| عنوان: | شیخ الاسلام حضرت امام ابو زکریا یحییٰ نووی رحمہ اللہ: حیاتِ مبارکہ، علمی خدمات، تصنیفات اور شاہکارِ ریاض الصالحین |
|---|---|
| تحریر: | محمد آزاد رضوی الطیبی |
تمہید
اسلامی تاریخ کے صفحات ایسے عظیم رجالِ علم و فضل سے مزین ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ علمِ دین کی تحصیل، تعلیم، تصنیف، تحقیق اور اشاعت کے لیے وقف کر دیا۔ انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں شیخ الاسلام، امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمہ اللہ کا نام نہایت روشن اور نمایاں ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے اگرچہ دنیا میں صرف پینتالیس برس کی مختصر عمر پائی، لیکن اس مختصر مدت میں علم و عمل کا ایسا عظیم سرمایہ چھوڑ گئے جو آج بھی عالمِ اسلام کے لیے ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے۔ حدیث و فقہ کے میدان میں آپ کی خدمات، آپ کی بے مثال علمی جدوجہد اور آپ کی گراں قدر تصانیف نے آپ کو ائمۂ اسلام اور اکابرِ امت کی صف میں ممتاز مقام عطا فرمایا۔
خصوصاً آپ کی شہرۂ آفاق کتاب “ریاض الصالحین” آج بھی قرآن و حدیث، اخلاق و آداب، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے ایک عظیم علمی و تربیتی سرمایہ ہے۔
ولادت، اسمِ گرامی اور نسب
اسمِ گرامی: یحییٰ
کنیت: ابو زکریا
لقب: محی الدین
سلسلۂ نسب: یحییٰ بن شرف بن مری بن حسن بن حسین بن جمعہ بن حزام
آپ کی ولادتِ باسعادت 631ھ میں نَوا نامی مقام پر ہوئی، جو ملکِ شام کے شہر حوران کا ایک قریہ تھا۔ اسی مقام کی نسبت سے آپ نووی اور نواوی کے نام سے مشہور ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے آپ کو غیر معمولی ذہانت، قوتِ حفظ اور علم کی محبت سے نوازا تھا، جس کا عملی اظہار آگے چل کر آپ کی پوری زندگی میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔
تحصیلِ علم، اسفار اور علمی جدوجہد
امام نووی رحمہ اللہ نے 649ھ میں دمشق کے مشہور مدرسہ رواحیہ میں داخلہ لے کر باقاعدہ تحصیلِ علم کا آغاز فرمایا۔
آپ کے اندر حصولِ علم کا ایسا شوق اور جذبہ تھا کہ دنیاوی مشاغل آپ کی علمی مصروفیات کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی علم کے حصول، اس کی تحقیق اور پھر اسے امت تک پہنچانے میں صرف فرمائی۔
سفرِ حج و حرمین
آغازِ تعلیم کے دو سال بعد آپ اپنے والدِ گرامی کے ہمراہ حجِ بیت اللہ کے لیے تشریف لے گئے۔ اس مبارک سفر میں آپ نے مدینہ منورہ میں ڈیڑھ ماہ قیام فرمایا اور حرمین شریفین کے جلیل القدر علماء و فضلاء سے علمی استفادہ کیا۔
جذبۂ علم اور روزانہ کا معمول
سفرِ حج سے واپسی کے بعد آپ پوری یکسوئی اور انہماک کے ساتھ حصولِ علم میں مصروف ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قوتِ حفظ، ضبط، فہم و فراست، غور و فکر، تفتیش اور علمی ذوق و شوق جیسی غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔
آپ کے استاد شیخ ابو الحسن بن العطار رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ امام محی الدین نووی رحمہ اللہ نے انہیں بتایا: “وہ خوب سوچ سمجھ کر روزانہ اپنے اساتذہ سے بارہ (12) اسباق پڑھا کرتے تھے۔”
یہ واقعہ آپ کے غیر معمولی شوقِ علم، محنت اور علمی انہماک کا واضح ثبوت ہے۔
بارگاہِ علم میں امام نووی رحمہ اللہ کا مقام
امام نووی رحمہ اللہ نے جس محنت، تحقیق اور اخلاص کے ساتھ علم حاصل کیا، اس کے نتیجے میں آپ کو عالمِ اسلام میں ایسا بلند مقام حاصل ہوا جس کا اعتراف بڑے بڑے ائمہ و محدثین نے کیا۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ کی نظر میں:
الْإِمَامُ الْحَافِظُ الْأَوْحَدُ الْقُدْوَةُ شَيْخُ الْإِسْلَامِ عَلَمُ الْأَوْلِيَاءِ صَاحِبُ التَّصَانِيفِ
ترجمہ: “امام نووی بے نظیر پیشوا، جلیل القدر حافظِ حدیث، شیخ الاسلام، علمِ اولیاء اور متعدد مفید تصانیف کے مصنف تھے۔”
شیخ شمس الدین بن فخر حنبلی رحمہ اللہ کا قول:
كَانَ إِمَامًا بَارِعًا حَافِظًا مُتْقِنًا أَتْقَنَ عُلُومًا جَمَّةً وَصَنَّفَ التَّصَانِيفَ الْجَمَّةَ
ترجمہ: “آپ باکمال امام، صاحبِ حفظ اور متقن عالم تھے۔ آپ نے بہت سے علوم میں مہارت حاصل کی اور بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں۔”
علمی مہارت
امام نووی رحمہ اللہ کو حدیث و فقہ کے ساتھ ساتھ تفسیر، قراءت، عربیت، نحو و صرف، منطق اور فلسفہ جیسے علوم میں بھی نمایاں مہارت حاصل تھی۔
تدریسی خدمات
آپ نے اپنی تمام زندگی تحصیلِ علم، تدریس، تصنیف اور اشاعتِ علم کے لیے وقف کر دی تھی۔ آپ کا کوئی لمحہ بے مقصد نہ گزرتا تھا۔ شب و روز علمی مشاغل میں مصروف رہتے اور طلبۂ علم کی علمی و اخلاقی تربیت فرماتے۔
آپ کے حلقۂ درس سے متعدد نادرۂ روزگار علماء، فضلاء اور محدثین نے علم حاصل کیا۔
تصنیفاتِ امام نووی رحمہ اللہ
امام نووی رحمہ اللہ نے متعدد جلیل القدر اور شاہکار کتابیں تصنیف فرمائیں، جن میں چند نمایاں تصانیف یہ ہیں:
-
شرح مسلم
-
ریاض الصالحین
-
الاذکار
-
الاربعین
-
الارشاد فی علوم الحدیث
-
التبیان فی آداب حملۃ القرآن
-
شرح قطعۃ من البخاری
-
التحقیق فی الفقہ
-
کتاب المبہمات
وفات
علم و فن کا یہ درخشاں ستارہ زیادہ عرصہ دنیا میں نہ رہ سکا۔ آپ نے اپنی مختصر زندگی علمِ دین کی خدمت میں گزاری اور 17 رجب 676ھ کو صرف پینتالیس (45) سال کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
آپ کی عمر مختصر تھی، مگر آپ کے علمی آثار اتنے وسیع اور گہرے تھے کہ صدیوں گزرنے کے باوجود امتِ مسلمہ آپ کے علم سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ یہی اہلِ علم کی حقیقی زندگی ہے کہ انسان دنیا سے رخصت ہو جائے، مگر اس کا علم اور اس کے آثار باقی رہیں۔
شاہکارِ تصنیف: “ریاض الصالحین”
امام نووی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق تصنیف “ریاض الصالحین” ترغیب و ترہیب، اخلاق و آداب، زہد، تزکیۂ نفس اور اصلاحِ کردار کے موضوع پر ایک نہایت جامع اور مقبول مجموعۂ احادیث ہے۔
اس کتاب کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ امام نووی رحمہ اللہ نے اسے اس انداز سے مرتب فرمایا کہ قاری کے اندر فکرِ آخرت، حسنِ اخلاق، پاکیزگیِ قلب اور عملِ صالح کا جذبہ پیدا ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو نور سے بھر دے، آمین یا رب العالمین۔
