دستورِ ہند کی تعلیم: جامعۃ المدینہ کے نصاب میں ایک اہم اور دور اندیش اضافہ | مولانا عطاء المصطفیٰ مصباحی

دستورِ ہند کی تعلیم: جامعۃ المدینہ کے نصاب میں ایک اہم اور دور اندیش اضافہ
عنوان: دستورِ ہند کی تعلیم: جامعۃ المدینہ کے نصاب میں ایک اہم اور دور اندیش اضافہ
تحریر: مولانا عطاء المصطفیٰ عطاری مصباحی

جامعۃ المدینہ دعوتِ اسلامی انڈیا کے نصاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں طلبہ کو صرف دینی اور عصری علوم ہی نہیں پڑھائے جاتے، بلکہ ان کی ایسی ہمہ جہت تربیت کی جاتی ہے کہ وہ ایک باکردار عاشقِ رسول، باوقار عالمِ دین، سنتوں کے پیکر، مبلغ اور ذمہ دار شہری کی حیثیت سے معاشرے میں اپنا مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکیں۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر “دستورِ ہند کی تدریس” جیسی اہم کتاب کو نصاب میں شامل کیا گیا، جو مجلسِ جامعۃ المدینہ کی دور اندیشی اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نصابی منصوبہ بندی کی عکاس ہے۔

اس کتاب میں آئینِ ہند کے بنیادی اصول، اہم دفعات، شہری حقوق و فرائض، بنیادی آزادیوں، ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں اور ملکی قانونی نظام کو نہایت آسان، سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کی زبان سادہ اور آسان ہے، اس کے ذریعے مدارسِ دینیہ کے طلبہ بآسانی دستورِ ہند کی بنیادی معلومات اور وطنِ عزیز کے قانونی نظام سے بنیادی واقفیت حاصل کر سکتے ہیں۔

آج کے اس برق رفتار اور پر آشوب دور میں ہر باشعور شہری کے لیے اپنے ملک کے دستور اور قوانین سے بنیادی واقفیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خصوصاً علمائے کرام، ائمہ مساجد، خطباء اور دینی مدارس کے فضلاء کے لیے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ وہ معاشرے کی دینی، سماجی اور خانگی معاملات میں رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اگر ایک عالمِ دین دینی علوم کے ساتھ آئینی شعور اور قانونی آگاہی سے بھی آراستہ ہو تو وہ زیادہ حکمت، بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ قوم و ملت کی رہنمائی کر سکتا ہے۔

آئین کی تعلیم کا مقصد صرف قانونی اصطلاحات سے واقف ہونا نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار شہری کا شعور پیدا کرنا بھی ہے۔ دستورِ ہند سے واقفیت شہری کو اپنے آئینی حقوق اور فرائض کا احساس دلاتی ہے، قانون کی پاسداری کا جذبہ پیدا کرتی ہے، معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے، غلط فہمیوں اور افواہوں سے محفوظ رکھتی ہے اور قوم و ملت کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس کے ذریعے انسان نہ صرف اپنے حقوق کا صحیح استعمال کرنا سیکھتا ہے بلکہ دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا بھی سیکھتا ہے۔

جامعۃ المدینہ کا مقصد ایسے علماء تیار کرنا ہے جو دینِ اسلام کی صحیح نمائندگی کرنے کے ساتھ ملک کی ترقی اور صالح معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ “دستورِ ہند کی تدریس” کی نصاب میں شمولیت اسی فکر کی بہترین مثال ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مجلس جامعۃ المدینہ دعوتِ اسلامی انڈیا اپنے طلبہ کی دینی، فکری، اخلاقی اور سماجی تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے۔

ان شاء اللہ، جامعۃ المدینہ کے اس جامع اور ہمہ جہت نصاب سے استفادہ کرنے والے علماء و فضلاء نہ صرف دینِ اسلام کے اچھے نمائندے ثابت ہوں گے بلکہ آئینی شعور، قانونی آگاہی اور قومی ذمہ داری کے احساس سے آراستہ باکردار شہری کی حیثیت سے بھی ملک و ملت کی بہتر انداز میں خدمت انجام دیں گے۔

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!