| عنوان: | خاتم المحققین علامہ نقی علی خان بریلوی قدس سرہ (قسط:دوم) |
|---|---|
| تحریر: | محمد عطاء النبی حسینی مصباحی |
| پیش کش: | فاطمہ خاتون |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
“آہ آہ آہ آہ! ہندوستان میں میرے زمانہ ہوش میں دو بندۂ خدا تھے جن پر اصول و فروع و عقائد و فقہ سب میں اعتمادِ کلی کی اجازت تھی۔ اول اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا الوالد القدس سرہ الماجد حاشا للہ نہ اس لیے کہ وہ میرے والد و والی ولی نعمت تھے بلکہ اس لیے کہ الْحَقَّ وَالْحَقَّ أَقُولُ، الصِّدْقَ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصِّدْقَ (یہ حق ہے اور میں حق کہتا ہوں، یہ صدق ہے اور اللہ تعالیٰ صدق کو محبوب رکھتا ہے) میں نے اس طبیبِ صادق کا برسوں مطب پایا اور وہ دیکھا کہ عرب و عجم میں جس کا نظیر نظر نہ آیا اس جناب رفیع قدس سرہ البدیع کو اصولِ حنفی سے استنباطِ فروع کا ملکہ حاصل تھا۔ اگرچہ کبھی اس پر حکم نہ فرماتے، مگر یوں ظاہر ہوتا تھا کہ نادر و دقیق و معضل مسئلہ پیش نہ ہوا کہ کتب متداولہ میں جس کا پتہ نہیں، خادمِ کمینہ کو مراجعتِ کتب و استخراجِ جزئیہ کا حکم ہوتا اور ارشاد فرماتے “ظاہرِ حکم یوں ہونا چاہیے” جو وہ فرماتے وہی نکلتا، یا بعض کتب میں اس کا خلاف نکلتا تو زیادتِ مطالعہ نے واضح کر دیا کہ دیگر کتب میں ترجیح اسی کو دی جو حضرت نے ارشاد فرمایا تھا۔ عجم کی حالت تو آپ ملاحظہ ہی فرماتے ہیں۔ عرب کا حال یہ ہے کہ اس جناب قدس سرہ کا یہ ادنیٰ خوشہ چیں ولدِ ربا، جو مکہ معظمہ میں اس بار حاضر ہوا، وہاں کے اعلم العلماء وافقہ الفقہاء سے چھ چھ گھنٹے مذاکرہِ علمیہ کی مجلس گرم رہتی، جب انہوں نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ فقہِ حنفی کے دو حرف جانتا ہے اپنے زمانہ کے عہدِ افتاء کے مسائلِ کثیرہ جن میں وہاں کے علماء سے اختلاف پڑا یا اشتباہ رہا، اس ہیچ میرز پر پیش فرمانا شروع کیے جس مسئلہ و حکم میں اس حقیر نے ان کی موافقت عرض کی آثارِ بشاشت ان کے چہرہ نورانی پر ظاہر ہوئے اور جس میں عرض کر دیا کہ فقیہ کی رائے میں حکم اس کے خلاف ہے، سماعِ دلیل سے پہلے آثارِ حزن نمایاں ہوئے اور خیال فرما لیتے کہ ہم سے اس حکم میں لغزش واقع ہوئی یہ اسی طبیبِ حاذق کی کفش برداری کا صدقہ ہے۔” [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 29، ص: 596]
-
جناب فضائل مآب تَاجُ الْعُلَمَاءِ، رَأْسُ الْفُضَلَاءِ، حَامِي سُنَّةٍ مَاحِي بِدْعَةٍ، بَقِيَّةُ السَّلَفِ، حُجَّةُ الْخَلَفِ رضی اللہ عنہ وَأَرْضَاهُ وَفِي أَعْلَى غُرَفِ الْجِنَانِ بَوَّاهُ سلخ جمادی الآخرۃ یا غرة رجب 1246 ہجری کو رونق افزائے دارِ دنیا ہوئے۔ اپنے والد ماجد حضرت مولائے اعظم فضائل پناہ عارف باللہ صاحبِ کمالاتِ باہرہ و کراماتِ ظاہرہ حضرت مولانا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب رَوَّحَ اللّٰهُ رُوحَهُ وَنَوَّرَ ضَرِيحَهُ سے اکتسابِ علوم فرمایا۔ بحمد اللہ منصبِ شریفِ علم کا پایہ درجہٴ علیا کو پہنچایا۔ [اذاقۃ الاثام لمانعی عمل المولد والقیام، ص: 28]
-
“عِنْدَ عَامَّةِ مُصَنِّفِيهِمْ مِنْ أَصْحَابِ الْفَتَاوَى وَغَيْرِهِمْ مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ، أَمَّا أَئِمَّتُنَا الْأَقْدَمُونَ فَعَلَى مَا عَلَيْهِ الْمُتَكَلِّمُونَ كَمَا حَقَّقَهُ خَاتَمُ الْمُحَقِّقِينَ سَيِّدُنَا الْوَالِدُ قُدِّسَ سِرُّهُ الْمَاجِدُ فِي بَعْضِ فَتَاوَاهُ.”
اقول: (میں کہتا ہوں) یعنی فقہائے متأخرین میں سے اکثر مصنفین، اصحابِ فتاویٰ و غیرہم کے نزدیک (وہ مطلقاً کافر ہے) اور ہمارے ائمہ متقدمین کا مسلک وہی ہے جس پر متکلمین ہیں جیسا کہ خاتم المحققین ہمارے والد ماجد قدس سرہ نے اپنے بعض فتاویٰ میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 1-ا، ص: 242]
-
ہاں ہاں یہ کفش برداریِ خدامِ درگاہِ فضائل پناہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت أَعْلَمُ الْعُلَمَاءِ الرَّبَّانِيِّينَ أَفْضَلُ الْفُضَلَاءِ الْمُحَقِّقِينَ حَامِي السُّنَنِ السَّنِيَّةِ مَاحِي الْفِتَنِ الدَّنِيَّةِ بَقِيَّةُ السَّلَفِ الصَّالِحِينَ حُجَّةُ الْخَلَفِ الْمُفْلِحِينَ آيَةٌ مِنْ آيَاتِ رَبِّ الْعَالَمِينَ مُعْجِزَةٌ مِنْ مُعْجِزَاتِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ صلی اللہ علیہ وسلم وَبَارَکَ وَسَلَّمَ أَجْمَعِينَ ذِي التَّصْنِيفَاتِ الرَّائِقَةِ وَالتَّحْقِيقَاتِ الْفَائِقَةِ وَالتَّدْقِيقَاتِ الشَّائِقَةِ تَاجُ الْمُحَقِّقِينَ سِرَاجُ الْمُدَقِّقِينَ أَكْمَلُ الْفُقَهَاءِ الْمُحَدِّثِينَ حضرت سیدنا الوالد امجد الاماجد اطیب الاطائب مولانا مولوی محمد نقی علی خان صاحب محمدی سنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی قُدِّسَ اللّٰهُ سِرَّهُ، وَعَمَّ بِرَّهُ وَتَمَّ نُورَهُ وَعَظَّمَ أَجْرَهُ وَأَكْرَمَ نُزُلَهُ وَأَنْعَمَ مَنْزِلَهُ وَلَا حَرَمَنَا سَعْدَهُ وَلَمْ يَفْتِنَّا بَعْدَهُ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ دَهْرَ الدَّاهِرِينَ۔ [فتاویٰ رضویہ مترجم، ج: 5، ص: 166]
-
ان امور کی قدرے تفصیل اور ان صاحبوں کی تصریحات جلیل فقیر کے رسالہ “أَنْوَارُ الْأَنْوَارِ مِنْ يَمِّ صَلَاةِ الْأَسْرَارِ” میں مذکور اور عدم ورود کو ورودِ عدم جاننے کا قلع قمع وافی کتاب مستطاب “أُصُولُ الرَّشَادِ لِقَمْعِ مَبَانِي الْفَسَادِ” و کتاب لاجواب “إِذَاقَةُ الْآثَامِ لِمَانِعِي عَمَلِ الْمَوْلِدِ وَالْقِيَامِ” وغیرہما تصنیفاتِ شریفہ و تالیفاتِ منیفہ اعلیٰ حضرت تَاجُ الْمُحَقِّقِينَ أَكْرَامُ سِرَاجِ الْمُدَقِّقِينَ الْأَعْلَامِ حَامِي السُّنَنِ السَّنِيَّةِ مَاحِي الْفِتَنِ الدَّنِيَّةِ بَقِيَّةُ السَّلَفِ الْمُصْلِحِينَ سَيِّدِي وَوَالِدِي وَمَوْلَايَ وَمَقْصَدِي حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وَأَجْزَلَ قُرْبَهُ مِنْهُ اور بقدرِ حاجت باجمال و وجازت رسالہ “إِقَامَةُ الْقِيَامَةِ عَلَى طَاعِنِ الْقِيَامِ لِنَبِيِّ تِهَامَةَ” و غیرہا رسائل و مسائل فقیر میں مسطور۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الْعَزِيزِ الْغَفُورِ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى الْمُنِيرِ النُّورِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ إِلَى يَوْمِ النُّشُورِ آمِين۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 578]
-
ان تمام اصولِ جلیلہ رفیعہ و دیگر قواعدِ نافعہ بدیعہ کی تنقیحِ بالغ و تحقیقِ بازغ حضرت خَاتَمُ الْمُحَقِّقِينَ إِمَامُ الْمُدَقِّقِينَ حُجَّةُ اللّٰهِ فِي الْأَرَضِينَ مُعْجِزَةٌ مِنْ مُعْجِزَاتِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ صَلَوَاتُ اللّٰهِ وَسَلَامُهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ سَيِّدُ الْعُلَمَاءِ سَنَدُ الْكُمَلَاءِ تَاجُ الْأَفَاضِلِ سِرَاجُ الْأَمَاثِلِ حضرت والد ماجد قُدِّسَ اللّٰهُ سِرَّهُ وَرَزَقَنَا بِرَّهُ نے کتاب مستطاب “أُصُولُ الرَّشَادِ لِقَمْعِ مَبَانِي الْفَسَادِ” و کتاب لاجواب “إِذَاقَةُ الْآثَامِ لِمَانِعِي عَمَلِ الْمَوْلِدِ وَالْقِيَامِ” وغیرہما میں افادہ فرمائی۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 5، ص: 681]
-
هُوَ الْبَحْرُ الزَّاخِرُ، الْبَدْرُ الْبَاهِرُ، النَّجْمُ الزَّاهِرُ، حَامِي السُّنَنِ، مَاحِي الْفِتَنِ، الْعَالِمُ الْعَامِلُ، الْفَاضِلُ الْكَامِلُ، الْحَاجُّ الزَّائِرُ، الْجَامِعُ الْمَفَاخِرِ، مَوْلَانَا الْمَوْلَوِيُّ مُحَمَّدُ نَقِيُّ عَلِيٍّ خَانَ الْمُحَمَّدِيُّ السُّنِّيُّ الْحَنَفِيُّ الْقَادِرِيُّ الْبَرَكَاتِيُّ الْبَرِيلْوِيُّ أَجَلُّ خُلَفَاءِ حَضْرَةِ شَيْخِنَا وَمُرْشِدِنَا بَحْرِ الرَّحْمَةِ مَوْلَى النِّعْمَةِ حَضْرَةِ السَّيِّدِ الشَّاه آلِ الرَّسُولِ الْأَحْمَدِيِّ الْمَارْهَرَوِيِّ قُدِّسَ اللّٰهُ تَعَالَى سِرَّهُمَا وَأَفَاضَ عَلَيْنَا بِرَكَهُمَا، وُلِدَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى مُسْتَهَلَّ رَجَبٍ 1246ھ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 7، ص: 648]
-
اوّلاً وہی معمولی باتیں ہیں جن کے جواب علمائے اہل سنت کی طرف سے ہزار ہزار بار ہو چکے جیسے آفتابِ روشن پر اطلاع منظور ہو، ان کی تصانیفِ شریفہ کی طرف رجوع لائے، علی الخصوص کتابِ مستطاب “أُصُولُ الرَّشَادِ لِقَمْعِ مَبَانِي الْفَسَادِ” وکتابِ لاجواب “إِذَاقَةُ الْآثَامِ لِمَانِعِي عَمَلِ الْمَوْلِدِ وَالْقِيَامِ” وغیر ہما تصانیفِ لطیفہ و تالیفِ منیفه حضرت تَاجُ الْمُحَقِّقِينَ سِرَاجُ الْمُدَقِّقِينَ حَامِي السُّنَنِ مَاحِي الْفِتَنِ بَقِيَّةُ السَّلَفِ حُجَّةُ الْخَلَفِ فَرْدُ الْأَمَاثِلِ فَخْرُ الْأَكَابِرِ وَارِثُ الْعِلْمِ كَابِرًا عَنْ كَابِرٍ، سَيِّدِي وَوَالِدِي حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب محمدی سنی حنفی قادری برکاتی بریلوی أَعْظَمَ اللّٰهُ أَجْرَهُ وَنَوَّرَ قَبْرَهُ وَقُدِّسَ سِرُّهُ۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 7، ص: 621]
-
اما بعد، یہ چند حروف ہدایتِ حجاج کے لیے ہیں، ان میں اکثر کتابِ مستطاب “جَوَاهِرُ الْبَيَانِ” شریف تصنیفِ لطیف اقدس حضرت خاتم المحققین سیدنا و مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی قدس سرہ الشریف سے التقاط کیے ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 10، ص: 327]
-
بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ جب توفیق و عنایتِ الٰہی و اعانتِ حضرت رسالت پناہی علیہ الصلوٰۃ والسلام الْخَيْرُ الْمُتَنَاهِي نے دستگیری فرمائی اور 1295ھ میں فقیر سراپا تقصیر عبد المصطفٰے احمد رضا حنفی قادری برکاتی بریلوی غُفِرَ لَهُ مَا جَنَى کو بہمراہیِ رکاب، سعادت انتساب، حضرت أَفْضَلُ الْمُحَقِّقِينَ، أَمْثَلُ الْمُدَقِّقِينَ، حَامِي السُّنَّةِ السَّنِيَّةِ، مَاحِي الْفِتَنِ الدَّنِيَّةِ، خدمتِ والدِ ماجد، قبلۂ اعظم حضرت مولانا مولوی محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی مَدَّ ظِلُّهُمُ الْعَالِي مَدَى تَعَاقُبِ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي... نعمتِ حاضریِ بلدۂ معظمہ مکہ مکرمہ زَادَهَا اللّٰهُ تَعَالَى شَرَفًا وَتَكْرِيمًا ہاتھ آئی۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 10، ص: 780]
-
كَمَا حَقَّقَهُ أَبِي وَسَيِّدِي مِقْدَامُ الْمُحَقِّقِينَ قُدِّسَ سِرُّهُ الْمَكِينُ فِي فَتَاوَاهُ.
(جیسا کہ میرے والد ماجد مقدام المحققین قدس سرہ نے اپنے فتاویٰ میں اس کی تحقیق فرمائی) [فتاویٰ رضویہ، ج: 11، ص: 695]
-
یہ مجمل تحقیق استحبابِ قیام پر صرف ایک دلیل کی ہے، اس کے سوا دلائلِ متکاثرہ و حججِ باہرہ و براہینِ قاہرہ قرآن و حدیث و قواعدِ شرع سے اس پر قائم ہیں جن کی تفصیل و توضیح اور شبہاتِ مانعین کی تذلیل و تفضیح پر طرزِ بدیع و نہجِ اَنیق حضرت حُجَّةُ الْإِسْلَامِ بَقِيَّةُ السَّلَفِ تَاجُ الْعُلَمَاءِ رَأْسُ الْكُمَلَاءِ سَيِّدِي وَمَوْلَايَ خدمتِ والدِ ماجد حضرت مولانا محمد نقی علی خاں صاحب قادری برکاتی احمدی قُدِّسَ اللّٰهُ تَعَالَى سِرَّهُ الزَّكِيَّ نے رسالہ مستطابہ “إِذَاقَةُ الْآثَامِ لِمَانِعِي عَمَلِ الْمَوْلِدِ وَالْقِيَامِ” میں بِمَا لَا مَزِيدَ عَلَيْهِ بیان فرمائی، جسے تحقیقِ عدیل و تدقیقِ بے مثیل دیکھنے کی تمنا ہو اسے مژدہ دیجیئے کہ اس پاک مبارک رسالہ کے مائدہ فائدہ سے زلہ ربا ہو۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 26، ص: 523]
-
وَقَدْ فُصِّلَ الْكَلَامُ، فِي هٰذَا الْمَرَامِ تَاجُ الْمُحَقِّقِينَ، سِرَاجُ الْمُدَقِّقِينَ، سَيِّدُنَا الْوَالِدُ قُدِّسَ سِرُّهُ الْمَاجِدُ فِي بَعْضِ فَتَاوَاهُ الَّتِي شَدَّدَ فِيهَا النَّكِيرَ عَلَى بَعْضِ أَعْلَامِ عَصْرِهِ فَلَمْ يَرُدُّوا شَيْئًا، وَكَانُوا لَهُ مُذْعِنِينَ. [فتاویٰ رضویہ، ج: 27، ص: 179]
-
جس دن یہ شکلِ حضرت اقدس حُجَّةُ اللّٰهِ فِي الْأَرَضِينَ مُعْجِزَةٌ مِنْ مُعْجِزَاتِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ خَاتِمَةُ الْمُحَقِّقِينَ سَيِّدُنَا الْوَالِدُ قُدِّسَ سِرُّهُ الْمَاجِدُ سے پڑھی اور اس کی تقریر حضور میں کی۔ ارشاد فرمایا تم اپنے علومِ دینیہ کی طرف متوجہ رہو ان علوم کو خود حل کرلو گے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: 27، ص: 382]
-
وَمَنْ أَحْسَنُ مَنْ فَصَّلَهُ وَحَقَّقَهُ خَاتَمُ الْمُحَقِّقِينَ سَيِّدُنَا الْوَالِدُ رضی اللہ عنہ الْمَاجِدُ فِي كِتَابِهِ الْجَلِيلِ الْمُفَادِ “أُصُولُ الرَّشَادِ لِقَمْعِ مَبَانِي الْفَسَادِ”.
(خاتم المحققین سیدنا والد ماجد رضی اللہ عنہ نے اپنی جلیل و مفید کتاب “أُصُولُ الرَّشَادِ لِقَمْعِ مَبَانِي الْفَسَادِ” میں اس کی عمدہ تفصیل و تحقیق کی ہے) [فتاویٰ رضویہ، ج: 30، ص: 373]
