو باضابطہ سندِ افتا پر بیٹھ کر فتویٰ نویسی کا موقع تو نہیں ملا مگر اس کے باوجود قیامِ مبارکپور کے دوران ہزاروں فتاوے آپ کے قلمِ حق رقم سے صادر ہوئے جن سے تفقہ فی الدین کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ہدایہ اور دیگر درسِ نظامی کی فقہی کتابوں کی توضیحات و تشریحات دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتی تھیں آپ کے فتاوے پر مشتمل صحیفہ بہت جلد ”فتاوائے حافظِ ملت“ کے نام سے شائع ہونے والی ہے، جس سے آپ کی فقہی صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

سنی دنیا میں حافظ ملت کا مناظرانہ مقام

حضرت حافظ ملت علیہ الرحمہ ایک کامیاب مناظر ہی نہیں بلکہ مناظرہ ساز بھی تھے ان کی مناظرانہ شان اس قدر بلند تھی کہ فریق مخالف کے بڑے بڑے سورما بھی ان کے مقابل آنے سے گھبراتے تھے۔ مناظرہ مبارک پور کے دوران تنہا صرف اپنے طلبہ کو ساتھ لے کر جس کمال و خوبی سے دیوبندی جماعت کے سرخیل مناظرین سے مقابلہ کیا وہ تاریخ کا روشن باب بن چکا ہے۔ ایک طرف روزانہ تیرہ تیرہ فقہی کتابوں کا درس دیتے، مدرسہ کے انتظامی امور کی نگرانی اور اپنے معمولات کی تکمیل فرماتے، دوسری طرف اس معرکے کے لیے محض عصر و مغرب کے درمیانی وقفے میں طلبہ سے دیوبندی مناظر کی شب گزشتہ کی تقریر کے اعتراضات سماعت فرماتے اور بروقت انھیں جوابات کے لیے کتابوں کی نشاندہی فرماتے جاتے۔ حافظ ملت کے فیضِ محبت سے طلبہ بھی اتنے قابل، ذہین، فطین اور فنِ مناظرہ کے ماہر ہو گئے تھے کہ خصم کی تقریر سنتے ہی اہم باتوں کی تلخیص کر کے اس کے مناسب جوابات تیار کر لیا کرتے تھے۔

مبارک پور میں حافظ ملت کے مقابلے پر دیوبندی، سہارنپور، مئو اور گھوسی تک کی پوری دیوبندی علمی اور فکری مشینری لگی ہوئی تھی "المصباح الجدید" کی اشاعت کے بعد سالوں محنت کر کے جب دیوبندی جماعت نے "مقامع الحدید" کے نام سے "سوال چنیں جواب دیگراں" کا مرقع بنا کر پیش کیا تو مناظرہ اعظم حافظ ملت علیہ الرحمہ نے تحریری مناظرے کے طور پر ایک ہفتہ کے اندر "العذاب الشدید" کا مسودہ تیار کر کے اپنے شاگرد مولانا محمد محبوب اشرفی مصباحی علیہ الرحمہ کے نام سے شائع کیا۔ دنیا اس پر حیرت زدہ ہے کہ آج نصف صدی سے بھی کافی عرصہ ہو گیا مگر دیوبندی لابی کے پاس آج بھی اس کا جواب نہ بن سکا، حافظ ملت بار بار فرمایا کرتے: "اس کا نام 'العذاب الشدید' ہے: اللہ کے عذاب کا بھلا کیا جواب ہو سکتا ہے" علاوہ ازیں پھر بھوج پور، اعظم گڑھ، مبارک پور, سنت کبیر نگر کے مناظرہ میں آپ نے اپنی خدا داد صلاحیتوں سے حق کا پرچم بلند کیا، جس پر وہ حضرات گواہ ہیں جو ان کے زریں عہد دیکھنے کا شرف رکھتے ہیں۔

حافظ ملت کی سیاسی بصیرت و قیادت

حافظ ملت علیہ الرحمہ جہاں حضور صدر الشریعہ اور اعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ کے علم و فضل کے امین تھے وہیں ان کے مصلحانہ کردار اور سیاسی بصیرت و قیادت کے بھی امین تھے۔ آپ نے تعمیر شخصیات کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو سیاسی شعور بھی عطا کیا سیاست کی بھول بھلیاں میں بھٹکنے والے ہزاروں مسلمانوں کو اپنی سیاسی بصیرت کے نور سے بے خوفی اور طمانیت کی روشن شاہراہ پر لا کھڑا کیا۔ انھیں وطن عزیز ہند ہی رہ کر باوفا مومنانہ زندگی گزارنے کا حوصلہ بھی دیا اور سلیقہ بھی بخشا۔

1947ء کے ہنگامہ ترک وطن کے وقت جب تقسیم ہند کے بعد مسلمان سیاسی آندھیوں کی زد میں آ کر ترک وطن کرنے لگے تو آپ نے ہر وقت اپنی دوربین نگاہوں سے ان کے تاریک مستقبل کو دیکھتے ہوئے "ارشاد القرآن" لکھ کر ان کی رہنمائی کی جس کے بہترین اثرات مرتب ہوئے، اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ عبد القادری مصباحی رقم طراز ہیں: ”1947ء کے ہنگامہ ترک وطن میں مبارک پور میں 'ارشاد القرآن' کی اشاعت کی گئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بھی مسلمان نے ترک وطن نہیں کیا یہ تھا خلوص اور دینی و ملی درد میں ڈوبی ہوئی تحریر کا اثر۔“ [حیات حافظ ملت، ص: 233]

آل انڈیا سنی کانفرنس کے اغراض و مقاصد کے پیش نظر آپ نے بھی اس کی رکنیت حاصل کر لی تھی مگر جب آپ نے دیکھا کہ یہ بھی چند سیاسی قائدوں اور اقتدار کے پجاریوں کی حمایت میں لاف زنی ہے تو اس سے مستغنی ہو گئے۔ مسلم لیگ کی سیاسی چالوں کا گہرائی سے جائزہ لیا تو یہ سچائی کھل کر سامنے آگئی کہ کانگریس کی طرح مسلم لیگ بھی مسلمانوں کے لیے سمِ قاتل سے کم نہیں چنانچہ اپنی سیاسی بصیرت و قیادت کا ثبوت دیتے ہوئے کانگریس اور مسلم لیگ کی گھناؤنی سیاست اور اسلام دشمنی سے مسلمانوں کو خبردار کرنے اور لیگ کے جال میں پھنسے ہوئے بہت سے علمائے اہل سنت اور ذمہ دارانِ قوم کو لیگ کے جال سے نکالنے کے لیے، تمام تر دینی و دردمندی کے ساتھ حقائق و شواہد کی روشنی میں ایک رسالہ بہ نام ”الارشاد“ لکھ کر مفت تقسیم کروا دیا۔

چنانچہ ایسا ہی ہوا جیسا کہ پہلے سے ہمارے اس مدبرِ اعظم نے مسلمانوں کو چوکنا کر دیا کہ مسلم لیگ کا مقصد نہ تو پاکستان بنا کر اسلامی حکومت قائم کرنا اور نہ ہی مسلمانوں کی خیرخواہی مقصود تھی۔ ہاں! اس کی آڑ میں اپنی سیاسی روٹیاں سیکنا مقصود تھا جو ہوا بھی، کہ قیامِ پاکستان کے بعد آج تک وہاں اسلامی احکام و فرامین نافذ نہ ہو سکے۔

سنی دنیا میں آپ کے قرطاس و قلم کی فرماں روائی

اگرچہ کتاب اور تصنیف و تالیف کے اعتبار سے آپ کی ذات کچھ محدود نظر آتی ہے مگر اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اس میدان کے غازی نہ تھے، کثرتِ مشاغل کے باوجود درج ذیل کتابیں لکھ دینا ایک طرف اصلاحِ امت کی فکر کا پتہ دیتا ہے تو دوسری طرف آپ کی قلمی صلاحیت کی عکاسی بھی کر رہا ہے۔ بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ اگرچہ آپ نے کثرت سے کتابیں نہیں لکھیں مگر اتنے کثرت سے مصنفین، مؤلفین اور مترجمین پیدا فرما دیے کہ آج ان کا ہم پلہ ملنا مشکل نظر آتا ہے، فیض یافتگانِ حافظِ ملت کی علمی، تحقیقی اور تنقیدی تحریریں پڑھ کر اہل ذوق سامانِ تسکین فراہم کرتے ہیں اور انہیں اس میدان میں ایک ’آئیڈیل‘ کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔

حافظِ ملت علیہ الرحمہ کے دستِ فیض رقم سے نکلی ہوئی کتابوں کی فہرست ذرا کم ہے جس کا خود آپ کو ہمیشہ قلق رہا۔ آخری زمانہ میں افسوس کرتے ہوئے فرمایا: ”مجھے افسوس ہے حالانکہ اوائل عمر میں میرا قلم نہایت برق رفتار تھا اور اب نہ وہ قوت و دماغ ہے نہ ہی فرصت۔“ [ماہنامہ اشرفیہ، حافظِ ملت نمبر، ص: 412]

آپ کے قلم سے نکلی ہوئی کتابوں میں سے ”المصباح الجدید“ نے دنیائے دیوبندیت میں بھونچال مچا دیا تھا اس کے بعد ”العذاب الشدید“ لکھ کر مزید ایسی کاری ضرب لگائی کہ آس پاس کے دیوبندی حضرات اس کے ضرب سے آج بھی کراہ رہے ہیں۔ ”الارشاد“ اور ”ارشاد القرآن“ لکھ کر بوقتِ ضرورت رہنمائی کی تھی دنیا اسے فراموش نہیں کر سکتی۔ ’فرقہ ناجیہ‘ اور ’انباء الغیب‘ پڑھ کر آج بھی باطل فرقے عتاب کی طرح ریت میں منہ چھپا کر طوفان کو ٹالنے کی ناکام کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ احادیث کی روشنی میں عقائد و اعمال کی تصحیح کا جو کارنامہ ”معارفِ حدیث“ نے دیا ہے وہ بھی اہل علم پر مخفی نہیں خوبصورت فقہی گلدستہ ”فتاوائے حافظِ ملت“ اشاعت پذیر ہو کر منظر عام پر آ جائے گا تو دنیا حیرت زدہ نگاہوں سے اس کا مطالعہ کرے گی۔

سنی دنیا میں آپ کی شانِ خطیبانہ

اسلام و سنیت کے فروغ کے تین طریقے اپنائے گئے: تقریر، تحریر اور تدریس۔ جب ہم حافظِ ملت کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو آپ ان تینوں صفتوں کے مظہر نظر آتے ہیں اگرچہ آپ پورے طور سے تدریس سے منسلک نظر آتے ہیں مگر تقریر و خطابت میں بھی خوب ملکہ رکھتے تھے۔

آپ کی تقریر حکمت و موعظت اور عمدہ نصائح پر مشتمل ہوا کرتی تھی۔ آپ کی تقریر کی سبے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ ذہن و دماغ کو بے پناہ متاثر کرتی تھی، سننے والے کے رونگٹے کھڑے ہو جایا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ آپ کی تقریروں کا اثر ضرور ظاہر ہوا خواہ جلسہ اصلاحِ معاشرہ کا ہو یا پھر تردیدِ باطل کی خاطر منعقد ہوا ہو۔ جس کی واحد وجہ یہ تھی کہ آپ کی بات دل سے نکلتی تھی اور دلوں میں جا کر چبھ جایا کرتی تھی زبانی جمع خرچ اور لفاظی تقریروں سے بے پناہ نفرت فرمایا کرتے تھے۔ کبھی قومِ مسلم کی بداعمالیوں اور بدکرداریوں کو دیکھ کر مفکرانہ اصلاح کی کوشش فرماتے ۔ کبھی قومِ مسلم میں ایک صالح انقلابی پیدا کرنے کی سچی لگن اور تڑپ میدانِ خطابت میں لاکھڑا کرتی تھی۔ "نماز" کے مسئلے پر خطاب فرماتے ہوئے "نمازِ فجر" کی اہمیت کو خوب اجاگر کرتے ایک بار ایک مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمانے لگے: "ایک انسان جو کئی دنوں کا تھکا ماندہ ہو اور اس کو کسی اچھے کمرے میں سلا کر ساتھ ہی یہ پیغام سنا دو کہ یہاں ایک سانپ بھی رہتا ہے تو یقینی طور پر اسے خوف کے مارے نیند نہیں آئے گی۔ جب سانپ کے خوف سے نیند اڑ سکتی ہے تو دل میں خوفِ خدا جاگزیں ہونے کے باوجود نمازِ فجر کے وقت نیند آ جائے یہ عقل سے لگتی ہوئی بات نہیں۔" [حیاتِ حافظِ ملت، ص: 231]

حافظِ ملت: اربابِ علم و دانش کی نظر میں

  1. مفتیِ اعظم ہند: حضرت حافظِ ملت کے وصال کی خبر سن کر حضور مفتیِ اعظم علیہ الرحمہ کی کیا کیفیت تھی اسے ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی علیہ الرحمہ ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں: "چاند سا چمکتا نورانی چہرہ ماند پڑ گیا اور تیرہ نصیبوں کو سنوارنے والی آنکھوں کی دھار پھوٹ نکلی سرکار بلک بلک کر رو رہے تھے"۔
  2. حضرت برہانِ ملت: حافظِ ملت علیہ الرحمہ ایسے صاحبِ علم عالم تھے گویا عالم تھے۔
  3. حضرت صدر الشریعہ: میری زندگی میں دو ہی باذوق پڑھنے والے ملے: ایک مولوی سردار احمد دوسرے حافظ ملت عبد العزیز۔
  4. مفتی اجمل شاہ سنبھلی: صدر المدرسین، بدر المتعلمین، فاضلِ جلیل، عالمِ نبيل حضرت مولوی حافظ عبد العزیز صاحب دام فیوضہ لائقِ صد تحسین ہیں۔ اس (اشرفیہ) چمنِ مصطفوی کی بہار انھیں کی ذات پر موقوف ہے۔
  5. علامہ فضلِ حق رامپوری: ان (حافظِ ملت) کی قابلیت درجۂ کمال کو پہنچی ہوئی ہے۔
  6. سید ظہیر احمد زیدی: جن مشکلات میں آپ نے دینِ حق کی خدمت انجام دی وہ ہم سب کے لیے نمونۂ تقلید ہے۔
  7. علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی: اگرچہ آپ میرے استاذ بھائی تھے مگر وہ علوم و اعمال اور زہد و تقویٰ کے فضل و کمال میں مجھ سے بدرجہا بالاتر، بلند مرتبہ اور عظیم الشان عالمِ نبيل اور فاضلِ جلیل تھے۔
  8. حضرت سرکارِ کلاں: مولانا مخلص، ایثار پسند، ہمدرد تھے۔ ان کی خوبیاں تحریر سے باہر ہیں۔
  9. علامہ عبد المصطفیٰ ازہری: ان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ اپنے تمام مشائخ، اساتذہ اور ان کے متعلقین کا پورا پورا ادب کیا کرتے تھے۔
  10. سید مظفر حسین کچھوچھوی: حقیقت یہ ہے کہ دنیائے سنیت کے جتنے قلعے انھوں نے تعمیر کئے شاید ہی کسی نے نہ کیے۔
  11. علامہ سید قتیل داناپوری: آپ اپنے وقت کے "حضرت ابو ہریرہ" تھے۔
  12. مفتی رفاقت حسین کانپوری: آپ نے مسلمانوں کو عصرِ حاضر میں دینی خدمات کا جو اسلوب عطا کیا قابلِ تحسین ہے۔
  13. علامہ سید سلیمان اشرفی بھاگلپوری: آپ نے عمر بھر دینی خدمات میں اوقات گزارا، تقویٰ و طہارت بھی مکمل تھی۔
  14. شاہ سراج المہدی گیاوی: حافظِ ملت نے تعلیمی انقلاب برپا کرنے کا ایک عظیم تصور دیا۔
  15. رئیس القلم علامہ ارشد القادری: حافظِ ملت کی زندگی کا سب سے نمایاں جوہر شخصیتوں کی تعمیر ہے۔
  16. علامہ مشتاق احمد نظامی: یہ دیندار ہی نہیں بلکہ چلتا پھرتا دین ہیں جنھیں دیکھ کر لوگ دیندار بنتے ہیں۔ [حیاتِ حافظِ ملت، ص: 23]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!