اسماء غوث اعظم کی برکات و فضائل|عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی

اسماء غوث اعظم کی برکات و فضائل
عنوان: اسماء غوث اعظم کی برکات و فضائل
تحریر: عالمہ مدحت فاطمہ ضیائی گھوسی

محترم قارئینِ کرام! حضرت پیرانِ پیر، روشن ضمیر، محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، گیارہویں والے پیر، حضور غوثِ اعظم دستگیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گیارہ اسمائے مبارکہ نماز کے بعد، رات کو سوتے وقت اور صبح کے اذکار میں پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے۔ ان اسماء کے ورد سے دل کی نیک مرادیں پوری ہوتی ہیں، بلائیں اور مصیبتیں دور ہوتی ہیں، اور ہر نیک کام میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ [نافع الخلائق]

اے ایمان والو! حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک نام میں بہت ہی فیض و برکت ہے۔ اور جب ہم یا غوث المدد پکارتے ہیں تو ولیوں کے شہنشاہ حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غیبی مدد اور ظاہری مدد حاصل ہوتی ہے۔ [انوار البیان، ج: 1، ص: 571]

اسی حقیقت کو مجدد ابنِ مجدد، ہم شبیہِ غوثِ اعظم، حضور مفتیِ اعظم ہند مصطفیٰ رضا خان بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یوں بیان فرمایا:

کہا جس نے یا غوث اغثنی تو دم میں
ہر آئی مصیبت ٹلی غوثِ اعظم

آپ کا اسمِ مبارک اسمِ اعظم ہے

ایک عورت کا بچہ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ وہ عورت حضرت محبوبِ سبحانی، غوثِ صمدانی، قطبِ ربانی حضرت شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ النورانی کی بارگاہِ پناہ میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگی کہ حضور میرا بچہ دریا میں ڈوب کر مر گیا ہے اور میرا یہ ایمان ہے کہ آپ میرے بچے کو زندہ کر کے میری طرف لوٹا سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تو اپنے گھر واپس چلی جا تجھے تیرا بچہ مل جائے گا۔ وہ گھر گئی مگر بچہ نہ ملا۔ دوسری دفعہ پھر آ کر زاری کی تو آپ نے پھر وہی فرمایا کہ تو گھر چلی جا تجھے بچہ مل جائے گا۔ وہ گھر گئی مگر بچہ نہ مل سکا۔ پھر تیسری دفعہ روتی پیٹتی آئی تو آپ نے مراقبہ کیا اور اپنے سرِ مبارک کو ہلایا، پھر سرِ مبارک اٹھا کر فرمایا، تو گھر چلی جا تجھے تیرا بچہ گھر ہی میں مل جائے گا۔ جب وہ تیسری بار گھر آئی تو بچہ گھر پہ موجود پایا۔

غوثِ اعظم نے محبوبیت کی حالت میں عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! تو نے مجھے اس عورت کے سامنے دو دفعہ شرمندہ کیوں کیا؟ ندائے باری تعالیٰ ہوئی کہ تیسری کلام سچی تھی مگر پہلی مرتبہ ملائکہ نے اس کے اجزائے متفرقہ اکٹھے کیے اور دوسری مرتبہ میں نے اس کو زندہ کر دیا اور تیسری مرتبہ میں نے اسے دریا سے نکال کر گھر پہنچا دیا۔ عرض کیا باری تعالیٰ! تو نے دنیا کو “کن” سے پیدا فرمایا اور اس میں دیر نہیں لگی۔ قیامت کے دن بے شمار اجسام کے اجزا کو ایک لمحہ میں جمع کر کے اکٹھا کر دے گا اور یہ ایک جسم کے تمام اجزاء اور زندہ کرنا اور گھر پہنچانا تو ایک جز ہے آخر اس تاخیر میں کیا حکمت ہے؟

ربِ قدیر کی طرف سے خطاب ہوا، جو مانگنا ہے مانگ ہم تیری دل شکنی کا بدلہ دیتے ہیں۔ یہ خطاب سن کر محبوبِ سبحانی سجدہ میں چلے گئے اور عرض کیا الٰہی میں مخلوق ہوں اور میری طلب بھی مخلوقیت کے موافق ہونی چاہیے اور تو خالق ہے اور تیری عطا بھی تیری عظمت و خالقیت کے موافق ہونی چاہیے۔ تو خطابِ باری تعالیٰ ہوا، جو بھی تجھے جمعہ کے دن دیکھ لے گا وہ ولی مقرب ہو جائے گا اور اگر تو مٹی پر نظر ڈالے گا سونا ہو جائے گی۔ عرض کیا الٰہی! مجھے ان دونوں باتوں سے کوئی نفع نہیں، مجھے ایسی شے عطا فرما جو اس سے بھی اعلیٰ ہو اور میری موت کے بعد بھی باقی رہے تاکہ لوگوں کو دنیا و آخرت میں نفع دے۔ پس آواز آئی میں نے تیرے ناموں کو اپنے ناموں کے برابر ثواب و تاثیر میں کر دیا۔ جس نے تیرے ناموں سے کوئی نام لیا گویا اس نے میرا نام لیا۔ [تفریح الخاطر، کراماتِ غوث اعظم، ص: 91، 92]

بے وضو نام لینے پر ہلاکت

“گلزارِ معانی” میں مندرج ہے کہ شروع شروع میں آپ پر جلالیت کا بہت غلبہ تھا، اس غلبہ کی یہ حالت تھی کہ جو شخص آپ کا نام بے وضو لیتا اس کا سر تن سے جدا ہو جاتا اور وہ مر جاتا۔ تو حضرت محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی شیخ عبد القادر جیلانی قدس سرہ النورانی نے اپنے نانا جان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ فرما رہے ہیں کہ بیٹا اس حالت کو چھوڑ دو کیونکہ ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جس میں لوگ میرا اور میرے رب تعالیٰ کا نام بھی بغیر ادب کے ذکر کیا کریں گے۔ آپ نے اپنے نانا پاک کی امت پر رحم فرما کر اس حالت کو ترک کر دیا۔ [تفریح الخاطر]

آفتاب و ماہتاب و عرش و کرسی و قلم
نورِ قلب از نورِ اعظم شاہ عبد القادر است

ترجمہ: سورج، چاند، عرش و کرسی، لوح و قلم، نورِ قلب۔ شہنشاہِ بغداد سیدنا میراں محی الدین سید عبد القادر کے نورِ اعظم سے ہیں۔ [کراماتِ غوث اعظم، ص: 94]

آپ کے اسمِ پاک کی برکت سے عزت ملنا

بزرگ فرماتے ہیں: جب یہ حالتِ جلالی مشہور ہوئی تو اس وقت آپ کا نام مبارک بے وضو موت کے خوف سے کوئی نہ لیتا تھا۔ بغداد کے اولیاء کرام نے آپ کی بارگاہِ غوثیت پناہ میں حاضر ہو کر عرض کیا، حضور لوگوں پر رحم فرمائیے اور اس سختی کو معاف فرمائیے۔ آپ نے ارشاد فرمایا، میں تو اس حالت کو پسند نہیں کرتا لیکن حق تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تو نے میرے نام کی عزت کی ہے ہم تیرے نام کی عزت کریں گے، جو عزت کرتا ہے معزز بن جاتا ہے۔ [تفریح الخاطر، کراماتِ غوث اعظم، ص: 94]

آپ رضی اللہ عنہ کا ذکر ہر مرض کی دوا

بزرگ فرماتے ہیں، جو آپ کا اسم شریف بغیر وضو کے لیتا ہے وہ تنگدستی اور مفلسی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اور جو آپ کے نام کی نذر مانے اُسے ضرور ادا کر دینا چاہیے تاکہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہو جائے۔ جو جمعرات کو حلوا پکا کر اور فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب آپ کی روح مبارک کو پہنچائے اور فقرا میں تقسیم کرے اور آپ سے کسی امر میں مدد طلب کرے تو آپ اُس کی مدد فرما دیں گے، اور جو بعض وقت اپنے مال میں سے کچھ طعام پر ختم شریف پڑھ کر آپ کو ثواب پہنچاتا رہے اس کی دینی و دنیوی مشکلات حل ہو جائیں گی۔ جو آپ کا نام مبارک اخلاص کے ساتھ باوضو لے تو وہ تمام دن خوش و خرم رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال سے گناہ مٹا دے گا۔ [تفریح الخاطر]

غوثِ اعظم دلیلِ راہِ یقیں
بے یقیں رہبرِ اکابرِ دیں

ترجمہ: حضرت غوثِ اعظم راہِ یقین کی دلیل اور بلا شک و شبہ بڑے بڑے بلند مرتبہ بزرگانِ دین کے رہنما ہیں۔ [کراماتِ غوث اعظم، ص: 95]

گیارہ (11) اسمائے مبارکہ

حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے اسمائے مبارکہ میں سے گیارہ نام ایسے ہیں جو برکتوں کے حصول اور مشکلات سے نجات کا مجرب ذریعہ ہیں۔ ان اسمائے مبارکہ کو آفات سے چھٹکارے یا بیماری سے شفاء کے لیے یا کسی کے گھر یا دکان میں پڑھا جائے تو کثیر برکات حاصل ہوں گی۔ وہ گیارہ اسماء شریفہ یہ ہیں:

  1. سید محی الدین

  2. سلطان محی الدین

  3. قطب محی الدین

  4. خواجہ محی الدین

  5. مخدوم محی الدین

  6. ولی محی الدین

  7. بادشاہ محی الدین

  8. شیخ محی الدین

  9. مولانا محی الدین

  10. غوث محی الدین

  11. خلیل محی الدین

[فتاویٰ رضویہ شریف، ج: 26، رسالہ نطق الھلال بارخ ولاد الحبیب و الوصال، ص: 430]

نوٹ: حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ نے 22 اگست 2010ء کو ہونے والے ہفتہ وار آن لائن علمی مذاکرے میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ “فقیر” اور “درویش” اور اس قسم کے نام حضور غوثِ اعظم کی طرف نہ منسوب کیے جائیں، نہ ہی پڑھے جائیں کہ یہ شانِ اقدس کے خلاف ہیں۔ (اور ضروری ہے کہ ہر اسمِ اقدس سے پہلے سیدنا اور آخر میں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضرور پڑھا جائے!) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

گیارہویں شریف کے بابرکت مہینے میں ہر روز اسمائے غوثِ اعظم ضرور پڑھیں اور اس کے فیوض و برکات سے مالامال ہوں اور دعا کریں کہ اللہ رب العزت ہمیں حضور غوثِ اعظم کے اسمائے مبارکہ کے ورد کی برکت سے دل کا سکون، دین پر استقامت اور دنیا و آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائے، رب العالمین ہمیں اپنے اولیائے کاملین کی محبت و عقیدت میں ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اہلِ سنت والجماعت پر استقامت عطا فرمائے اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے ہمیں مغفرت و جنت الفردوس عطا فرمائے۔۔۔ آمین یا رب العالمین۔

ورق تمام ہوا، اور مدح باقی ہے۔

ایک سفینہ چاہیے اس بحرِ بیکراں کے لیے

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!