دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ماحولیات کا تحفظ ایک دینی ذمہ داری

ماحولیات کا تحفظ ایک دینی ذمہ داری
عنوان: ماحولیات کا تحفظ ایک دینی ذمہ داری
تحریر: الفیہ بنت سلیمان خان، متعلمہ جامعہ ہاجرہ، کوکن
پیش کش: بزم ضیاے سخن، اتر دیناج پور، بنگال

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ہوا، پانی، درخت، پہاڑ، سمندر اور جانور وغیرہ اللہ کی عطا کردہ وہ نعمتیں ہیں جن کے ذریعے انسانی زندگی برقرار ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ان نعمتوں کی حفاظت کرنا محض ایک اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ:

وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ

ترجمہ: ”اور آسمان کو اس نے بلند کیا اور توازن قائم فرمایا۔“ [الرحمن: 7]

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات اللہ کے بنائے ہوئے ایک نظام و توازن پر قائم ہے اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھے، اسے بگاڑنے کا سبب نہ بنے۔

صفائی اور پاکیزگی: ایمان کا حصہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر شعبے میں صفائی، پاکیزگی اور ستھرائی کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلطُّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ

ترجمہ: ”صفائی نصف ایمان ہے۔“ [صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب فضل الوضوء، الحدیث: 223]

چنانچہ ماحول کی صفائی و حفاظت براہ راست ایمان سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ گندگی پھیلانا، فضول پانی بہانا، دھواں چھوڑ کر فضا کو آلودہ کرنا، نالیوں اور راستوں کو گندہ کرنا وہ افعال ہیں جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔

قدرتی وسائل کا بے جا استعمال: ایک معاشرتی جرم

اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لیے پانی، ہوا، روشنی، معدنیات اور دیگر بے شمار وسائل پیدا کیے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ان نعمتوں کا بے جا استعمال نہ کریں۔ پانی کا ضرورت سے زیادہ بہانا، بجلی کا فضول استعمال، غیر ضروری پلاسٹک کے استعمال سے ماحول کو نقصان پہنچانا یہ سب ایسے اعمال ہیں جن سے معاشرہ، زمین اور ماحول متاثر ہوتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بہتے ہوئے دریا کے کنارے بھی فضول پانی بہانے سے منع فرمایا۔ [مفہوماً ماخوذ از ابن ماجہ، الحدیث: 425]

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دین اسلام کس قدر ماحول دوست اور فطرت نواز ہے۔

درخت لگانا: اسلام کی ماحول دوستی کا نمونہ

اسلام نے درخت لگانے کی غیر معمولی ترغیب دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنْ قَامَتْ عَلَى أَحَدِكُمُ الْقِيَامَةُ، وَفِي يَدِهِ فَسِيلَةٌ، فَلْيَغْرِسْهَا“.

ترجمہ: ”اگر قیامت قائم ہونے لگے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو اسے لگا دو۔“ [مسند امام احمد، مسند أنس بن مالک، الحدیث: 12902]

یہ حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ درخت لگانا نہ صرف ایک سماجی ضرورت ہے بلکہ صدقہ جاریہ بھی ہے۔ درخت انسانوں، جانوروں، پرندوں اور پوری فطرت کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں، ایک درخت سینکڑوں جانوں کے لیے سایہ، پھل، آکسیجن اور پناہ گاہ فراہم کرتا ہے۔

جانوروں اور فطرت سے حسن سلوک

ماحول کی خرابی کا نقصان صرف انسانوں کو نہیں بلکہ جانوروں، پرندوں، چرند و پرند، دریاؤں، سمندروں اور زمین کے ہر ذرے کو ہوتا ہے۔ اسلام نے جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کی خاص تعلیم دی ہے۔ انہیں بھوکا رکھنا، مارنا یا ان کی رہائش گاہوں کو تباہ کرنا بھی ماحولیات کی تباہی کا حصہ ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قَالَ: ”فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ“.

ترجمہ: ”ہر جاندار کی خدمت میں اجر ہے۔“ [صحیح البخاری، باب في الشرب، باب فضل سقي الماء، الحدیث: 2363]

لہٰذا ماحول کو محفوظ رکھنا دراصل اللہ کی پوری مخلوق کا حق ادا کرنا ہے۔

کچرا پھیلانا: ایک معاشرتی و دینی خرابی

کوڑا کرکٹ جگہ جگہ پھینک دینا، گٹروں کو بند کر دینا، راستوں کو گندہ کرنا، نالیوں میں پلاسٹک ڈالنا یہ سب ایسے اعمال ہیں جن سے نہ صرف ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی اذیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستوں سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینے کو ایمان کی شاخوں میں شمار فرمایا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ماحولیات کا تحفظ کوئی ثانوی یا صرف حکومتی مسئلہ نہیں بلکہ ہر مسلمان کا شرعی فریضہ ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ:

  • زمین کو صاف رکھو۔
  • قدرتی وسائل کا غلط استعمال نہ کرو۔
  • درخت لگاؤ۔
  • پانی، بجلی اور دیگر نعمتوں کی قدر کرو۔
  • جانوروں کا حق ادا کرو۔
  • ماحول کو آلودہ ہونے سے بچاؤ!

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس زمین کے صحیح معنی میں امین بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی نعمتوں کی حفاظت کرنے والا بندہ بنائے۔ آمین۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔