| عنوان: | سلام کے آداب و احکام |
|---|---|
| تحریر: | محمد حبیب اللہ بیگ ازہری |
| پیش کش: | زریں امجدی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اللہ رب العزت سورۂ بقرہ میں ارشاد فرماتا ہے:
وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا * اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا [سورۃ البقرة: 86-87]
ترجمہ: اور جب تمہیں کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو اس سے بہتر الفاظ میں جواب دو، یا وہی کہہ دو۔ بے شک اللہ ہر چیز کا محاسبہ فرمانے والا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا، جس میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔
خلاصۂ آیات: تحیت حیات سے بنا ہے، حیات کا معنی ہے: زندگی، اور تحیت کا معنی ہے: زندگی کی دعا دینا، اور کسی کو “حیاک اللہ” کہنا۔ ہر زمانے میں تحیت کے لیے مختلف کلمات بولے جاتے رہے۔ دورِ جاہلیت میں “صباح الخیر”، “حییتم” وغیرہ کلمات بولے جاتے تھے، جبکہ دورِ جدید میں “صبح بخیر”، “گڈ مارننگ”، آداب وغیرہ بولے جاتے ہیں؛ لیکن یہ تمام کلمات تحیت کے لیے ناکافی ہیں، کیوں کہ قرآن و حدیث میں تحیت کے لیے جو کلمات ذکر کیے گئے وہ ہیں: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً [سورۃ النور: 61]
جب تم گھروں میں جاؤ تو اپنے اہل کو سلام کرو، اللہ کی طرف سے بابرکت تحیت ہے۔
مزید فرمایا:
دَعْوَاهُمْ فِيهَا سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَامٌ وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [سورۃ يونس: 10]
جنت میں ان کی دعا ہوگی کہ اے اللہ! تیرے لیے پاکی ہے، اور جنت میں ان کی تحیت سلام ہوگی، اور ان کی گفتگو کا اختتام یہ کلمہ ہوگا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
ان آیات کے مطابق تحیت کے لیے سلام ضروری ہے، سلام کے بغیر تحیت پوری نہیں ہوتی۔ یہی انبیاء اور ملائکہ کا سلام ہے، یہی اہلِ جنت کی تحیت ہے؛ لہٰذا سلام کو عام کیا جائے۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ جس قدر کلماتِ سلام میں اضافہ ہوگا، اسی قدر ثواب میں اضافہ ہوگا۔ چنانچہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوئے اور کہا: السلام علیکم۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ وہ بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا: دس، یعنی ان کے لیے دس نیکیاں ہیں۔
پھر دوسرے صحابی حاضر ہوئے اور کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔ وہ بیٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا: بیس، یعنی ان کے لیے بیس نیکیاں ہیں۔
پھر तीसरे صحابی حاضرِ بارگاہ ہوئے اور کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ نے ان کو جواب دیا۔ وہ بھی بیٹھ گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تِیس، یعنی ان کے لیے تیس نیکیاں ہیں۔ [سنن الترمذي، رقم الحديث: 2905]
اس حدیثِ پاک کے مطابق سب سے افضل سلام ہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ یہی اسلامی تحیت ہے اور یہی مسنون سلام ہے۔ ان دنوں ایک نیا سلام رواج پا رہا ہے، اور وہ ہے: السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ۔ قرآنِ کریم میں رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ آیا ہے، التحیات میں بھی وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ منقول ہے۔ کتبِ احادیث میں جو سلام مذکور ہے، اس میں کہیں بھی کلمۂ “تعالیٰ” کا اضافہ نہیں ہے؛ لہٰذا کلمۂ جلالت کے ساتھ “تعالیٰ” کا اضافہ نہ کیا جائے، اور معروف و مسنون السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہی کو عام کیا جائے۔
سلام کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں:
(۱)- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ: “تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ”. [صحيح البخاري، رقم الحديث: 6308]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اسلام میں سب سے بہترین عمل کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اسلام میں سب سے بہترین عمل یہ ہے کہ تم کھانا کھلاؤ، اور اسے بھی سلام کرو جسے پہچانتے ہو، اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے ہو۔ یعنی اسلام کا بہترین عمل یہ ہے کہ کسی بھوکے کو کھانا کھلایا جائے، اور بلا تفریق ہر ایک کو سلام کیا جائے۔
(۲)- عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ”. [صحيح البخاري، رقم الحديث: 6309]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ مدت کے لیے قطع تعلق کر لے، اس طور پر کہ یہ اس سے اعراض کرے اور وہ اس سے، اور ان دونوں میں زیادہ بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔
اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ ذاتی رنجش، آپسی اختلاف یا دنیاوی مفاد کی خاطر اپنے مسلمان بھائی سے تین دن تک قطع تعلق کر لے۔ اگر کبھی اس طرح کا معاملہ ہو جائے تو تین دن مکمل ہونے سے پہلے آپسی اختلاف ختم کر کے ملاقات کر لے۔ اس ملاقات سے عزت میں کمی نہیں ہوگی، بلکہ ایسا بندہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہوگا جو سلام میں پہل کرے اور ملاقات کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ ویسے یہ نوبت اسی وقت آتی ہے جب بندہ سلام کی اہمیت نہیں سمجھتا۔ سلام کی فضیلت و اہمیت کیا ہے؟ درجِ ذیل حدیث میں دیکھیں:
(۳)- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ”. [سنن الترمذي، رقم الحديث: 2904]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم مومن نہ ہو جاؤ، اور تم مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو۔ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتا دوں کہ جس کی بدولت تم آپس میں محبت کرنے لگو؟ آپس میں سلام کو عام کرو۔
- سلام میں پہل کرنا سنت ہے؛ لہٰذا بلا تفریق ہر شخص کو سلام کیا جائے، خواہ بڑا ہو یا چھوٹا، لیکن سلام کے آداب میں سے یہ ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے، سوار پیدل کو کرے، پیدل بیٹھے کو کرے، قلیل کثیر کو کرے، یعنی چھوٹی جماعت بڑی جماعت کو سلام کرے۔
- جب کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دینا واجب ہے۔ جواب میں اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ جس لفظ سے سلام کیا جائے، اس سے بہتر الفاظ میں جواب دے۔ یہ نہ ہو سکے تو کم از کم انہی الفاظ میں جواب دیا جائے۔ اس سے کم پر اکتفا نہ کیا جائے۔ یعنی اگر کوئی السلام علیکم کہے تو جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔ اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔ اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو جواب میں بھی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔ اس پر مزید اضافہ نہ کرے، کیوں کہ یہی سلام کا اختتام ہے۔
- سلام کا جواب سلام سے دینا ضروری ہے۔ بعض افراد سرے سے جواب نہیں دیتے، کچھ افراد جواب میں ہاتھ یا سر ہلا دیتے ہیں، اور کچھ وہ ہیں جو سلام کے جواب میں خیریت پوچھ لیتے ہیں۔ یہ تمام طریقے خلافِ سنت اور ناجائز ہیں۔ ایسے ہی افراد کے لیے تنبیہ ہے: “إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا * اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا”۔ ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز کا محاسبہ فرمانے والا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا، جس میں کوئی شبہ نہیں، اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔
- بعض مواقع پر سلام کرنا منع ہے۔ اگر کوئی ان حالات میں سلام کرے تو جواب دینا ضروری نہیں۔ اور وہ حالات یہ ہیں: تلاوتِ قرآن، ذکر و دعا، درود و سلام، اذان و اقامت، خطبۂ جمعہ و عیدین، وعظ و نصیحت اور تعلیم و تعلم کے دوران سلام نہ کیا جائے۔ یوں ہی جماعت کے انتظار میں بیٹھے حاضرینِ مسجد کو سلام نہ کیا جائے۔ اسی طرح جو کھانے میں مصروف ہو، قضائے حاجت کے لیے گیا ہو یا غسل خانے میں ہو، اسے سلام نہ کیا جائے کہ سلام کا وقت نہیں۔ یوں ہی اگر کوئی شطرنج کھیل رہا ہو یا علانیہ فسق کرتا ہو، اسے سلام نہ کیا جائے تاکہ اسے نصیحت ملے اور فسق سے توبہ کرے۔ [بہارِ شریعت، حصہ: 16، سلام کا بیان]
اللہ رب العزت سلام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔ [ماہنامہ اشرفیہ]

