Loading...

اوصاف و کمالات اعلی حضرت(قسط: اول) | امام احمد رضا اور القابِ نوازی

اوصاف و کمالات اعلی حضرت (قسط: اول)
عنوان: اوصاف و کمالات اعلی حضرت (قسط: اول)
تحریر: امام احمد رضا اور القابِ نوازی
پیش کش: صوفیہ خاتون
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اوصاف و کمالات کا مجموعہ تھے۔ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ آپ کے اوصافِ حمیدہ و کمالاتِ جمیلہ کی گواہی دیتا ہے، آپ کی زندگی کے جس دور کو دیکھا جائے وہ اوصاف و کمالات سے لبریز و معمور ملے گا۔ آپ کے ان اوصاف و کمالات سے کچھ یہاں ذکر کیے جاتے ہیں۔

تقویٰ و پرہیزگاری

تقویٰ و پرہیزگاری ان اوصاف میں سے ہے جس سے آراستہ ہونے کا حکمِ خداوندِ قدوس نے اپنے بندوں کو دیا ہے اور جس سے آراستہ ہو کر بندۂ مومن اپنے رب کی بارگاہ میں مقبول و محبوب بن جاتا ہے۔ امامِ اہل سنت بھی تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے۔ امامِ اہل سنت نے کثرتِ کار کے سبب اسفار کم کیے البتہ جہاں کیے ان میں ایک خوش نصیب مقام جبل پور ہے۔ آپ کے جبل پور ہی اسفار میں تقویٰ و پرہیزگاری سے لبالب جن واقعات کا مشاہدہ برہانِ ملت علامہ عبدالباقی جبل پوری نے فرمایا ان میں سے چند نوکِ قلم کیا جاتا ہے:

  1. ایک دعوت میں دسترخوان چنا جا رہا تھا کہ ٹائم پیس کا الارم نہایت سریلی پیانو کی آواز میں بجنے لگا، اعلیٰ حضرت نے فرمایا: “اسے بند کرو کہ سریلی راگ کا سننا جائز نہیں!”

  2. ایک دعوت میں کھانے کے بعد ایک صاحب نے ہاتھ دھونے کے بعد دسترخوان سے ہاتھ پونچھا، اعلیٰ حضرت کی نظرِ مبارک پڑ گئی، فرمایا: “دسترخوان صرف کھانے کے لیے ہے، اس سے ہاتھ پونچھنا خلافِ سنت ہے”۔

  3. سوداگر حاجی اکبر خاں کے یہاں دعوت میں قورمہ روٹی کیساتھ اچھا معلوم ہوا، حضرت نے حاجی اکبر خاں سے فرمایا: “خان صاحب! یہ قورمہ میں پی سکتا ہوں؟” اکبر خاں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی، “حضور! اجازت کی کیا حاجت ہے، اور حاضر کر دوں گا”۔۔۔ فرمایا: “شوربہ ترکاری، روٹی چاول کے ساتھ کھانے کے لیے دسترخوان پر رکھی جاتی ہے، پینے کے لیے نہیں، پینا صاحبِ خانہ کا مقصد نہیں ہوتا اس لیے اجازت کی ضرورت ہے۔”

  4. صدر بازار میں ٹیلر ماسٹر حاجی محمد حیدر کے ہاں دعوت میں ٹھنڈا پانی نہ تھا، حاجی صاحب نے اپنے فرزند سے کہا، “یٰسین، دیکھ مسجد کے گھڑے میں پانی ٹھنڈا ہوگا، جگ میں لے آؤ”۔۔۔ حضرت نے فرمایا: “مسجد میں پانی صرف مصلّیانِ مسجد کے لیے رکھا جاتا ہے، غیر مصلی کو اپنے یہاں منگا کر یا راستہ چلتے پینا جائز نہیں، مسجد کا پانی نہ منگایا جائے”۔ [اکرامِ امام احمد رضا، ادارہ مسعودیہ، ص: 96-97]

خوفِ خدا

ایک انسان کی انسانیت کا معراج اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ ہر وقت اس کیفیت میں ہو کہ وہ اپنے مالک و مولیٰ رب تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے یا اس کا مالک و مولیٰ اسے دیکھ رہا ہے، اور جس کے اندر یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے وہ کسی بھی کام کے انجام دہی میں اپنے مالک و مولیٰ سے خائف رہتا ہے اور ایک بندے کے لیے نہایت سعادت کی بات ہے جو ابدی سرخروئی کا سبب بھی ہے۔ امامِ اہل سنت کی پوری زندگی اس کیفیت سے تر بہ تر تھی اور آپ کا ہر ہر آن خوفِ خدا عزوجل سے روشن و منور تھا۔ پوری زندگی تو رہنے دیا جائے صرف بچپن کا ایک واقعہ ہی اس کی شہادت کے لیے کافی وافی ہے۔ حکیم الاسلام علامہ حسنین رضا خان لکھتے ہیں:

“سارے خاندان اور حلقۂ احباب کو مدعو کیا گیا، کھانے دانے پکے، رمضان المبارک گرمی میں تھا اور اعلیٰ حضرت خورد سال تھے مگر آپ نے خوشی سے پہلا روزہ رکھا تھا۔ ٹھیک دوپہر میں چہرہ مبارک پر ہوائیاں اڑنے لگیں، آپ کے والد ماجد نے دیکھا تو انہیں کمرے میں لے گئے اور اندر سے کواڑ بند کر کے اعلیٰ حضرت کو فیرنی کا ایک ٹھنڈا پیالہ اٹھا کر دیا اور فرمایا کہ کھا لو! آپ نے فرمایا: میرا تو روزہ ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ بچوں کا روزہ یوں ہی ہوا کرتے ہیں، کمرہ بند ہے نہ کوئی آسکتا ہے نہ دیکھ سکتا ہے۔ تو اعلیٰ حضرت نے عرض کی کہ “جس کا روزہ رکھا ہے وہ تو دیکھ رہا ہے” اس پر باپ آبدیدہ ہو گئے۔ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا کے عہد کو یہ بچہ کبھی فراموش نہ کرے گا جس کو بھوک پیاس کی شدت، کمزوری اور کم سنی میں بھی ہر فرض کی فرضیت سے پہلے وفائے عہد کی فرضیت کا اتنا لحاظ و پاس ہے۔” [سیرتِ اعلیٰ حضرت از مولانا حسنین رضا خان، ص: 44، 43]

دنیا سے بے نیازی

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذاتِ گرامی نے جس گھرانے اور ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں وہ دنیاوی جاہ و حشم اور مال و دولت سے بے نیاز تھا جس کا اثر آپ پر بھی پڑا اور آپ نے بھی کبھی مال و دولت اور دنیا کی رغبت نہ کی۔ چنانچہ کسی موقع پر ایک سائل نے لکھ دیا کہ جواب کی جو فیس ہوگی ادا کر دی جائے گی تو آپ نے اصل مسئلہ واضح کرنے کے بعد تحریر فرمایا:

“یہاں بحمد اللہ تعالیٰ فتویٰ پر کوئی فیس نہیں لی جاتی بِفَضْلِهِ تَعَالَىٰ بِفَضْلِهِ تَعَالَىٰ تمام ہندوستان و دیگر ممالک مثل چین و افریقہ و امریکہ و خود عرب شریف و عراق سے استفتا آتے ہیں اور ایک وقت میں چار چار سو فتوے جمع ہو جاتے ہیں بحمد اللہ تعالیٰ حضرت جدِ امجد قدس سرہ العزیز کے وقت سے اس 1273ھ تک اس دروازے سے فتوے جاری ہوئے اکانوے (91) برس اور خود اس فقیر غُفِرَ لَهُ کے قلم سے فتوے نکلتے ہوئے اکاون (51) برس ہونے آئے یعنی اس صفر کی 14 تاریخ کو پچاس (50) برس چھ (6) مہینے گزرے، اس نو و کم سو 100 برس میں کتنے ہزار فتوے لکھے گئے، بارہ مجلد تو صرف اس فقیر کے فتاوے کے ہیں بحمد اللہ یہاں کبھی ایک پیسہ نہ لیا گیا نہ لیا جائے گا بِعَوْنِهِ تَعَالَىٰ وَلِلّٰهِ الْحَمْدُ معلوم نہیں کون لوگ ایسے پست فطرت و دِنی ہمت ہیں جنہوں نے یہ صیغہ کسب کا اختیار کر رکھا ہے جس کے باعث دور دور کے ناواقف مسلمان کئی بار پوچھ چکے ہیں کہ فیس کیا ہوگی؟”

مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ

“میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو سارے جہاں کے پروردگار پر ہے اگر وہ چاہے۔ وَاللّٰهُ تَعَالَى أَعْلَمُ۔” [فتاویٰ رضویہ، ج: 6، ص: 562، مجلسِ رضا لاہور]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!