| عنوان: | حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنه کی شان میں گستاخی کرنے والے اپنے ایمان و عمل کی خیر منائیں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد ساجد رضا مصباحی |
| پیش کش: | اختری |
حضرت امیر معاویہ اور محبت اہل بیت
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی تھے اور آپ کی سنتوں پر پابندی سے عمل فرمایا کرتے تھے، آپ کے ایک ایک طرزِ عمل کو عملی جامہ پہنانے میں فخر محسوس کرتے تھے، اہل بیت کی محبت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی آپ کے پیش نظر تھے، اس لیے اس عظیم ذات کے سلسلے میں بغض اہل بیت کا تصور کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنه اور اہل بیت اطہار کے ساتھ آپ کا جو مشفقانہ برتاؤ تھا اس کی تفصیلات سیر و تاریخ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں، ذیل میں صرف دو شہادتیں نقل کرتا ہوں جن سے ظاہر ہو جائے گا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه کے دل میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنه کی عظمت و رفعت کس طرح جا گزیں تھی اور وہ آپ کے فضائل و مناقب کے کس درجہ معترف تھے:
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے نقل فرمایا کہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه سے کسی نے مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: سل عنھا علی ابن ابی طالب فھو اعلم مولا علی سے پوچھو وہ زیادہ علم والے ہیں، سوال کرنے والے نے کہا: امیر المومنین! مجھے آپ کا جواب ان کے جواب سے زیادہ محبوب ہے، تو آپ نے فرمایا:
بِئْسَمَا قُلْتَ، لَقَدْ كَرِهْتَ رَجُلًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغُرُّهُ بِالْعِلْمِ غَرًّا، وَلَقَدْ قَالَ لَهُ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ يَأْخُذُ مِنْهُ.
ترجمہ: تو نے سخت بُری بات کہی ایسے کو ناپسند کیا جس کے علم کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم عزت فرماتے تھے اور بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تجھے مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام سے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنه کو جب کسی بات میں شبہہ پڑتا ان سے حاصل کرتے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ [فضائل الصحابۃ لامام احمد بن حنبل، ص: 675، حدیث: 1153]
حضرت ضرار بن ضمرہ کنانی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ کی خدمت میں گیا تو حضرت معاویہ نے ان سے فرمایا کہ میرے سامنے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنه کے اوصاف بیان کیجیے، تو حضرت ضرار نے کہا اے امیر المومنین! آپ مجھے معذور سمجھیں، اس پر حضرت معاویہ نے کہا کہ میں تمھارا کوئی عذر قبول نہیں کروں گا۔ حضرت علی کے اوصاف جمیلہ ہم سے بیان کرنے ہی ہوں گے۔ حضرت ضرار نے کہا کہ اگر ان کے اوصاف کو بیان کرنا ضروری ہی ہے تو سنیے کہ حضرت علی اونچے مقصد والے، بڑی عزت والے اور بڑے طاقتور تھے، فیصلہ کن بات کہتے اور عدل و انصاف والا فیصلہ کرتے تھے، آپ کے ہر پہلو سے علم پھوٹتا تھا، [یعنی آپ کے اقوال و افعال اور حرکات و سکنات سے لوگوں کو علمی فائدہ ہوتا تھا] اور ہر طرف سے دانائی ظاہر ہوتی تھی، دنیا اور دنیا کی رونق سے ان کو وحشت تھی، رات اور رات کے اندھیرے سے ان کا دل بڑا مانوس تھا، [یعنی رات کی عبادت میں ان کا دل بہت لگتا تھا] اللہ کی قسم! وہ بہت زیادہ رونے والے اور بہت زیادہ فکر مند رہنے والے تھے، اپنی ہتھیلیوں کو الٹتے پلٹتے اور اپنے نفس کو خطاب فرماتے، سادہ اور مختصر لباس اور سادہ کھانا پسند تھا اور میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ! میں نے ان کو ایک دفعہ ایسے وقت میں کھڑے دیکھا کہ جب رات کی تاریکی چھا چکی تھی، اور ستارے ڈوب چکے تھے، اور آپ اپنی محراب میں اپنی ڈاڑھی پکڑے ہوئے، جھکے ہوئے تھے، اور اس آدمی کی طرح تلملا رہے تھے جسے کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو، اور غمگین آدمی کی طرح رو رہے تھے، اور ان کی صدا گویا اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ بار بار یا ربنا یا ربنا فرما رہے تھے، اور اللہ کے سامنے گڑگڑاتے، پھر دنیا کو مخاطب ہو کر فرماتے کہ اے دنیا! تو مجھے دھوکا دینا چاہتی ہے، میری طرف جھانک رہی ہے، مجھ سے دور ہو جا، مجھ سے دور ہو جا، کسی اور کو جا کر دھوکا دے، میں نے تجھے تین طلاق دی ہے؛ کیونکہ تیری عمر بہت تھوڑی ہے، اور تیری مجلس بہت گھٹیا ہے، تیری وجہ سے آدمی آسانی سے خطرے میں مبتلا ہو جاتا ہے، ہائے ہائے [میں کیا کروں] زادِ سفر تھوڑا ہے، اور سفر لمبا ہے، ہر راستہ وحشت ناک ہے۔
یہ سن کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، وہ اپنے آنسوؤں کو روک نہ سکے، اور اپنی آستین سے ان کو پونچھنے لگے، اور مجلس میں موجود لوگ ہچکیاں لے کر اتنا رونے لگے کہ گویا کہ گلے پھٹ گئے، اس پر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه نے فرمایا: بے شک بے شک ابوالحسن [یعنی حضرت علی] ایسے ہی تھے اللہ ان پر رحمت نازل فرمائے۔ [حلیۃ الاولیاء، ذکر علی بن ابی طالب ملخصاً]
حضرت امیر معاویہ پر طعن اور اہل سنت کا موقف
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه کے سلسلے میں بعض غیر معتمد روایات کو بنیاد بنا کر طعن و تشنیع کرنے والوں کے وبال کے سلسلے میں ہمارے اسلاف نے با ضابطہ کتابیں لکھی ہیں، خود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ [1272- 1340ھ] نے اس حوالے متعدد رسائل لکھے، مثلاً:
-
الْبُشْرَى الْعَاجِلَةُ مِنْ تُحَفٍ آجِلَةٍ [1300ھ]
-
الْأَحَادِيثُ الرَّاوِيَةُ لِمَدْحِ الْأَمِيرِ مُعَاوِيَةَ [1303ھ]
-
عَرْشُ الْإِعْزَازِ وَالْإِكْرَامِ لِأَوَّلِ مُلُوكِ الْإِسْلَامِ
-
ذَبُّ الْأَهْوَاءِ الْوَاهِيَةِ فِي بَابِ الْأَمِيرِ مُعَاوِيَةَ [1312ھ] وغیرہ
صحابہ کرام خصوصا حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا درج ذیل اقتباس بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
“سیر میں بہت سے اکاذیب و اباطیل بھرے ہیں، کما لا یخفی، بہ ہر حال فرق مراتب نہ کرنا اگر جنوں نہیں تو بد مذہبی ہے، بد مذہبی نہیں تو جنون ہے، سیر جن بالائی باتوں کے لیے ہے، اس حد سے تجاوز نہیں کر سکتے، اس کی روایات مذکورہ کسی حیض و نفاس کے مسئلے میں سننے کی نہیں کہ معاذ اللہ ان واہیات و معضلات و بے سروپا حکایات سے صحابہ کرام حضور سید الانام علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ افضل الصلوۃ والسلام پر طعن پیدا کرنا، اعتراض نکالنا، ان کی شان رفیع میں رخنے ڈالنا، کہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا مگر گمراہ، بددین، مخالف و مضادِ حقِ مبین۔ آج کل کے بد مذہب، مریض القلب، منافق شعار ان خرافاتِ سیر و خرافاتِ تواریخ و امثالہا سے حضراتِ عالیہ خلفائے راشدین وام المومنین و طلحہ و زبیر و معاویہ وعمر بن العاص و مغیرہ بن شعبہ وغیر ہم اہل بیت و صحابہ رضی اللہ عنہم کے مطاعن مردودہ اور ان کے باہمی مشاجرات میں موحش و مہمل حکایات بے ہودہ جن میں اکثر تو سرے سے کذب واحض اور بہت الحاقات ملعونِ روافض چھانٹ لاتے اور ان سے قرآن عظیم و ارشاداتِ مصطفیٰ اجماع امت واساطینِ ملت کا مقابلہ چاہتے ہیں۔” [العطایا النبویۃ فی الفتاویٰ الرضویۃ، ج: 6، ص: 626]
امام شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی مصری حنفی رحمہ اللہ [متوفی 1069ھ] فرماتے ہیں:
وَمَنْ يَكُنْ يَطْعَنُ فِي مُعَاوِيَة
فَذَلِكَ كَلْبٌ مِنْ كِلَابِ الْهَاوِيَة
جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه پر طعن کرتا ہے وہ جہنم کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔ [نَسِيمُ الرِّيَاضِ فِي شَرْحِ شِفَاءِ الْقَاضِي عِيَاضٍ، ج: 4، ص: 525]
ہمارے لیے صدر الشریعہ، بدرالطریقہ حضرت علامہ امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ فرمان مشعل راہ ہے، ہمیں اپنے آپ کو اس طوفان بد تمیزی کے محفوظ رکھتے ہوئے اپنے اسلاف کے نظریات کو سینے سے لگائے رہنا چاہیے اور اسی کو اپنے لیے واجب العمل سمجھنا چاہیے۔
“تمام صحابہ کرام اہل خیر و صلاح ہیں، اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ کسی صحابی کے ساتھ سوئے عقیدت بد مذہبی و گمراہی و استحقاق جہنم ہے کہ وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بغض ہے؛ ایسا شخص رافضی ہے اگر چہ چاروں خلفا کو مانے اور اپنے آپ کو سنی کہے۔ مثلا: حضرت امیر معاویہ اور ان کے والد حضرت ابوسفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہندہ، اسی طرح حضرت سید نا عمرو بن عاص و حضرت مغیرہ بن شعبہ و حضرت و ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہم حتى کہ حضرت وحشی جنہوں نے قبل اسلام حضرت سید الشہدا حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنه کو شہید کیا اور بعد اسلام اخبث الناس خبیث مسیلمہ کذاب ملعون کو واصل جہنم کیا، وہ خود فرماتے تھے کہ میں نے خیر الناس وشر الناس کو قتل کیا۔ ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی، تبرا ہے اور اس کا قائل رافضی”۔ [بہار شریعت، امامت کا بیان، ص: 252، 253]
موضوع بڑا وسیع ہے اور اس کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ مزید گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا جائے، اس لیے میں سوشل میڈیا سے وابستہ قارئین کو یہ پیغام پہنچاتے ہوئے اپنی بات ختم کرتا ہوں، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنه کے شان میں گستاخی کا جو سیلاب سوشل میڈیا میں آیا وہ بہت ہی تباہ کن ہے، اس کی نحوستوں سے اپنے آپ کو بچائیں، اس سیلاب کی طغیانی سے اپنے ایمان وعقیدہ اور دنیا وآخرت محفوظ کریں اور کسی طرح بھی اس نامسعود تحریک کا حصہ نہ بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام کی عظمتوں کا پاسبان بنائے اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی اسلاف کے روش پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

