| عنوان: | مسلم یا مجرم |
|---|---|
| تحریر: | مہتاب پیامی |
| پیش کش: | زیبا رضویہ |
آج کے بھارت میں ہر صبح خبروں کے دو الگ الگ منظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک وہ جو ٹی وی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے، جسے بہت سوچ سمجھ کر منصوبہ بند طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں پاکستان بدستور، ہندوتوا کی تبلیغ، اور یونائیٹڈ کا کبھی نہ ختم ہونے والا ڈرامہ چلتا رہتا ہے۔
دوسری طرف وہ سچائی ہے جو ٹی وی پر نہیں دکھائی جاتی لیکن وہ بہت گہری ہے۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ روزانہ ہونے والا وہ سلوک ہے جس میں انہیں بھیڑ کے ہاتھوں مارا جاتا ہے، ہراساں کیا جاتا ہے، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ان دونوں کے درمیان جو پیغام ملتا ہے وہ بہت خوفناک ہے۔ مسلمانوں کو یا تو پورے طریقے سے مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے یا پھر اسے تماشہ بنایا جا رہا ہے، جسے اکثریت شام کی تفریح کے طور پر دیکھتی ہے۔ جب کہ مسلمان خود اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جیسے وہ پیدائشی مجرم ہوں۔
گزشتہ ستمبر 2025ء میں اعظم گڑھ میں ایک سات سالہ مسلم بچے کے قتل کا معاملہ لے لیجیے۔ اس کی لاش ایک بیگ میں بند ملی اور پڑوسیوں پر اس کے الزامات عائد کیے گئے (جنہیں بعد میں گرفتار بھی کیا گیا)۔ بس کچھ پل کے لیے مقامی خبروں میں اس کا ذکر ہوا، لیکن جلد ہی یہ پرائم ٹائم ٹی وی سے غائب ہو گیا۔ اس کی جگہ “لو جہاد”، بارڈر پر کشیدگی، یا انڈیا پاکستان کرکٹ میچ پر ہونے والی گرما گرم بحث نے لے لی۔
ایک مسلم بچے کی موت قومی غصے کے اسکرپٹ میں فٹ نہیں بیٹھی۔ اس کے برعکس، یہ واقعہ تشدد کے ان واقعات کے خاموش ریکارڈ کا حصہ بن گیا جنہیں اب معاشرے میں عام سمجھ لیا گیا ہے۔ ماہرِ عمرانیات (Sociologist) اسٹینلے کوہن (Stanley Cohen) نے ایک بار “انکار کی حالت” (States of Denial) کے بارے میں لکھا تھا: اسٹیٹس آف ڈینائل یعنی ایسے معاشرے جہاں ظلم کو چھپایا نہیں جاتا، بلکہ اسے اتنی روانی سے جذب کر لیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی کو چونکاتا نہیں ہے۔
آج ہندوستان کا یہی حال ہے، مسلمانوں کا قتل دن کے اجالے میں ہوتا ہے، لیکن اکثریت اسے محض پس منظر کے شور (Background noise) کی طرح دیکھتی ہے اور نظر انداز کر دیتی ہے۔
اسی کے ساتھ ساتھ، یہ نفرت صرف خاموشی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ایک نمائش بن چکی ہے۔ جب کانپور میں مسلمانوں نے “آئی لو محمد” کے پوسٹر اٹھائے، تو پولیس نے انہیں تحفظ دینے کے بجائے 1,300 مسلمانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ یعنی محبت کے اظہار کو بھی جرم بنا دیا گیا۔
دوسری طرف، جب مہاراشٹر یا مدھیہ پردیش میں ہندوتوا کے ہجوم نے کھلے عام نسل کشی کے نعرے لگائے، تو بعض ٹی وی چینلز نے انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور بعض نے خاموشی سے نظریں چرا لیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تشدد اب ایک قسم کا تماشہ بن گیا ہے، ایک ایسا ڈرامہ جس میں مسلمان ملزم کے کردار میں اور ہندوتوادی قوتیں تہذیب و تمدن کے رکھوالے کے کردار میں نظر آتی ہیں۔
کچھ علاقوں میں مسلم تاجروں کو راتوں رات نکال باہر کرنا یقیناً معاشی قتلِ عام ہے، پورے کے پورے خاندانوں سے ان کا روزگار چھین لیا گیا، بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا اور عورتیں پڑوسیوں سے کھانا مانگنے پر مجبور ہوئیں۔
مگر قومی میڈیا نے اسے انسانی المیہ بتانے کے بجائے “امن و امان کی بحالی” کا نام دے کر پیش کیا۔ ہندوتوا شدت پسندوں نے سوشل میڈیا پر اس کا جشن منایا اور مسلمانوں کی اس بربادی کو ایک ایسی ویڈیو بنا دیا جو انٹرٹینمنٹ کے طور پر وائرل ہو سکے۔ جس واقعے پر پورے ملک میں کہرام مچنا چاہیے تھا، اسے محض “مقامی کشیدگی” کہہ کر فائل کر دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اس مخصوص کلچر کی مکمل عکاسی کرتے ہیں۔ وہ سرکاری اسٹیج سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور مقام حیرت تو یہ ہے کہ نام نہاد اپوزیشن جماعتیں بھی اس پر احتجاج کرنے کے بجائے خود کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں تاکہ یہ ثابت کر سکیں کہ وہ بھی “ہندو نواز” ہیں۔ اس سیاسی دوڑ میں مسلمانوں کے خوف کو دبا دیا گیا ہے۔ اس صورت حال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اب ہندوستان میں مسلمان کوئی سیاسی اہمیت رکھنے والے شہری نہیں بلکہ صرف سیاسی مہرے (Props) بن کر رہ گئے ہیں۔
اس صورتِ حال کا نقصان صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی اور وجودی بھی ہے۔ آج ہندوستان میں ایک مسلمان کی حیثیت سے جینے کا مطلب “مستقل مشکوک” بن کر جینا ہے۔ آج بھارت کے مسلمانوں پر مسجدوں میں نظر رکھی جاتی ہے، بازاروں میں اسے پرکھا جاتا ہے اور کلاس روم میں اس پر شک کیا جاتا ہے۔ ہر جمعہ کی نماز ایک خطرہ محسوس ہوتی ہے۔ اذان کی آواز جو ایک کمیونٹی کے دل کی دھڑکن ہے، کچھ لوگوں کو اشتعال انگیز لگتی ہے۔ سیکولرزم کو ہندوستان کی عظمت سے تعبیر کرنے والے نام نہاد سیاست دانوں سے میں پوچھنا چاہوں گا کہ اگر سیکولرزم ہندوستان کی عظمت کا آئینہ ہے تو پھر اس کی قیمت روزانہ مسلمانوں کی تذلیل کی صورت میں کیوں وصول کی جا رہی ہے؟
یوگنڈا کے نامور مسلم سکالر محمود ممدانی نے اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے اپنی کتاب “گڈ مسلم، بیڈ مسلم” میں ایک فریم ورک دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ریاستیں اور معاشرے مسلمانوں کو دو حصوں میں بانٹ دیتے ہیں: ایک وہ جو مسلمان “قابلِ قبول” ہے کیوں کہ وہ خاموشی سے سر جھکا لیتا ہے، اور دوسرا وہ جو “خطرناک” ہے کیوں کہ وہ مزاحمت کرتا ہے یا اپنی عزتِ نفس کی بات کرتا ہے۔ ہندوستان میں اس تقسیم کو روزانہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
وہ مسلمان جو اپنا عقیدہ چھپاتا ہے اور نظروں سے اوجھل رہتا ہے، اسے برداشت کر لیا جاتا ہے۔ لیکن وہ مسلمان جو اپنی شناخت کا اظہار کرتا ہے، جو سرِ عام “میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں” کہتا ہے، جو برابر کے حقوق طلب کرتا ہے اسے فوراً “مجرم” بنا دیا جاتا ہے۔ ممدانی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ یہ معاملہ مذہب کا نہیں بلکہ طاقت کا ہے: یعنی کس کے پاس یہ حق ہے کہ وہ کسی کو جائز قرار دے اور کسے ہمیشہ شک کے سائے میں جینا پڑے۔
یہی وجہ ہے کہ لنچنگ کی ویڈیوز واٹس ایپ پر ایسے گھومتی ہیں جیسے کوئی مزاحیہ لطیفہ (Meme) ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ٹی وی اینکرز مسلمانوں کی آبادی کے بڑھنے کے جھوٹے نظریات پھیلاتے ہوئے مسکراتے ہیں، اور دکانوں کو آگ لگانے کے بعد ہجوم قہقہے لگاتا ہے۔ اب نفرت صرف سیاست نہیں رہی، بلکہ یہ ایک گروہی مشغلہ بن چکی ہے۔ جب ظلم تفریح بن جائے اور ذلت کوئی ٹی وی کا اسکرپٹ بنا دیا جائے، تو سمجھ لیں کہ جمہوریت اور فاشزم کے درمیان کی لکیر مٹ چکی ہے۔
