| عنوان: | حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کے تجدیدی کارنامے |
|---|---|
| تحریر: | محمد مشرف علی قادری مجددی تیغی، مظفر پور، بہار |
شیخ مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ سے ویسے تو بہت کارنامے انجام پذیر ہوئے لیکن اس میں سب سے اہم کارنامہ ”دین الٰہی کا خاتمہ“ ہے جس کا بانی بادشاہ اکبر تھا اور زبردستی لوگوں کو اس میں شامل کرتا تھا، جو لوگ انکار کرتے ان کو سزا دی جاتی تھی۔ اس دور فتن میں حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ نے عظیم تجدیدی کارنامہ انجام دے کر پورے ہندوستان والوں پر احسان عظیم فرمایا اور دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہندوستان میں دوبارہ زندہ فرمایا، شریعت اور سنت کی مرکزیت دوبارہ زندہ کی۔
بلا شبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ نے ہندوستان میں دین اسلام کو پھیلایا اسی طرح حضرت مجدد الف ثانی نے ہندوستان میں دین اسلام کو بچایا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں پر آپ کا احسان عظیم ہے۔ اور اکبر کے زمانے میں ہندوستان افغانستان وغیرہ تک پھیلا ہوا تھا۔
حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ نے تن تنہا دہائیوں سے زائد فتنوں کا رد کیا چند فتنوں کا ذکر کرتا چلوں۔ انہوں نے اکثر فتنوں کو جڑ سے ختم کر دیا اور چند فتنوں کو کمزور و لاغر کر کے دین و سنیت کو دوبارہ زندہ فرمایا۔
- دین الٰہی
- مسلمانوں میں بت پرستی
- وحدت الوجود کی غلط تعبیر
- ختم نبوت کے متعلق غلط عقائد
- روافض کے باطل نظریات
- ہندوانہ رسومات
- منکرین حدیث
- دہریت
- الحاد
- آتش پرستی
- فتنہ گستاخ صحابہ
حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کے دور پر فتن میں نکلنے والے فتنے میں کیا کیا چیز تھی ملاحظہ فرمائیں:
- خالق و مخلوق میں کوئی فرق نہیں۔
- دین الٰہی کوئی عام فتنہ نہ تھا بلکہ سب سے خطرناک فتنہ تھا۔
- دین الٰہی کے ذریعے شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی نفی کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔
- نماز، روزہ، حج کی تحقیر۔
- بادشاہ کو روحانی پیشوا بنانا۔
- شراب، جوا، سود، حرام کاموں کی کھلی اجازت۔
- علما کی توہین۔
- اسلامی عدالتوں کا خاتمہ۔
- اکبر بادشاہ نے کہا: سب مذاہب سچ ہیں، اسلام کو کوئی فوقیت نہیں۔
- بعض صوفیا کے گروہ کا عقیدہ: شریعت چھوڑ کر صرف باطنی مشقتوں کو کافی سمجھتے تھے، سوشل میل جول کو ترک کرتے تھے، مریدوں کا مالی استحصال کرتے تھے۔
- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں گستاخی کی جا رہی تھی۔
- خلافت راشدہ کی توہین۔
- ہندو رسومات مسلمانوں میں شامل ہو رہی تھیں۔
- قبروں کے غلط عقیدے۔
- نکاح، میلوں اور رسموں میں بدعات۔
اکبر بادشاہ کا ظلم
اسلامی عبادات سے حکماً منع کرتا، حج کے لیے جانا غیر ضروری قرار دیا گیا، اسلامی مذہبی رسومات پر پابندی لگاتا، اسلامی نام تبدیل کر دیتا، مساجد کو اصطبل میں تبدیل کر دیا گیا تھا، داڑھی منڈوانا جائز قرار دیا گیا، سور اور چیتے کا گوشت حلال، مخالف علما اور صوفیا کو شہید کر دیا جاتا۔ اکبر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ ظالم نے آپ کا اسم گرامی کلمہ طیبہ سے نکال کر اپنا نام فٹ کرنے کی مذموم کوشش بھی کی، عربی زبان کا سیکھنا پڑھنا ناجائز قرار دیتا، عورتوں کے بے پردہ باہر آنے کی حوصلہ افزائی، تعلیمات قرآنی کو پامال کرنا فرض عین سمجھا جاتا، ہر طرف گمراہی ہی گمراہی پھیل رہی تھی، فسق و فجور عام، لوگ قرآن مجید کے منکر ہوئے، جزیہ موقوف ہوا، مسلمان اذیت میں مبتلا ہوئے، بادشاہی عبادت خانہ بنایا گیا جس میں ہر مذاہب کے لوگ شامل ہوتے۔
اکبر کا علمائے سو سے واسطہ پڑا، بے دینی کا آغاز ہوا، وحدت ادیان کا تصور مضبوط ہوا، گائے کا گوشت حرام، گوبر پاک سمجھا گیا۔ گائے کشی میں نیک لوگ شہید کیے گئے، آتش کدہ بنایا گیا، علمائے حق نے دربار میں جانا چھوڑ دیا، کہا جانے لگا فرعون ایمان کے ساتھ گیا، اکبر انسان کامل اور خلیفہ وقت ہے۔ بادشاہ کے لیے سجدہ عبادت، سجدہ کرنا فرض عین ہے۔ اکبر کو دیکھنا کعبہ کو دیکھنا ہے، اکبر ہی قبلہ حاجات ہے۔ قرآن کو مخلوق کہا گیا، وحی امر محال ہے عذاب و ثواب ناممکن ہے، عملاً معناً اکبر نے نبوت کا دعویٰ کیا، دین اکبری سرکاری طور پر نافذ ہوا۔ میت دریا میں ڈال دی جائے جب گناہ دھل جائیں نکال کر نذر آتش کی جائے، کعبہ کی طرف پاؤں کر کے سونا لازمی تھا، محمد اور احمد نام رکھنا ممنوع کر دیا گیا، مساجد کی تعمیر بند اور اذان ختم کروا دی، نماز روزے حج پر پابندی لگائی گئی، مرد کے لیے سونا پہننا جائز، محل میں کتے اور سور پالے گئے، غلطیوں سے مبرا اور اکبر اصلی مجتہد اور علما و فقہا سے بلند قرار پایا۔ ابو الفضل اور فیضی نے محضر نامہ تیار کیا تھا جس پر تمام علما کے جبراً دستخط کروائے تھے اس کی رو سے اکبر مختار کل تسلیم کیا گیا، نظریہ الفی قائم ہوا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدت ایک ہزار سال تھی ختم ہو چکی اب اکبر ہی مجدد ہے۔
دین الٰہی کا خاتمہ
دین الٰہی ایک نیا مذہب جس کی بنیاد 990 ہجری / 1582ء میں اکبر بادشاہ کے حکم سے رکھی گئی۔ یہ نظریہ توحید کے خلاف تھا در حقیقت یہ جینی، ہندو اور بدھ وغیرہ ادیان باطلہ کا معجون مرکب تھا۔ شیخ مبارک ناگوری، ابو الفضل اور شیخ تاج الدین وغیرہ نے آیات و احادیث کی من گھڑت تاویلیں کیں۔
- ملا عبد اللہ سلطان پوری نے حج کے اسقاط کا فتویٰ دیا۔
- ”لا الہ الا اللہ اکبر خلیفۃ اللہ“ کلمہ پڑھنے کا حکم دیا گیا۔
- ملا سعید نے داڑھیاں منڈوانے کے سلسلہ میں ایک حدیث گڑھی۔
- بادشاہ کے لیے سجدہ تعظیمی کو جائز قرار دیا گیا۔
- چار وقت آفتاب کی پرستش لازم قرار پائی۔
- خنزیر کے گوشت کو حلال ٹھہرایا گیا۔
- مساجد کو مندروں میں تبدیل کر دیا گیا۔
- روزہ رکھنے کی ممانعت قرار دی گئی۔
- شراب کو حلال اور پاک قرار دیا گیا۔
- ماتھے پر قشقہ لگانا، گلے میں زنار پہننا اور غسل جنابت نہ کرنا دین الٰہی کا شعار قرار دیا گیا۔
[مجدد الف ثانی، ص: 46 تا 70، از: پروفیسر مسعود احمد صاحب]
آپ کی مسلسل جد و جہد کی وجہ سے ”دین الٰہی کا خاتمہ“ ہوا اس دوران آپ کو قید و بند کی مشقتیں وغیرہ جھیلنی پڑیں اور آپ نے مکار صوفیوں کا پردہ چاک فرمایا، آپ کا شمار دسویں صدی کے عظیم مجدد اور مجدد اعظم میں ہوتا ہے۔
- آپ نے شاہی دربار میں سجدہ تحیہ موقوف کیا۔
- ذبیحہ گاؤ پر سے پابندی ختم کر دی۔
- خلاف شرع احکام منسوخ فرما دیے۔
فضل سے اپنے تو میرا غنچۂ مقصد کھلا
شہ مجدد الف ثانی رہنما کے واسطے
گلشن دیں کا محافظ مرد حق پھر بھیج دے
شیخ احمد پیشوائے اولیا کے واسطے
