| عنوان: | اہلِ سنت عیدِ غدیر کیوں نہیں مناتے جبکہ شیعہ کیوں مناتے ہیں؟ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی، ٹٹلا گڑھ، اڈیشہ |
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل و مناقب کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو بدعقیدہ ہو۔ اہلِ سنت و جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ ولایت کا دروازہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیوض و برکات سے روشن ہے۔ آپ خلفائے راشدین میں چوتھے خلیفہ ہیں اور حضرات ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے بعد تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے اعلیٰ مرتبہ رکھتے ہیں۔
عیدِ غدیر شیعہ کیوں مناتے ہیں؟
شیعہ حضرات 18 ذوالحجہ کو عیدِ غدیر اپنے ایک مخصوص عقیدے کی بنیاد پر مناتے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو بلا فصل خلیفہ مقرر فرمایا تھا، یعنی آپ کو پہلا خلیفہ بنایا تھا۔
اسی عقیدے کی بنا پر وہ حضراتِ شیخینِ کریمین سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما، نیز سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خلافت کا غاصب قرار دیتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔ یہ عقیدہ اہلِ سنت و جماعت کے عقائد کے سراسر خلاف ہے، اس لیے اہلِ سنت عیدِ غدیر نہیں مناتے۔
ایک آسان مثال:
اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اولو العزم رسول مانتے ہیں، ان سے محبت رکھتے ہیں، لیکن کرسمس نہیں مناتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی اس دن اپنے باطل عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ لہٰذا نہ منانا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان کے انکار کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک باطل عقیدے سے اجتناب کی وجہ سے ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اعتدال کا حکم:
اسی مناسبت سے وہ حدیثِ پاک یاد آتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک خاص مشابہت بیان فرمائی۔
حدیثِ پاک:
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يَا عَلِيُّ إِنَّ فِيكَ مِنْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مَثَلًا، أَبْغَضَتْهُ الْيَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهَ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ بِالْمَنْزِلَةِ الَّتِي لَيْسَ بِهَا.
پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
أَلَا وَإِنَّهُ يَهْلِكُ فِيَّ مُحِبٌّ مُطْرٍ يُفْرِطُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ مُفْتَرٍ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي. [المستدرك على الصحيحين، رقم الحديث: 4667]
ترجمہ: “اے علی! تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ایک مثال پائی جاتی ہے۔ یہود نے ان سے اتنا بغض رکھا کہ ان کی والدۂ ماجدہ پر بہتان باندھ دیا اور نصاریٰ نے ان سے اتنی محبت کی کہ انہیں اس مقام تک پہنچا دیا جو ان کا مقام نہیں تھا۔” پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “خبردار! میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے: ایک حد سے بڑھ جانے والا محبت کرنے والا، جو میری ایسی تعریف کرے گا جو مجھ میں نہیں، اور دوسرا بہتان باندھنے والا دشمن، جس کا بغض اسے میرے خلاف جھوٹ اور بہتان تراشی پر آمادہ کر دے گا۔”
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ” یعنی: “یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔”
اس حدیث سے اہلِ سنت کا اعتدال پر مبنی عقیدہ واضح ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت ایمان کا تقاضا ہے، لیکن ان کی شان میں غلو کرنا یا انہیں ان کے حقیقی مقام سے بلند کرنا جائز نہیں، جس طرح ان سے بغض رکھنا بھی گمراہی ہے۔
18 ذوالحجہ اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ:
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ 18 ذوالحجہ کو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا یومِ شہادت ہے، تو چاہیے کہ اس دن ایصالِ ثواب کریں۔
واقعۂ غدیر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں۔ واقعۂ غدیر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ”۔ اس موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مبارکباد دیتے ہوئے فرمایا:
هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ. [فضائل الصحابة، رقم الحديث: 1042]
ترجمہ: “مبارک ہو اے ابنِ ابی طالب! آج سے آپ تمام مؤمن مردوں اور عورتوں کے مولیٰ ہو گئے۔”
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ” ترجمہ: “آپ دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہیں۔” [جامع الترمذي، رقم الحديث: 3720]
غزوۂ خیبر کے موقع پر اپنی اور اللہ پاک کی محبت کی سند دیتے ہوئے فرمایا:
لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ. [صحيح البخاري, رقم الحديث: 3009]
“میں کل یہ جھنڈا ایسے شخص کو عطا کروں گا جس کے ہاتھوں اللہ پاک فتح عطا فرمائے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔” یہ سب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلتوں میں سے ہیں۔
اگر محض فضائل کے دن منانے کی بات ہو تو پھر بہت سے ایسے مواقع ہیں جنہیں زیادہ نمایاں کیا جا سکتا تھا، لیکن شیعہ حضرات ان کی طرف توجہ نہیں دیتے، کیونکہ ان کا اصل مقصود اپنے مخصوص عقیدۂ خلافتِ بلافصل کی تائید کرنا ہوتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظیم فضیلت:
ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا “یار” قرار دیا اور انہیں ثانی اثنین ہونے کے شرف سے مشرف فرمایا:
إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا [سورۃ التوبة: 40]
ترجمہ: “اگر تم محبوب کی مدد نہ کرو تو بیشک اللہ نے ان کی مدد فرمائی جب کافروں کی شرارت سے انہیں باہر تشریف لے جانا ہوا صرف دو جان سے جب وہ دونوں غار میں تھے جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھا بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔” یہ ایسا عظیم شرف ہے جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور صحابی کو حاصل نہیں ہوا۔ ایسا ساتھ رکھا کہ غار میں بھی ساتھ، مزارِ مبارک میں بھی ساتھ، اور آگے بھی ساتھ ہی ہوں گے۔
عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی فضیلت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ” ترجمہ: “اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔” [جامع الترمذي، رقم الحديث: 3686] اور فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ. [صحيح البخاري، رقم الحديث: 3294]
ترجمہ: “قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! شیطان جب بھی تمہیں کسی راستے پر چلتے دیکھتا ہے تو وہ دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔”
عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی منفرد فضیلت:
صلحِ حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر بن کر مکہ مکرمہ گئے ہوئے تھے، اس لیے بیعتِ رضوان میں موجود نہ تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک دستِ مبارک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دے کر ان کی طرف سے بیعت فرمائی اور فرمایا: “هَذِهِ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ”۔ [مسند البزار، رقم الحديث: 308] یہ ایسی فضیلت ہے جو کسی اور صحابی کو حاصل نہیں ہوئی۔
کیا شیعہ یہ دن بھی منائیں گے؟
ہرگز نہیں، کیونکہ یہ ان کے عقائد و نظریات کے سراسر خلاف ہیں۔
اہلِ سنت کا موقف:
اہلِ سنت و جماعت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، بالخصوص خلفائے راشدین اور اہلِ بیتِ اطہار کی محبت و تعظیم کو ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں۔ نہ کسی کے حق میں غلو (حد سے بڑھنا) کرتے ہیں اور نہ کسی کی شان میں گستاخی، بلکہ اعتدال، انصاف اور محبت کے ساتھ سب کے فضائل کو تسلیم کرتے ہیں۔
