Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تلاوت قرآن کے فضائل

تلاوت قرآن کے فضائل
عنوان: تلاوت قرآن کے فضائل
تحریر: مولانا اقبال احمد علیمی
پیش کش: محمد سلمان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج

قرآن مجید تمام انسانوں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اگر قرآن کریم کی محض تلاوت کی جائے تو بھی ثواب ہے، اور اگر اس کے معانی و مفہوم کو سمجھتے ہوئے پڑھا جائے تو ثواب بھی ہے اور ہدایت بھی۔ ایک طوطا جب اپنے مالک کے یاد کرائے ہوئے الفاظ کو بولتا ہے تو اس کا مالک طوطے کی زبان سے اپنے کلام کو سن کر خوشی سے جھوم اٹھتا ہے، حالانکہ طوطا ان الفاظ کے معانی کو نہ جانتا ہے، نہ سمجھتا ہے۔ اسی طرح بندہ جب کلام ربانی کو اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو رب تعالی بندہ کی زبان سے اپنے کلام کو سن کر خوش ہو جاتا ہے، چاہے بندہ اس کلام کے معانی کو سمجھے یا نہ سمجھے۔ پس مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تلاوت قرآن مجید کو اپنی عادت بنالیں۔ ان شاء اللہ تعالی تلاوت کے ثواب کے ساتھ قرآن عظیم کی برکتوں کا بھی ظہور ہوگا۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے قرآن حکیم کے سیکھنے سکھانے اور تلاوت کرنے کے بڑے فضائل بتائے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے:

مَن قَرَأَ حَرفًا مِن كِتَابِ اللهِ، فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ وَالحَسَنَةُ بِعَشرِ أَمثَالِهَا، لَا أَقُولُ الٓمٓ حَرفٌ، أَلِفٌ حَرفٌ وَلَامٌ حَرفٌ وَمِيمٌ حَرفٌ۔ [مشکوٰۃ المصابیح، ص: 186، ترمذی، ص: 115]

ترجمہ: جس نے قرآن مجید کا ایک حرف پڑھا، اس کے لیے اس کے بدلے ایک نیکی ہے، اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔ الف ایک حرف ہے، اور لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے۔

اس حدیث کی شرح میں مجدد اسلام حضرت علامہ علی بن سلطان قاری مکی حنفی (م 1014ھ) نے تحریر فرمایا: ”إن أريد بـ الم مفتتح سورة الفيل، يكون عدد الحسنات ثلاثين، وإن أريد به مفتتح سورة البقرة وشبهها بلغ العدد تسعين“۔ [مرقاۃ المفاتیح، ج: 4، ص: 355]

ترجمہ: اگر ”الم“ سے سورہ فیل کا شروع حصہ مراد ہے تو نیکیوں کی تعداد تیس (30) ہوگی، اور اگر اس سے سورہ بقرہ کا شروع حصہ اور اس کے مماثل مراد ہے تو نیکیوں کی تعداد نوے (90) ہوگی。

قرآن کی مشغولیت ذکر و دعا سے افضل

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَن شَغَلَهُ القُرآنُ عَن ذِكرِي وَمَسأَلَتِي أَعطَيتُهُ أَفضَلَ مَا أُعطِي السَّائِلِينَ، وَفَضلُ كَلَامِ اللهِ عَلَى سَائِرِ الكَلَامِ كَفَضلِ اللهِ عَلَى خَلقِهِ۔ [مشکوٰۃ المصابیح، ص: 186]

ترجمہ: جس کو قرآن میرے ذکر اور مجھ سے سوال کا موقع نہ دے، میں اس کو مانگنے والوں سے زیادہ دیتا ہوں، اور اللہ تعالی کے کلام کی فضیلت سارے کلام پر ایسی ہے، جیسے اللہ تعالی کو تمام مخلوق پر فضیلت ہے۔

اس حدیث کی تشریح میں شیخ المحققین حضرت علامہ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان (م 1052ھ) نے تحریر فرمایا: ”جس شخص کو میرا ذکر مجھ سے سوال کرنے کا موقع نہیں دیتا، میں اس کو سوال کرنے والے سے زیادہ عطا کرتا ہوں۔ اس طرح ذکر دعا سے افضل ہوا، اور قرآن ذکر و دعا سے افضل ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو کہ ذکر و دعا قرآن کا جز ہے، اور قرآن کل اور سب کا سرچشمہ ہے۔“ [اشعۃ اللمعات، ج: 2، ص: 141]

قرآن کریم دیکھ کر تلاوت کرنا افضل

حضرت عثمان بن عبد اللہ بن اوس ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دادا سے روایت کی:

قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ: قِرَاءَةُ القُرآنِ فِي غَيرِ المُصحَفِ أَلفُ دَرَجَةٍ وَقِرَاءَتُهُ فِي المُصحَفِ تُضَعَّفُ عَلَى ذَلِكَ إِلَى أَلفَي دَرَجَةٍ۔ [مشکوٰۃ المصابیح، ص: 188، 189]

ترجمہ: حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص کا قرآن دیکھے بغیر تلاوت کرنا ایک ہزار درجہ رکھتا ہے، اور اس کا قرآن کو دیکھ کر تلاوت کرنا اس سے بڑھ کر دو ہزار درجہ رکھتا ہے۔

حضرت علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ دیکھ کر پڑھنے میں دو عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں، ایک قرآن کا پڑھنا اور دوسری قرآن کا دیکھنا۔ [فتح الباری]

علامہ ابن حجر عسقلانی کی اس تشریح سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ قرآن مجید کا دیکھنا بھی عبادت ہے، لہذا جن لوگوں کو قرآن کی تعلیم نہیں مل پائی، اور وہ اس کی تعلیم ابھی تک حاصل کر بھی نہیں پائے تو ان کے لیے یہ بھی سعادت مندی کا موقع ہے کہ وہ روزانہ قرآن پاک کو عزت و محبت اور ادب و تعظیم کے ساتھ دیکھ لیا کریں۔ انہیں قرآن کریم کی زیارت و دیدار کا ثواب مل جائے گا۔ اللہ اکبر! مسلمانوں پر رب تعالی کا یہ کتنا بڑا کرم ہے کہ وہ ہمیں اپنے کلام کی زیارت کا بھی ثواب عطا فرماتا ہے۔

ترے میکدے میں کمی ہے کیا جو کمی ہے ذوق طلب میں ہے
جو ہوں مانگنے والے تو آج بھی وہی بادہ ہے وہی جام ہے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!