| عنوان: | عید غدیر کی شرعی حیثیت |
|---|---|
| تحریر: | توحید احمد خان رضوی |
| پیش کش: | جامعہ تحسینیہ ضیاء العلوم، بریلی شریف |
| منجانب: | تحسینی فاؤنڈیشن، بریلی شریف |
18 ذوالحجہ کو ایک گروہ ایک ایسی عید مناتا ہے جس عید کی اسلامی تاریخ اور شریعت مطہرہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔ اس عید غدیر کا بانی عراقی شیعہ حاکم معز الدین احمد بن ابویہ دیلمی ہے۔ سب سے پہلے اس نے رافضیوں کے ساتھ 18 ذی الحجہ 352 ھ کو بغداد میں عید غدیر منائی۔
نیز عید غدیر اس نیت سے منانا کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بلا فصل بنایا گیا تھا، یہ روافض کی بدعت سیئہ و شنیعہ ہے جو سراسر باطل اور گمراہی پر مبنی ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بچنا ضروری ہے۔
شیعہ عید غدیر کیوں مناتے ہیں
غدیر خم پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے بارے میں فرمایا: “جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں”۔ شیعہ گروہ اس حدیث سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت بلا فصل ثابت کرتے ہیں اور اس دن کو عید مناتے ہیں۔ ان کا اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بلا فصل ماننا سراسر غلط ہے اور دوسری احادیث کے خلاف ہے۔ غدیر خم پر حضور کے اس فرمان کا پس منظر کیا تھا اس کو ملاحظہ فرمائیں، پھر اس حدیث کے تعلق سے محدثین اور فقہاء نے کیا فرمایا ہے اس کو بھی پیش کریں گے۔ اس فرمان کا پس منظر یہ ہے کہ رمضان المبارک 10 ہجری میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مالِ غنیمت کا خمس یعنی پانچواں حصہ وصول کرنے کے لیے یمن کی طرف ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تھا، پھر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لے آئے، یہیں قیام کے دوران مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور خمس نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا۔ اس سفر میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعض ساتھیوں کو آپ کے کچھ فیصلوں سے اختلاف ہوا، سفر سے واپسی پر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس بات کی شکایت کی۔ اس پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم (بمعنی تالاب خم، جو حجفہ منزل سے تین میل دور ہے) کے مقام پر خطبہ ارشاد فرمایا جس میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان فیصلوں کو درست قرار دیا اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا معاملہ رکھنے اور بد گمانی سے بچنے کی تلقین فرمائی۔
اس پس منظر کے متعلق مستدرک میں ہے:
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رضی اللہ عنه قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ: “يَا بُرَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟” قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ” وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. [المستدرك على الصحيحين، ج: 3، ص: 119، مطبوعہ دار الكتب العلمية بيروت]
ترجمہ: حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ یمن کی طرف گیا، تو میں نے ان میں کچھ نامناسب بات دیکھی، تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف نقص کی نسبت کر دی، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا، ارشاد فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنوں کا ان کی جانوں سے زیادہ مالک نہیں ہوں؟ میں نے عرض کی، کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ فرمایا: جس کا میں مولیٰ (محبوب) ہوں، علی بھی اس کے مولیٰ (محبوب) ہیں۔ یہی پس منظر سنن الکبریٰ اور امام احمد بن حنبل کی کتاب فضائل صحابہ اور دوسری احادیث کی کتب میں بیان کیا گیا ہے۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ غدیر خم کے مقام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت و خلافت کو بیان کرنا نہیں تھا، بلکہ ان شکوک و شبہات کا ازالہ مقصود تھا جو مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بعض لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی براءت کے اظہار کے بعد ان سے محبت کا حکم ارشاد فرمایا۔ لہذا حدیث پاک میں لفظ مولیٰ سے مراد خلیفہ بلا فصل نہیں، بلکہ دوست اور محبوب ہے اور اگر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی امامت و خلافت کو بیان کرنا ہوتا، تو صاف طور پر واضح الفاظ میں اس بات کا اظہار فرما دیتے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے بعد خلیفہ ہوں گے۔
علامہ ملا علی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ. قِيلَ: مَعْنَاهُ مَنْ كُنْتُ أَتَوَلَّاهُ فَعَلِيٌّ يَتَوَلَّاهُ مِنَ الْوَلِيِّ ضِدِّ الْعَدُوِّ، أَيْ: مَنْ كُنْتُ أُحِبُّهُ فَعَلِيٌّ يُحِبُّهُ، وَقِيلَ مَعْنَاهُ: مَنْ يَتَوَلَّانِي فَعَلِيٌّ يَتَوَلَّاهُ، كَذَا ذَكَرَهُ شَارِحٌ مِنْ عُلَمَائِنَا.
ترجمہ: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اس کے معنی ہیں: جس سے میں دوستی رکھتا ہوں اس سے علی دوستی رکھتے ہیں۔ دوست بمقابلہ دشمن، یعنی جس سے میں محبت کرتا ہوں اس سے علی محبت کرتے ہیں۔ اور یہ معنی بھی اس کے کیے گئے ہیں کہ جس شخص نے مجھ سے دوستی رکھی تو علی اس سے دوستی رکھتے ہیں۔ ہمارے شارحین علما نے ایسا ہی ذکر کیا ہے۔
اس حدیث سے مولیٰ علی کی امامت پر استدلال کرنے والے شیعوں کا رد کرتے ہوئے ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
قَالَتِ الشِّيعَةُ: هُوَ مُتَصَرِّفٌ، وَقَالُوا: مَعْنَى الْحَدِيثِ أَنَّ عَلِيًّا رضی اللہ عنه يَسْتَحِقُّ التَّصَرُّفَ فِي كُلِّ مَا يَسْتَحِقُّ الرَّسُولُ صلی اللہ علیہ وسلم التَّصَرُّفَ فِيهِ، وَمِنْ ذَلِكَ أُمُورُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَكُونُ إِمَامَهُمْ. أَقُولُ: لَا يَسْتَقِيمُ أَنْ تُحْمَلَ الْوِلَايَةُ عَلَى الْإِمَامَةِ الَّتِي هِيَ التَّصَرُّفُ فِي أُمُورِ الْمُؤْمِنِينَ، لِأَنَّ الْمُتَصَرِّفَ الْمُسْتَقِلَّ فِي حَيَاتِهِ هُوَ هُوَ لَا غَيْرُ، فَيَجِبُ أَنْ يُحْمَلَ عَلَى الْمَحَبَّةِ وَوَلَاءِ الْإِسْلَامِ وَنَحْوِهِمَا. [مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج: 11، ص: 247، مطبوعہ رشیدیہ]
ترجمہ: شیعہ نے کہا کہ وہ متصرف (تصرف کرنے والے) ہیں اور کہا کہ حدیث کا معنی یہ ہے کہ علی ہر اس معاملہ میں تصرف کا حق رکھتے ہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تصرف کا حق رکھتے ہیں۔ اور انہی میں سے مسلمانوں کے معاملات ہیں پس وہ ان کے امام ہوئے۔ میں کہوں گا کہ ولایت کو اس امامت پر جو مومنین کے معاملہ میں تصرف ہے، محمول کرنا درست نہیں اس لیے کہ مستقل متصرف اپنی حیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کوئی غیر نہیں، تو واجب ہے کہ اسے محبت اور اسلام کی ولاء اور ان دونوں کے مثل پر محمول کیا جائے۔
اس حدیث کے تعلق سے تشریح کرتے ہوئے حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ نے بہت اچھی باتیں بیان فرمائی ہیں جن کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:
“مولیٰ کے معنی میں دوست، مددگار، آزاد شدہ غلام، آزاد کرنے والا مولیٰ۔ اس کے معنی خلیفہ یا بادشاہ نہیں۔ علی کہتے ہیں رب فرماتا ہے:”
فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِيلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ [سورۃ التحريم: 4]
شیعہ کہتے ہیں کہ مولا بمعنی خلیفہ ہے اور اس حدیث سے لازم ہے کہ بجز حضرت علی کے خلیفہ کوئی نہیں آپ خلیفہ بلافصل ہیں۔ مگر یہ غلط ہے چند وجوہ سے:
-
ایک یہ کہ مولیٰ بمعنی خلیفہ یا بمعنی اولیٰ بالخلاف کبھی نہیں آتا۔ بتاؤ اللہ تعالیٰ اور حضرت جبریل کس کے خلیفہ ہیں؟ حالانکہ قرآن مجید میں انہیں مولیٰ فرمایا گیا ہے۔
-
دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے خلیفہ ہیں؟ پھر “من کنت مولاہ” کے کیا معنی ہوں گے؟
-
تیسرے یہ کہ حضرت علی حضور کی موجودگی میں خلیفہ نہ تھے، حالانکہ حضور نے اپنی حیات شریف میں فرمایا، پھر مولیٰ بمعنی خلیفہ کیسے ہوگا؟
-
چوتھے یہ کہ اگر مان لو کہ مولیٰ بمعنی خلیفہ ہی ہو تو بھی بلافصل خلافت کیسے ثابت ہوگی؟ واقعی آپ خلیفہ ہیں مگر اپنے موقعہ اور اپنے وقت میں۔
-
پانچویں یہ کہ اگر یہاں مولیٰ بمعنی خلیفہ ہوتا تو جب سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار سے حضرت صدیق اکبر نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: “الْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ” (خلافت قریش میں ہے)۔ تم لوگ چونکہ قریش نہیں لہٰذا تم امیر نہیں بن سکتے، وزیر بن سکتے ہو۔ اس وقت حضرت علی نے یہ واقعہ لوگوں کو یاد کیوں نہ کرا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو مجھے خلافت دے گئے، میرے سوا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ بلکہ آپ خاموش رہے اور تینوں خلفاء کے ہاتھ پر باری باری بیعت کرتے رہے۔ معلوم ہوا کہ آپ کی نظر میں بھی یہاں مولیٰ بمعنی خلیفہ نہ تھا۔
-
چھٹے یہ کہ حضور کے مرض وفات میں حضرت عباس نے جناب علی سے کہا کہ چلو حضور سے خلافت اپنے لیے لے لو، حضرت علی نے انکار کیا کہ میں نہیں مانگوں گا ورنہ حضور مجھے ہرگز نہ دیں گے۔ اگر یہاں مولیٰ بمعنی خلیفہ تھا تو یہ مشورہ کیسا؟
-
ساتویں یہ کہ خلافت کے لیے روافض کے پاس نص قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت چاہیے۔ یہ حدیث نہ تو قطعی الثبوت ہے کہ حدیث واحد ہے، نہ قطعی الدلالت ہے کہ مولیٰ کے بہت معنی ہیں اور مولیٰ بمعنی خلیفہ کہیں نہیں آتا۔ [مرآۃ المناجیح شرح مشكاة المصابيح، ج: 8، ص: 353]
حدیث غدیر کی شرح جو سیاق و سباق سے ثابت ہے اس کے مطابق مولا کے معنی خلیفہ و حاکم نہیں بلکہ دوست، محبوب وغیرہ ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ کو اس حدیث سے خلیفہ بلافصل ماننا دیگر احادیث کے صریح خلاف ہے جو کہ گمراہی ہے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بلا فصل ہونے پر اجماع ہے۔ لہٰذا اہل سنت پر لازم ہے کہ وہ عید غدیر کے نام پر محافل منعقد کرنے سے بچیں کہ یہ بدمذہبوں کا شعار ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ کو خلیفہ بلافصل ماننا
شیعہ گروہ کے لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو خلیفہ بلا فصل مانتے ہیں جو احادیث کے خلاف ہے۔ ہم یہاں پر صرف چند حدیثیں پیش کرتے ہیں جن سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلیفہ اول ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ. [جامع الترمذي، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ، رقم الحديث: 3673]
ترجمہ: کسی قوم کو زیب نہیں دیتا کہ ابو بکر کی موجودگی میں کوئی اور امامت کرے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ أَفْضَلُ جَمِيعِ الصَّحَابَةِ، فَإِذَا ثَبَتَ هَذَا فَقَدْ ثَبَتَ اسْتِحْقَاقُ الْخِلَافَةِ. [مرقاة المفاتيح، ج: 11، ص: 182، مطبوعہ کوئٹہ]
ترجمہ: اس حدیث میں دلیل ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جمیع صحابہ کرام سے افضل ہیں، پھر جب افضلیت ثابت ہو گئی، تو خلافت کا حقدار ہونا بھی ثابت ہو گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ. [جامع الترمذي، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ، رقم الحديث: 3662]
ترجمہ: میرے بعد ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی پیروی کرنا۔
بخاری شریف میں ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كُنَّا نُخَيِّرُ بَيْنَ النَّاسِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَنُخَيِّرُ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رضی اللہ عنهم. [صحيح البخاري، أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ، رقم الحديث: 3655]
ترجمہ: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سب سے افضل سمجھتے تھے، پھر عمر بن خطاب کو اور پھر عثمان بن عفان کو رضی اللہ عنہم اجمعین۔
حضرت علی کو خلفائے ثلاثہ سے افضل کہنے والے پر حکم
رافضیوں میں جو شخص مولیٰ علی کو خلفاء ثلاثہ رضی اللہ عنہم سے افضل کہے، گمراہ ہے اور اگر صدیق یا فاروق رضی اللہ عنہما کی خلافت کا انکار کرے تو کافر ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں وجیز کے حوالے سے امام اہل سنت تحریر فرماتے ہیں:
مَنْ أَنْكَرَ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رضی اللہ تعالیٰ عنه فَهُوَ كَافِرٌ فِي الصَّحِيحِ، وَمَنْ أَنْكَرَ خِلَافَةَ عُمَرَ رضی اللہ تعالیٰ عنه فَهُوَ كَافِرٌ فِي الْأَصَحِّ.
یعنی خلافت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا منکر کافر ہے، یہی صحیح ہے، اور خلافت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا منکر بھی کافر ہے، یہی صحیح تر ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 14، ص: 250، رضا فاؤنڈیشن]
خلاصہ کلام یہ کہ عید غدیر منانا یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، رافضی اپنے عقائد کفریہ کی بنا پر اسلام سے خارج ہیں۔ لہٰذا اہل سنت و جماعت کی بھولی بھالی عوام ان کے جھانسے میں آ کر ان کے طریقہ کو نہ اپنائیں۔ 18 ذوالحجہ کو اسلام کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یومِ شہادت ہے، حضرت عثمان غنی کے نام کی محافل منعقد کریں اور اس میں حضرات شیخین کریمین، حضرت عثمان غنی، مولیٰ علی اور اہل بیت کرام رضی اللہ عنہم کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کریں۔ یاد رکھیں ہر طرف ایمان کے لٹیرے گھوم رہے ہیں، اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے نیک اعمال کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے ایمان و عقیدے کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔
