Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمۂ اہلِ سنت کی روشنی میں

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمۂ اہلِ سنت کی روشنی میں
عنوان: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ اور ائمۂ اہلِ سنت کی روشنی میں
تحریر: محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار
پیش کش: لباب اکیڈمی

میں اس تحریر کے ذریعے اپنے قلم کو جلیل القدر صحابیِ رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیضانِ علم و کردار سے منور کرنا چاہتا ہوں۔

صحابیِ رسول، سلطان الصبر، فاتح البحر، ناصرِ اسلام، امیر السیاسة والتدبیر، حافظِ حدودِ شریعت، امینِ امت، راویِ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم، داعیِ اتحادِ امت، محبِ اہل بیت، سردارِ قریش، مجددِ نظامِ حکومت، بانیِ بحریۂ اسلام، فاتحِ عرب و عجم، قائدِ امت، خادمِ دینِ شریعت، امیر المؤمنین، خلیفة المسلمین، خال المؤمنین، کاتبِ وحیِ الٰہی، صحابی ابنِ صحابی حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جنھیں صحبتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، کتابتِ وحی اور خدمتِ اسلام جیسے اعلیٰ اعزازات حاصل ہوئے۔ موجودہ دور میں بعض افراد محدود اور غیر معتبر مطالعے کی بنیاد پر اس عظیم صحابی پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں، حالاں کہ یہ طرزِ عمل نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ ہی اہلِ سنت کے مسلمہ اصولوں کے۔ اس مضمون میں ایسے تمام اعتراضات کا مدلل اور باوقار رد پیش کیا گیا ہے۔ قارئین سے گزارش ہے کہ حوالہ جات کا بغور اور بار بار مطالعہ کریں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرنے والوں سے فکری و عملی طور پر دور رہیں۔

قرآن شریف میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ

اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی۔ [التوبۃ: 100]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنْفَقَ أَحَدُكُمْ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ“۔

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔“ [سنن ابی داود، کتاب السنة، حدیث: 4658]

حدیث شریف ہے:

عبد الله بن مغفل قال قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم: ”الله الله في أصحابي لا تتخذوهم غرضا بعدي فمن أحبهم فبحبي أحبهم ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم ومن آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله ومن آذى الله يوشك أن يأخذه“۔

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ سے ڈرتے رہو، میرے بعد انھیں بدگوئی کا نشانہ مت بناؤ، پس جس کسی نے ان سے محبت کی تو بالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تو اس نے مجھ سے بغض کے باعث ان سے بغض رکھا ہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہنچائی یقیناً اس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقیناً اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرمائے۔ [جامع ترمذی، ابواب المناقب، حدیث: 3797]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: ”اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ“۔

صحابیِ رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا: ”اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذی، کتاب المناقب، حدیث: 3842]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

أصحابي کالنجوم فبأيهم اقتديتم اهتديتم۔

میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں جس کی پیروی کرو گے راہ پاؤ گے۔ [مشکاة، ص: 554]

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ”التاریخ الکبیر“ میں سندِ حسن کے ساتھ حضرت سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں:

”كان معاوية ردف النبي صلي الله تعالي عليه وآله وسلم فقال: يا معاوية ما يليني منك ؟ قال: بطني، قال: اللهم املأه علما وحلما“۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سواری پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاویہ! تمہارا کون سا حصہ مجھ سے ملا ہوا ہے؟“ عرض کی: پیٹ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: ”اے اللہ! اس کو علم اور حلم سے بھر دے۔“ [التاریخ الکبیر، ج: 8، ص: 68، طبع دار الکتب العلمیة، بیروت]

امام احمد مسند احمد اور فضائل الصحابہ میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی:

”اللهم علمه الكتاب والحساب وقه العذاب“۔

اے اللہ! اس (امیر معاویہ) کو کتاب و حساب کا علم عطا فرما اور اسے عذاب سے بچا۔ [مسند احمد، ج: 28، ص: 383، رقم: 17152، فضائل الصحابہ، ج: 2، ص: 1157، رقم: 1748، طبع بیروت]

معجم کبیر میں حدیثِ پاک ہے:

عن ابن عباس: قال قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم: ”من سب أصحابي فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين“۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو میرے صحابہ کے بارے میں بدگوئی کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ [المعجم الکبیر للطبرانی، باب العین، حدیث: 12709]

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شان میں بے ادبی کرنے والا، بدگوئی کرنے والا بروزِ محشر بھی ملعون ہوگا، کنز العمال میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

كل الناس يرجو النجاة يوم القيامة إلا من سب أصحابي فإن أهل الموقف يلعنونهم۔

سارے لوگ قیامت کے دن نجات کی امید رکھیں گے لیکن وہ بدگو شخص نہیں جس نے میرے صحابہ کو برا کہا، اہل محشر اس پر لعنت بھیجیں گے۔ [کنز العمال، الفصل الاول فی فضائل الصحابة، حدیث: 32539]

مصنف ابن ابی شیبہ میں حدیثِ پاک ہے:

عن ابن عمر يقول: لا تسبوا أصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم فلمقام أحدهم ساعة خير من عمل أحدهم عمره۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا نہ کہو، ان میں سے کسی کے ایک گھڑی کا قیام لوگوں میں سے کسی کے زندگی بھر عمل سے بہتر ہے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الفضائل، حدیث: 32415]

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”جب تک کسی شخص کے اندر کوئی بدی نہ ہو، وہ اصحابِ رسول میں سے کسی ہستی کی عیب جوئی نہ کرے گا۔“ [البدایة والنهایة، ج: 8، ص: 139]

شہاب الدین خفاجی رحمۃ اللہ علیہ نے ”نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض مالکی“ میں فرمایا:

ومن يكون يطعن في معاوية فذلك كلب من كلاب الهاوية۔

جو امیر معاویہ پر طعن کرے وہ جہنم کے کتوں سے ایک کتا ہے۔ [نسیم الریاض، ج: 4، ص: 525، مطبوعہ دارالکتب علمیة بیروت لبنان]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اختلاف صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے مسئلے میں ہے اور اگر وہ خونِ عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص لے لیں تو اہل شام میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے والا سب سے پہلے میں ہوں گا۔ [البدایة والنهایة، ج: 7، ص: 259]

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے لشکر کے مقتول اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے مقتول دونوں جنتی ہیں۔ [مجمع الزوائد، ج: 9، ص: 258]

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو جب شہادتِ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خبر ملی تو سخت افسردہ ہوگئے اور رونے لگے۔ [البدایة، ج: 8، ص: 130]

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو صاحبِ فضل کہا۔ [البدایة، ج: 8، ص: 131]

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے روم کے بادشاہ کو جوابی خط لکھا تو اس میں یہ لکھا: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ میرے ساتھی ہیں اگر تو ان کی طرف غلط نظر اٹھائے گا تو تیری حکومت کو گاجر مولی کی طرح اکھاڑ دوں گا۔ [تاج العروس، ص: 221]

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: ”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت سے نفرت نہ کرنا، کیوں کہ سیدنا معاویہ محافظ ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں تو گردنیں سروں سے کٹتی ہوئی نظر آئیں گی۔“ [حلم معاویہ، ص: 20]

جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے جنگِ صفین کے موقع پر کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ اہل شام (یعنی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے لشکر) پر سب و شتم (برا بھلا) کر رہے ہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے لیے اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے لگو، بہترین بات یہ ہے کہ تم ان کے عمل اور حالات کا تذکرہ کرو تاکہ بات بھی صحیح رہے اور پریشانی بھی ختم ہو جائے اور پھر گالیاں دینے کے بجائے یہ دعا کرو کہ اللہ ہم سب کے خونوں کو محفوظ کر دے اور ہمارے معاملات کی اصلاح کر دے۔ [نہج البلاغہ، ص: 323، خطبہ: 206]

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ائمہ اربعہ و حنفی علما کے اقوال

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اگر جنگ میں ابتدا کی تو صلح میں بھی ابتدا کی۔ [صواعق محرقہ، ص: 105]

حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا کہنا اتنا بڑا جرم ہے جتنا بڑا جرم حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم کو برا کہنا ہے۔ [صواعق محرقہ، ص: 102]

حضرت امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اسلامی حکومت کے بہت بڑے سردار ہیں۔ [صواعق محرقہ، ص: 105]

امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم لوگ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے کردار کو دیکھتے تو بے ساختہ کہہ اٹھتے بے شک یہی مہدی ہیں۔ [صواعق محرقہ، ص: 106]

امام اہل سنت ابوالحسن الاشعری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو جنگ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر و حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کے مابین ہوئی یہ تاویل اور اجتہاد کی بنیاد پر تھی، حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ہی امام تھے اور یہ تمام کے تمام مجتہدین تھے اور ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی گواہی دی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ تمام اپنے اجتہاد میں حق پر تھے، اسی طرح جو جنگ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین ہوئی اس کا بھی یہی حال ہے، یہ بھی تاویل و اجتہاد کی بنیاد پر ہوئی، اور تمام صحابہ پیشوا ہیں، مامون ہیں، دین میں ان پر کوئی تہمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کی تعریف کی ہے، ہم پر لازم ہے کہ ہم ان تمام کی تعظیم و توقیر کریں، ان سے محبت کریں اور جو ان کی شان میں کمی لائے اس سے برائت اختیار کریں۔ [الابانہ عن اصول الدیانة، ص: 624-626]

امام قاضی ابوبکر باقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: واجب ہے کہ ہم جان لیں کہ جو امور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مابین واقع ہوئے اس سے ہم کفِ لسان کریں، اور ان تمام کے لیے رحمت کی دعا کریں، تمام کی تعریف کریں، اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے رضا، امان، کامیابی اور جنتوں کی دعا کرتے ہیں، اور اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ ان امور میں اصابت پر تھے، اور آپ رضی اللہ عنہ کے لیے ان معاملات میں دو اجر ہیں، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے جو صادر ہوا وہ ان کے اجتہاد کی بنیاد پر تھا ان کے لیے ایک اجر ہے، نہ ان کو فاسق قرار دیا جائے گا اور نہ ہی بدعتی۔ اس پر دلیل یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی“ اور یہ ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ اس پیڑ کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جو ان کے دلوں میں ہے تو ان پر اطمینان اتارا اور انھیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا“، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے جب حاکم اجتہاد کرے اور اس میں اصابت پر ہو تو اس کے لیے دو اجر ہیں، اور جو اجتہاد کرے اور اس میں خطا کرے، تو اس کے لیے اجر ہے۔ جب ہمارے وقت میں حاکم کے لیے اس کے اجتہاد پر دو اجر ہیں تو پھر ان کے اجتہاد پر تمہارا کیا گمان ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ“۔ [الانصاف فی ما یجب اعتقاده، ص: 64]

امام ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ عادل اور صاحبِ فضیلت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں اور ان کا شمار اخیارِ صحابہ میں ہوتا ہے۔ [مرقاة المفاتیح، ج: 11، ص: 272]

امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی فاروقی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مکتوب میں فرماتے ہیں: امام عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ میں افضل کون ہے؟ تو انھوں نے فرمایا: اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی ناک کی غبار عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ سے ہزار بار افضل ہے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں پڑھیں آپ نے ”سمع الله لمن حمده“ فرمایا تو حضرت معاویہ نے ”ربنا لك الحمد“ کہا اس کے بعد اور بڑا فضل و شرف کیا ہوگا؟ [مکتوبات امام ربانی، مکتوب: 58، ج: 1، ص: 32]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!