دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

ترک عاشقان رسول کا انداز محبت

ترک عاشقان رسول کا انداز محبت
عنوان: ترک عاشقان رسول کا انداز محبت
تحریر: محمد ریحان عطاری مدنی مرادآبادی
پیش کش: دار النعیم آن لائن اکیڈمی، مرادآباد

ترک عاشقان رسول کا انداز عقیدت حقیقتاً دیدہ ور و دل نشیں ہے۔ تاریخ اسلام پر نگاہ دوڑائیے تو دل گواہی دیتا ہے کہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جو لو ترکوں کے دلوں میں صدیوں سے دہک رہی ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ خصوصاً جب سلطنت عثمانیہ کے عہد جلال کا تذکرہ آتا ہے تو ذہن میں مسجد نبوی شریف کی تعمیر و توسیع کا وہ باب کھل جاتا ہے جسے اہل تاریخ آج تک تحسین و تکریم سے یاد کرتے ہیں۔ اس دور میں جس احترام، جس والہانہ انہماک اور جس دلی وارفتگی سے یہ مقدس خدمت انجام دی گئی، تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔

ترکیہ کے عاشقان رسول کے ہاں ایک نہایت لطیف اور محبت انگیز انداز قدیم زمانوں سے چلا آ رہا ہے۔ اہل حجاز تو خیر، ترکوں میں بھی ایسے اصحاب محبت ہمیشہ موجود رہے ہیں کہ جب محفل میں کوئی مبارک نام ”محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم“ زبان پر لاتا ہے تو سامعین میں سے اکثر اہل عشق فوراً اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیتے ہیں، گویا دل کی دھڑکن کو ادب کے دامن میں سمیٹ کر بارگاہ مصطفوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف پیش کر رہے ہوں۔ یہ کیفیت بظاہر ایک سادہ سا امر دکھائی دیتی ہے، مگر اس میں چھپی وارفتگی اس شمع عشق کا پتہ دیتی ہے جو صدیوں سے ترک دلوں میں فروزاں ہے۔

یہ انداز محبت ایسا روح پرور ہے کہ دیکھنے والوں کے دل نرم پڑ جاتے ہیں، ایمان کی کلیاں انگڑائی لیتی ہیں اور عشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مہک فضا میں پھیل جاتی ہے۔ ترکوں کا یہ اسلوب اہل محبت کے لیے باعث شوق بھی ہے اور باعث شفا بھی۔

الحمد للہ! ہمارے دور کے عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں بھی اس انداز کو محبت سے اپنانے والوں کی تعداد کم نہیں۔ بانی دعوت اسلامی، امیر اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ چوں کہ خود سچے اور صاحب درد عشق رسول ہیں، جب انہیں ترک برادران کے اس لطیف انداز کا علم ہوا تو آپ نے بھی اسے نہایت وقار اور محبت سے اختیار فرمایا۔ پھر یوں ہوا کہ آپ کے چاہنے والے بے شمار اسلامی بھائی بھی اسی عاشقانہ انداز کو اختیار کرنے لگے اور محافل میں ذکر خیر رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دوران سینے پر ہاتھ رکھنے کا یہ حسین عمل ایمان کو تازگی بخشنے لگا۔

ہمارے معاشرے میں بھی کئی لوگ مصافحہ کے بعد اپنا ہاتھ سینے پر رکھتے ہیں، جو ایک شائستہ، مودب اور محبت بھرا عمل ہے اور شریعت مطہرہ میں اس میں کوئی قباحت نہیں۔ ایسے لطیف اور مہذب انداز معاشرت میں حسن پیدا کرتے ہیں اور دلوں میں احترام و محبت کے چراغ روشن کرتے ہیں۔

یوں ترک عاشقان رسول کا یہ طرز محبت نہ صرف ایک خوبصورت روایت عشق کا آئینہ دار ہے بلکہ ایمان افروز جذبات کا سرچشمہ بھی ہے جو دیکھنے والے کے دل میں نور بھر دیتا ہے اور زبان سے بے اختیار درود و سلام کے نغمے پھوٹنے لگتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں۔