| عنوان: | فکر و خیال |
|---|---|
| تحریر: | ماہرِ رضویات پروفیسر مسعود احمد دہلوی |
| پیش کش: | محمد بلال رضا عطاری مدنی،احمدآباد، گجرات |
فکر و خیال محشر بداماں ہیں، آن کی آن میں دنیا ادھر سے ادھر ہو جاتی ہے۔ آبادیاں ویران ہو جاتی ہیں، ویرانے آباد ہو جاتے ہیں۔ پاکستان اسی فکرِ فلک کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے۔ کہتے ہیں کہ عطیۂ الٰہی ہے۔ اس میں کیا شک ہے، مگر فکر کس کا عطیہ ہے؟ اسی کا تو ہے۔ اور اسی فکر کی کجروی عذابِ الٰہی بن کر نمودار ہوئی۔
دائرۂ فکر جتنا وسیع ہوتا ہے، ترقی کی راہیں کھلتی ہیں، اور ترقی کی راہیں کیا کھلتی ہیں، فرد، ملت کا وقار بلند ہوتا ہے، اوجِ ثریا تک پہنچتا ہے۔ اسلام نے انسانی فکر کا دائرہ جتنا وسیع کیا ہے، شاید کسی نے کیا ہو۔ نوعِ انسان پر یہ خدا کا عظیم احسان ہے، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ انسان فطرتاً احسان فراموش واقع ہوا ہے۔
قدم قدم پر انسان بہکتا گیا، قدم قدم پر رہنمائی ہوتی رہی۔ قربان جائیے اس رحیم و کریم کے! ایک فرد نے دوسرے فرد کو نیچا دکھایا، ایک خاندان نے دوسرے خاندان پر فوقیت جتائی، ایک زبان والے نے دوسرے زبان والے کو ہیچ جانا، ایک رنگ والے نے دوسرے رنگ والے سے نفرت کی۔
لیکن قربان جائیے اس پیکرِ قدسی ﷺ کے جس نے کسی کو حقارت سے نہ دیکھا، جس نے سب کی عزت افزائی کی، جس نے سب کو اپنا جانا، اور ببانگِ دہل اعلان فرمایا کہ:
’’آج سے نہ عربی کو عجمی پر فخر ہے، نہ گورے کو کالے پر، سب اللہ کے بندے ہیں، سب مٹی سے بنے ہیں، ہاں، مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ اپنے خدا کی مرضی پر چلا اور حقِ بندگی ادا کیا۔‘‘
یہ آواز کیا گونجی، فکرِ انسانی جو سمٹی سمٹی سی تھی، پھیلنے لگی، اور پھیلتے پھیلتے فضائے بسیط پر چھا گئی۔
