| عنوان: |
جماعت المسلمین کی دعوت |
|---|---|
| تحریر: | ابو احمد محمد انس رضا قادری |
| پیش کش: | سعدیہ نوری قادری |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مراد آباد |
>
ہمارا حاکم: صرف اللہ، غیر اللہ نہیں۔
ہمارا امام: صرف ایک، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، امتی نہیں۔
ہمارا دین: صرف ایک، یعنی اسلام، فرقہ وارانہ نہیں۔
ہمارا نام: صرف ایک، یعنی مسلم، فرقہ وارانہ نہیں۔
ہماری محبت کی بنیاد: صرف ایک، یعنی اللہ تعالیٰ، دنیاوی تعلقات نہیں۔
ہمارے فخر کا سبب: صرف ایک، یعنی ایمان، وطن و زبان نہیں۔
اس خوبصورت دعوت کی آڑ میں سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ کیا ہر مسلمان کا یہ ایمان، عقیدہ نہیں؟ سامنے یہ عقائد پیش کرتے ہیں اور اندر کتابوں میں کفریات کی بھرمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس شر سے بچائے۔ آمین۔ [ماخوذ از: ماہنامہ زہریلے سانپ، ص: 32، تنظیم اہل سنت، کراچی]
حرفِ آخر
حرفِ آخر یہی ہے کہ اہل سنت و جماعت کے علاوہ نجات کی کوئی راہ نہیں۔ حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، چشتی، قادری، سہروردی، نقشبندی، ماتریدی، اشعری وغیرہ یہ سب عقائد میں سنی ہیں، جو ان کے عقائد و نظریات سے پھرا وہ حق سے پھر گیا۔ جتنے گمراہ فرقوں کے عقائد پیش کیے گئے ہیں، یہی اور ان سے ملتے جلتے عقائد آئندہ بھی نئے نام کے فرقوں میں پائے جائیں گے۔ موجودہ اور آئندہ دور میں گمراہ فرقے کا سب سے پہلا فعل تقلید کا انکار کر کے آزاد ہونا ہوتا ہے۔ چونکہ ہر گمراہ فرقہ تبھی ترقی کرتا ہے جب وہ اپنے فرقے میں قابلیت نہیں ہوتی تو کوئی ایسا ظاہری حلیے کا دیندار شخص ڈھونڈتے ہیں جو شریعت کو توڑ مروڑ کر ان کے نفس کے موافق کر دے، جیسا کہ موجودہ دور میں کئی ایسے پروفیسر اور جاہل مولوی نظر آتے ہیں۔ آئندہ بھی ایسے دین فروشوں کو لوگ آسانی کے تحت بہت پسند کریں گے، جبکہ یہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ہمارے اس دور میں جب کسی کو کسی گمراہ کے متعلق بتایا جائے کہ فلاں مولوی، فلاں پروفیسر، فلاں سیاستدان گمراہ بے دین ہے، تو اکثر اوقات لوگ اس کی چرب زبانی سے متاثر ہو کر اس کے محب بن جاتے ہیں، اب انہیں.... آسانیاں لائے، وہ شرعی احکام جن کو کرنا بڑی مشقت ہے، لوگوں کو اس سے آزاد کر دیا جائے تاکہ لوگ اس گمراہ فرقے سے متاثر ہوں۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے والی ہے
کہ فرقہ واریت کا سبب مسلمانوں کی کم علمی ہے کہ انہیں پتا نہیں ہوتا کہ صحیح عقائد کیا ہیں۔ اگر ہر مسلمان بنیادی عقائد کو جانتا ہو تو کبھی بھی گمراہ لوگ انہیں صراطِ مستقیم سے ہٹا نہیں سکتے۔ لوگ ہر اس شخص کو عالم سمجھ لیتے ہیں جو قرآن و حدیث کی بات کرتا ہے، اگرچہ وہ قرآن و حدیث کے خلاف ہی عقائد رکھتا ہو۔ بد مذہبوں کو ان کے عقیدے سے پہچانا جاتا ہے، ان کے سر پر سینگ نہیں ہوتے کہ جن سے ان کی پہچان ہو سکے، بلکہ حدیثِ پاک میں تو خارجی و وہابیوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ لوگ ان کو بہت زیادہ دیندار سمجھیں گے۔ پھر بد عقیدہ ہونے میں یہ شرط نہیں کہ وہ کثیر مسائل میں اختلاف کرے، بلکہ اگر اس نے شریعت کے ایک مسئلہ میں بھی اختلاف کیا تو ہو سکتا ہے وہ گمراہ ہو جائے بلکہ کافر ہو جائے، جیسے ایک شخص کہتا ہے کہ میں اللہ عزوجل کو خدا مانتا ہوں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مانتا ہوں، نماز، روزہ، زکوٰۃ سب کو مانتا ہوں بس حج کے فریضہ کو نہیں مانتا، تو یہ شخص کافر ہو جائے گا، یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ یہ بقیہ ارکان کو تو مانتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص کہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کو مانتا ہوں بس میوزک کو جائز کہتا ہوں، تو وہ شخص گمراہ ٹھہرے گا۔
آج موجودہ دور میں کئی ایسے لوگ ہیں جو آسانیوں کے متلاشی ہیں، جو اپنی مرضی سے زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اور جب شریعت کی بات آئے تو ان کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت ہمارے موافق ہو جائے، ہم جو چاہتے ہیں ویسی شریعت ہو جائے، اس کے لیے یا تو وہ خود قرآن و حدیث سے کسی دلیل کو لے کر اس سے باطل استدلال کرتے ہیں، اگر اتنی قابلیت نہیں ہوتی تو کوئی ایسا ظاہری حلیے کا دیندار شخص ڈھونڈتے ہیں جو شریعت کو توڑ مروڑ کر ان کے نفس کے موافق کر دے، جیسا کہ موجودہ دور میں کئی ایسے پروفیسر اور جاہل مولوی نظر آتے ہیں۔ آئندہ بھی ایسے دین فروشوں کو لوگ آسانی کے تحت بہت پسند کریں گے، جبکہ یہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ ہمارے اس دور میں جب کسی کو کسی گمراہ کے متعلق بتایا جائے کہ فلاں مولوی، فلاں پروفیسر، فلاں سیاستدان گمراہ بے دین ہے، تو اکثر اوقات لوگ اس کی چرب زبانی سے متاثر ہو کر اس کے محب بن جاتے ہیں، اب انہیں اپنے ہیرو کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں ہوتا۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق حدیث میں کہا گیا ہے:
حُبُّكَ الشَّيْءَ يُعْمِيْ وَيُصِمُّ۔
ترجمہ: کسی شے کی محبت تجھے اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد بن حنبل، مرویات ابو الدرداء، ج: 6، ص: 450، دار الفکر، بیروت]
اللہ عزوجل ہمیں بد مذہبوں کے فتنوں سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اہل سنت و جماعت پر قائم رہنے کی توفیق دے۔ آمین۔ [73 فرقے اور ان کے عقائد، ص: 188]
